ماہرہ خان اور ہمایوں سعید کی جوڑی کی کامیابی کا راز صرف ان کے خوبصورت چہروں میں نہیں، بلکہ ان کے اسٹیج اور اسکرین پر جادو بکھیرنے کی صلاحیت میں پنہاں ہے۔ دونوں اپنے فن میں پختہ کاریگر ہیں۔ ماہرہ اپنے کرداروں کو وہ سچائی اور جذباتی گہرائی عطا کرتی ہیں جو ہر عورت کے دل کی دھڑکن بن جاتی ہے، جبکہ ہمایوں سعید اپنے مخصوص انداز اور پر وقار اداکاری سے ہر مرد کی شخصیت کا عکس پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی اسکرین کیمسٹری اتنی طاقتور ہے کہ وہ ناظرین کو فوری طور پر اپنی کہانی میں کھینچ لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ناظرین اس جوڑی کو ایک ساتھ دیکھنے کے مشتاق رہتے ہیں اور ان کی شراکت داری پاکستانی انڈسٹری میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتی ہے

ہمایوں سعید کی ایور گرین اپیل کا راز صرف ان کے جمالیاتی حسن یا اداکاری کے ہنر تک محدود نہیں۔ یہ دراصل ان کی ذاتی شرافت، پراعتماد شخصیت اور پیشہ ورانہ دیانتداری کا مرکب ہے۔ وہ نہ صرف اسکرین پر بلکہ اسکرین سے باہر بھی ایک مثالی انسان کے طور پر نظر آتے ہیں۔

پاکستانی ڈرامہ اور فلم انڈسٹری کا وہ روشن ستارہ جس کی چمک وقت گزرنے کے ساتھ ماند پڑنے کے بجائے اور بھی تیز ہوتی گئی ہے۔ وہ ایک ایسا نام ہے جو اپنے پہلے ڈرامے “دیر سے آنا” کے زمانے سے لے کر آج کے اسمارٹ فون اسکرینز تک ہر دل عزیز اور ہر آنکھ کا نور بنا ہوا ہے۔ ہمایوں سعید کی کہانی محض ایک اداکار کی کامیابی کی داستان نہیں، بلکہ خوبصورتی، شرافت، مستقل مزاجی اور ہنرمندی کی وہ لازوال داستان ہے جس نے اسے “ایور گرین” کا درجہ دلایا ہے۔
کئی دہائیوں پر محیط اس کے کیریئر پر نظر ڈالیں تو ایک حیرت انگیز یکسانی اور معیار نظر آتا ہے۔ وہ کبھی بھی یک رخے کرداروں میں محدود نہیں رہے۔ انہوں نے رومانوی ہیرو کے روپ میں دلوں کو موہ لیا تو “دیوارِ شب” اور “من کی آواز پرنسپل” جیسے ڈراموں میں ایک مضبوط اور سنجیدہ کردار ادا کیا۔ فلم “بنجان” میں ان کا کردار ان کی اداکاری کی گہرائی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ یہی وہ لچک اور صلاحیت ہے جس نے انہیں ہر دور میں نئے ناظرین کے لیے متعارف اور پرانے چاہنے والوں کے لیے پرکشش بنائے رکھا























