نوجوان طلبہ میں شجرکاری کے جذبہ کو پروان چڑھا کر ہم ایک سرسبز کراچی اور پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد عراقی

نوجوان طلبہ میں شجرکاری کے جذبہ کو پروان چڑھا کر ہم ایک سرسبز کراچی اور پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد عراقی
85 سے 90 فیصد پودے پانی کی عدم دستیابی اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہوجاتے ہیں۔ڈاکٹر فیاض عالم
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ شجر کاری صدقہ جاریہ اور درخت بیش قیمت اثاثہ ہیں، وسیع پیمانے پر شجرکاری اور اس کی حفاظت،دیکھ بھال ہماری اجتماعی قومی ذمہ داری ہے۔ نوجوان طلبہ میں شجرکاری کے جذبہ کو پروان چڑھا کر ہم ایک سرسبز کراچی اور پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں۔شجرکاری صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہم سب کی ایک سماجی ذمہ داری ہے اور ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیئے یہ شہر اور ملک ہم سب کا ہے اور اس کو سرسبزوشاداب بنانے کے لئے ہم سب کو اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔جامعہ کراچی میں باقاعد گی کے ساتھ نہ صرف شجرکاری مہم کا اہتمام کیاجاتاہے بلکہ لگائے جانے والے پودوں کی پوری طرح سے دیکھ بھال اور حفاظت کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے جس کا منہ بولتا ثبوت جامعہ کراچی کا سرسبز کیمپس ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹر فارپلانٹ کنزرویشن بوٹینک گارڈن جامعہ کراچی کے زیر اہتمام اور دعافاؤنڈیشن کے اشتراک سے 2021 ء کی پہلی شجرکاری مہم بعنوان: ”شجرکاری اور ماحولیاتی تحفظ“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شجرکاری مہم کا افتتاح شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے پودالگاکرکیا۔ اس موقع پر رجسٹرار جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر عبدالوحید،رئیسہ کلیہ فنون وسماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ اور دیگر بھی موجودتھے۔

ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ ہم ہر سال شجر کاری مہم چلاتے ہیں اور بہت سارے پودے بھی لگاتے ہیں لیکن اگر ان پودوں کو لگانے کے بعد اس کی دیکھ بھال نہیں کی جائے گی تو ہم صرف شجرکاری ہی کرتے رہیں گے ان پودوں کو تناور درختوں کی صورت میں دیکھنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں کرسکتے۔ان پودوں کو تناوردرختوں کی شکل میں دیکھنے کے لئے ہم سب کو اپنا اپنا کردار اداکرنے اوراس حوالے سے آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر دعافاؤنڈیشن کے جنرل سیکریٹر ی ڈاکٹر فیاض عالم نے کہا کہ ہم ہر سال شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور کثیر تعداد میں پودے بھی لگائے جاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کی دیکھ بھال نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے 85 سے 90 فیصد پودے پانی کی عدم دستیابی اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہوجاتے ہیں اور شجرکاری مہم کا مقصد فوت ہوجاتاہے۔شجرکاری مہم خوش آئند ہے لیکن اس مہم میں حصہ لینے والوں کو چاہیئے کہ وہ پودے لگانے کے بعد ان کی دیکھ بھال کو بھی یقینی بنائے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ڈاکٹر فیاض عالم نے کہا کہ 35 ایکٹر پر محیط جامعہ کراچی کے بوٹینک گارڈن کو ڈریپ ایریگیشن کے ذریعے اور بہتر اور فعال بنانے کی کوشش کی جائے گی جس کے بعد نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی یہ ایک منفرد مقام حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم جامعہ کراچی کے بوٹینک گارڈن کو 340 مختلف اقسام کے پودے فراہم کررہے ہیں جس میں زیتون،لیچی،آم،امرود،ناریل،انار،شریفہ،بادام،انجیر،لوکاٹ،املتاس،بیکین،کچنار،جیک فروٹ،گل مہر،سکھ چین،طوطاپری،سنبل اور دیگر شامل ہیں۔