کیس نمبر 09 …….ڈرامے کے کردار سرپرائز دیں گے؟

آغاز ایک پراسرار اور دھیمی تھیم میوزک کے ساتھ ہوتا ہے۔ سین ایک پرانی عمارت کے سامنے ہے جہاں پولیس کی گاڑیاں کھڑی ہیں۔ انسپکٹر فیضان (تقریباً 40 سال) اپنی ٹیم کے ساتھ جرم کے مقام پر پہنچتا ہے۔)

سین: 1
مقام: جرم کا مقام، ایک پرانی کوٹھی
فیضان: (اپنے سب انسپکٹر عمران سے مخاطب ہوتے ہوئے) کیا صورتحال ہے عمران؟ یہ کیس نمبر 09 میرے حوالے کیوں کیا گیا ہے؟
عمران: سر، یہ معاملہ عام نہیں لگ رہا۔ متاثرہ شخصیت بہت معزز ہے۔ ڈاکٹر نعمان سلطان… شہر کے نامور سرجن۔ انہیں ان کی کوٹھی میں مردہ پایا گیا ہے۔
فیضان: (غور سے کوٹھی کو دیکھتے ہوئے) قتل؟
عمران: ابتدائی طور پر یہی لگ رہا ہے سر۔ کوئی زبردستی کے آثار نہیں، لیکن ڈاکٹر نعمان کے چہرے پر ایک عجیب سی گھبراہٹ تھی… جیسے انہوں نے موت سے پہلے کچھ دیکھا ہو۔

(فیضان ڈاکٹر نعمان کے بیڈروم میں جاتا ہے۔ وہاں فرش پر ایک سفید چاک سے لاش کا خاکہ بنا ہوا ہے۔ لاش کو اٹھا لیا گیا ہے۔ فیضان ایک کونے میں پڑا ایک پرانا، ہاتھ سے لکھا ہوا ڈائری کا مسودہ دیکھتا ہے۔ وہ اسے احتیاط سے اٹھاتا ہے۔)

سین: 2
مقام: فیضان کا دفتر
(فیضان ڈائری کے صفحات پلٹ رہا ہے۔ ڈائری میں “زینب” کا نام بار بار آ رہا ہے۔ اچانک اس کی نظر ایک صفحے پر پڑتی ہے جہاں لکھا ہے: “وہ مجھے معاف نہیں کرے گی… کیس نمبر 09… یہ سب ختم کر دے گا۔”)

فیضان: (اپنے آپ سے) یہ “کیس نمبر 09” کیا ہے؟ اور یہ زینب کون ہے؟
(وہ اپنے کمپیوٹر پر پرانے ریکارڈز چیک کرتا ہے۔ اچانک اس کی آنکھیں چوڑی ہو جاتی ہیں۔)
فیضان: (حیران ہو کر) نہیں… یہ ممکن نہیں!

(اسکرین پر دس سال پرانا ایک نیوز آرٹیکل نظر آتا ہے جس کا ہیڈلائن ہے: “ڈاکٹر نعمان کے آپریشن تھیٹر میں مریض کی موت، معاملہ کیس نمبر 09 کے تحت درج۔”) اس کیس میں ڈاکٹر نعمان پر طبی غفلت کا الزام تھا، لیکن وہ بری ہو گئے تھے۔ مرنے والی مریض کا نام تھا: زینب۔

سین: 3
مقام: زینب کا گھر (دس سال پہلے کا فلیش بیک)
(ایک نوجوان لڑکی، زینب، جو بستر پر بیمار ہے۔ اس کی ماں، ثناء، اس کا ہاتھ تھامے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر نعمان ان کا معالج ہے۔)

ثناء: (گھبراہٹ سے) ڈاکٹر صاحب، براہ کرم میری بیٹی کو بچا لیں۔
ڈاکٹر نعمان: (پراعتماد) فکر مت کریں ثناء صاحبہ۔ زینب کا آپریشن بالکل سادہ ہے۔ میں خود کروں گا۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔

(فلیش بیک ختم ہوتا ہے۔ اب فیضان اور عمران ثناء کے سامنے موجود ہیں، جو اب بوڑھی ہو چکی ہے اور ایک چھوٹے سے فلاحی اسکول میں پڑھاتی ہے۔)

فیضان: ثناء صاحبہ، ہمیں افسوس ہے کہ آپ کی بیٹی کے معاملے کو دوبارہ کھولنا پڑ رہا ہے۔
ثناء: (پر سکون، مگر آنکھوں میں گہرا دکھ) وہ معاملہ تو بند ہو چکا تھا انسپکٹر صاحب۔ عدالت نے فیصلہ سنا دیا تھا۔
عمران: ڈاکٹر نعمان کو مردہ پایا گیا ہے۔
(ثناء کے چہرے پر کوئی خاص ردعمل نظر نہیں آتا۔)
ثناء: موت سب کے لیے ہے۔ میں نے تو اپنی موت اپنی بیٹی کو کھوتے ہوئے دیکھ لی تھی۔

سین: 4
مقام: پولیس اسٹیشن
(فیضان کیس کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا کہ ثناء کا چہرہ اتنا پر سکون کیوں تھا۔ اچانک اسے ڈائری کا ایک اور صفحہ یاد آتا ہے جہاں ڈاکٹر نعمان نے لکھا تھا: “میں نے غلطی کی تھی… میں نے اپنی شہرت بچانے کے لیے سچ چھپا لیا تھا۔ زینب کی موت میری غلطی تھی۔”)

فیضان: (عمران سے) ہم نے غلط سمت دیکھی عمران۔ یہ قتل نہیں تھا۔
عمران: کیا مطلب سر؟
فیضان: ڈاکٹر نعمان اپنے ہی احساسِ جرم سے مارے گئے۔ انہوں نے خودکشی کی ہے۔
عمران: لیکن سر، خودکشی کا نوٹ؟ کوئی ثبوت؟
فیضان: ثبوت ان کی ڈائری ہے۔ وہ دن رات اپنے جرم کے بوجھ تلے دبے جا رہے تھے۔ “کیس نمبر 09” ان کے ضمیر پر永远 کا داغ تھا۔ انہوں نے لکھا تھا کہ “یہ سب ختم کر دے گا”۔ ان کا مطلب تھا کہ ان کا احساس جرم انہیں ختم کر دے گا۔ اور اس نے کر دیا۔

(فیضان کو پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر نعمان نے اپنی موت سے پہلے ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے ثناء سے معافی مانگی تھی اور اپنی تمام جائیداد ثناء کے چلائے جانے والے اس فلاحی اسکول کے نام کر دی تھی۔)

سین: 5
مقام: ثناء کا اسکول
(فیضان خط لے کر ثناء کے پاس پہنچتا ہے۔ ثناء خط پڑھتی ہے اور پہلی بار آنسو بہاتی ہے۔)

ثناء: (روتے ہوئے) میں نے اسے معاف کر دیا تھا انسپکٹر صاحب۔ برسوں پہلے۔ میں جانتی تھی کہ وہ اچھا انسان تھا، بس ایک غلطی ہو گئی۔ لیکن اس کا اپنا ضمیر اسے معاف نہیں کر رہا تھا۔
فیضان: (نرمی سے) بعض اوقات دوسروں کو معاف کرنا آسان ہوتا ہے، اپنے آپ کو معاف کرنا مشکل ہوتا ہے۔ “کیس نمبر 09” دراصل ان کے اپنے ضمیر کا مقدمہ تھا، جس میں وہ ہار گئے۔

(آخری سین: ثناء اپنے اسکول کے بچوں کے درمیان کھڑی ہے۔ وہ مسکراتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں زینب کے لیے پیار اور ماضی کے زخموں سے آزادی کا احساس ہے۔ ڈرامہ ایک امید پر ختم ہوتا ہے کہ سچائی، چاہے کتنی ہی دیر سے سامنے آئے، ایک قسم کی تسلی اور اختتام لاتی ہے