“بریانی” کا نام سنتے ہی ذہن میں خوشبو دار چاولوں اور مسالوں کا تصور ابھرتا ہے، لیکن یہ ڈراما محض کھانے کی چیز نہیں، بلکہ جذبوں کی وہ پکی ہوئی ڈش ہے جس میں محبت کی مٹھاس، نفرت کی تیزی، مفاد پرستی کی چربی اور انا کا تیکھا پن سب کچھ شامل ہے۔ مصنفہ ثناء عائشہ نے ایک ایسی کہانی تخلیق کی ہے جو روایتی رومانس سے ہٹ کر سماج کے ان گہرے زخموں کو چھیڑتی ہے جو طبقہ ورانہ تفریق، دولت کی ہوس اور خاندانی رقابتوں کی شکل میں موجود ہیں۔ ہدایت کاری عمیر بٹ نے اس کہانی کو ایسے سین کیا ہے کہ ہر منظر اپنے اندر ایک الگ جہاں سموئے ہوئے ہے۔ مرکزی کرداروں میں عزان سامر (امین)، صبا فیصل (رابعہ) اور محمد جتھا (شفیق) کی پراثر اداکاری نے تو ڈرامے میں چار چاند لگا دیے ہیں۔
کہانی کا خلاصہ: ایک پیچیدہ رشتوں کی گیندڑی
“بریانی” کی کہانی دراصل دو متضاد خاندانوں، اعجاز بیگ کے شاہانہ خاندان اور ان کے باورچی قاسم کے غریب گھرانے کے گرد گھومتی ہے۔ دونوں خاندانوں کے درمیان تعلقات محض آقا اور نوکر کے ہیں، لیکن ان کی اولادیں، اعجاز بیگ کا بیٹا امین (عزان سامر) اور قاسم کی بیٹی رابعہ (صبا فیصل)، بچپن سے ہی ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے پلے بڑھے ہیں۔ ان کی دوستی وقت کے ساتھ ساتھ ایک گہری، بے ساختہ محبت میں بدل جاتی ہے۔ یہ وہ محبت ہے جو طبقے اور سماج کی دیواریں توڑ کر ابھرتی ہے۔
لیکن کہانی اس وقت ایک نیا موڑ لیتی ہے جب اعجاز بیگ اپنے کاروباری مفادات کے لیے امین کی شادی ایک امیر گھرانے کی لڑکی مائرہ سے طے کر دیتے ہیں۔ دل ٹوٹا امین اپنی محبت کو بھلا کر مائرہ سے شادی کر لیتا ہے، جبکہ رابعہ کے دل پر اس قدر گہرا زخم لگتا ہے کہ وہ اپنے جذبات کو دل میں دبا کر ایک مضبوط لڑکی بننے کی کوشش کرتی ہے۔ قسمت کا کھیل دیکھیے کہ مائرہ کی موت کے بعد امین دوبارہ رابعہ کے سامنے آجاتا ہے اور اس سے شادی کی پیشکش کرتا ہے۔ رابعہ، جو ابھی تک امین سے محبت کرتی ہے، اس کی بات مان لیتی ہے۔
یہیں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ شادی کے بعد کا سفر کسی جنگ سے کم نہیں۔ امین کی ماں، زینب بیگم (عذرا صاحب)، رابعہ کو کبھی اپنی بہو تسلیم نہیں کرتیں۔ وہ اسے ہر قدم پر ذلیل و رسوا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ دوسری طرف، امین کا چھوٹا بھائی شفیق (محمد جتھا) ہے، جو بظاہر بہت شریف اور ملنسار ہے لیکن اس کے دل میں امین کے لیے حسد اور نفرت کی آگ سلگ رہی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کاروبار اور وراثت پر اس کی مکمل اجارہ داری ہو۔ شفیق رابعہ کی خوبصورتی اور مضبوط شخصیت سے متاثر بھی ہے، جس کے جذبات میں ایک پراسرار کشمکش پیدا ہوتی ہے۔
سسپنس اور تنازعات کے بنیادی پہلو:

================
شفیق کا اصل چہرہ: ڈرامے کا سب سے بڑا سسپنس شفیق کا کردار ہے۔ کیا وہ واقعی ایک بھولا بھالا بھائی ہے یا اس کے پیچھے کوئی خطرناک عزائم ہیں؟ یہ واضح ہو چکا ہے کہ وہ امین کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کرنے پر تیار ہے۔ آنے والے اقساط میں اس کے منفی کردار میں اور گہرائی آئے گی۔
امین کی محبت میں خلش: امین رابعہ سے محبت کرتا ہے، لیکن کیا اس کی یہ محبت مائرہ کے مقابلے میں کم تر ہے؟ کیا وہ رابعہ کو وہ مقام دے پائے گا جس کی وہ مستحق ہے؟ اس کے اندر کے تضاد نے ناظرین کو سوچ میں ڈال رکھا ہے۔
زینب بیگم کی مخالفت: زینب بیگم کی نفرت کب تک رابعہ اور امین کے درمیان حائل رہے گی؟ کیا کوئی ایسا واقعہ پیش آئے گا جو اس کا دل بدل دے؟ یا پھر وہ اپنی ضد پر اڑی رہے گی؟
رابعہ کی خودداری کی جنگ: رابعہ کا کردار کسی ہیروئن سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ غربت سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس میں خودداری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ وہ کس طرح اس شاہانہ گھر میں اپنا مقام بناتی ہے اور اپنی انا کی لڑائی لڑتی ہے، یہ ڈرامے کا مرکزی نکتہ ہے۔
ناظرین کی دلچسپی کے اسباب:
“بریانی” نے اپنے ناظرین کو کیوں اپنا گرویدہ بنا لیا ہے؟ اس کی چند وجوہات درج ذیل ہیں:
غیر روایتی ہیروئن: رابعہ کوئی رو رو کر اپنے حالات بدلنے والی لڑکی نہیں۔ وہ چپ چاپ مصیبتوں کا مقابلہ کرتی ہے اور اپنی ذہانت سے مسائل کا حل نکالتی ہے۔ یہ کردار ناظرین، خاص طور پر خواتین میں بہت مقبول ہوا ہے۔
کمپلیکس کردار: امین اور شفیق کے کردار یک طرفہ نہیں ہیں۔ ان کے اندر نیکی اور بدی دونوں موجود ہیں، جو انہیں حقیقی بناتا ہے۔ ناظرین ان کے جذباتی اتار چڑھاؤ سے جڑت محسوس کرتے ہیں۔
سماجی مسئلہ: ڈراما طبقہ ورانہ تفریق جیسے اہم مسئلے کو اٹھاتا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ کس طرح دولت اور غربت کی خلیج محبت کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہے۔
ٹوئسٹ اینڈ ٹرن: ہر قسط کے آخر پر ایسا موڑ آتا ہے کہ ناظر اگلی قسط کا بے چینی سے انتظار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
معیاری اداکاری: ہر اداکار نے اپنے کردار کو جاندار انداز میں پیش کیا ہے۔ عزان سامر کے جذباتی اظہار، صبا فیصل کی مضبوط باڈی لینگویج اور محمد جتھا کے پراسرار تاثرات نے ڈرامے کو ایک نئی زندگی بخشی ہے۔

==============
آنے والے اقساط کے ممکنہ موڑ اور پیشین گوئیاں (اپکمنگز ٹوئسٹس):
اب تک کی کہانی کے تناظر میں، آنے والے اقساط میں درج ذیل انقلابی موڑوں کے امکانات ہیں:
شفیق کا خطرناک کھیل: شفیق کی چالاکیاں اور زیادہ خطرناک ہو جائیں گی۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کاروبار میں کسی بڑے فراڈ کے ذریعے امین کو مکمل طور پر باہر کرنے کی کوشش کرے۔ وہ رابعہ اور امین کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے کوئی سازش بھی رچا سکتا ہے۔
رابعہ کی حاملہ ہونے کا امکان: یہ ایک اہم موڑ ہو سکتا ہے۔ اگر رابعہ حاملہ ہو جاتی ہے تو زینب بیگم کا رویہ کس طرح بدلے گا؟ کیا وہ اپنے ہونے والے پوتے یا پوتی کی خاطر رابعہ کو قبول کر لے گی؟ یا پھر شفیق اس حمل کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرے گا؟
مائرہ کی موت کا راز: مائرہ کی موت پر ابھی تک پردہ پڑا ہوا ہے۔ کیا اس کی موت محض ایک حادثہ تھی یا اس کے پیچھے کوئی سازش کارفرما ہے؟ اگر کوئی راز کھلتا ہے تو وہ پورے خاندان کے تعلقات کو ہلا کر رکھ دے گا۔ ممکنہ طور پر شفیق کا اس میں ہاتھ ہو سکتا ہے۔
========


==========
امین کی بیداری: امین فی الحال شفیق کی چالاکیوں سے بے خبر ہے۔ لیکن جب اسے شفیق کے اصل عزائم کا پتہ چلے گا، تو وہ کس طرح رد عمل دے گا؟ بھائیوں کی اس جنگ میں رابعہ کس کا ساتھ دے گی؟
قاسم کا کردار: رابعہ کے والد قاسم (جاوید شیخ) اب تک ایک پیارے باپ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اعجاز بیگ کے سامنے اپنی بیٹی کی توہین برداشت نہ کر سکیں اور دونوں خاندانوں کے درمیان کشمکش اور بڑھ جائے۔
نئی مخالف کا ظہور: ممکن ہے کہ کوئی نیا کردار، شاید مائرہ کا کوئی رشتہ دار، ڈرامے میں داخل ہو اور امین اور رابعہ کی زندگی میں نئی مصیبتوں کا باعث بنے۔

اختتامیہ:
“بریانی” صرف ایک ڈراما نہیں، بلکہ ایک ایسی سوچ ہے جو ہمارے معاشرے کے دکھوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ ڈراما سکھاتا ہے کہ محبت ہر طبقے اور ہر روایت سے بالاتر ہوتی ہے، لیکن اس کے راستے میں آنے والی رکاوٹیں کتنی خطرناک ہو سکتی ہیں۔ مصنفہ اور ہدایت کار نے ناظرین کے سامنے ایک ایسی پہیلی رکھی ہے جسے حل ہونا باقی ہے۔ کرداروں کی گہرائی، مکالموں کی اثر انگیزی اور واقعات کی بروقت پیشکاری نے “بریانی” کو موجودہ دور کے بہترین ڈراموں میں سے ایک بنا دیا ہے۔ آنے والے اقساط میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا رابعہ اور امین کی محبت سماج کی انا اور خاندانی دشمنیوں پر غالب آتی ہے یا پھر شفیق جیسے کردار ان کے درمیان ہمیشہ کے لیے خلیج پیدا کر دیتے ہیں۔ ایک بات طے ہے کہ “بریانی” کا ذائقہ ناظرین کے ذہنوں پر کافی عرصے تک چھایا رہے گا























