مودی نے ٹرمپ کو روسی تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کر ادی
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ‘مجھے خوشی نہیں تھی کہ بھارت روس سے تیل خرید رہا ہے، لیکن آج مودی نے مجھے یقین دلایا ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ یہ ایک بڑا قدم ہے۔ اب ہمارا اگلا ہدف چین ہے۔’
یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ روس کی توانائی آمدنی کو محدود کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے تاکہ اسے یوکرین پر حملے سے باز رکھا جا سکے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنے کیوجہ سے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا۔
روس اس وقت بھارت کو سب سے زیادہ تیل فراہم کرتا ہے۔ ستمبر میں بھارت نے روزانہ 1.62 ملین بیرل روسی تیل خریدا، جو اس کی مجموعی درآمدات کا تقریباً ایک تہائی بنتا ہے۔

بھی تک واشنگٹن میں بھارتی سفارت خانے نے اس دعوے پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے کہ مودی نے واقعی ٹرمپ سے ایسا کوئی وعدہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے چین پر اسی قسم کا دباؤ ڈالنے کا عندیہ بھی دیا ہے، تاہم تجارتی کشیدگی کے باعث انہوں نے اب تک بیجنگ پر براہ راست دباؤ نہیں ڈالا۔
اس ہفتے کے اوائل میں ٹرمپ کے قریبی ساتھی سرجیو گور، جنہیں حال ہی میں بھارت میں امریکی سفیر نامزد کیا گیا ہے، نے مودی سے ملاقات کی جس میں دفاع، تجارت اور ٹیکنالوجی کے امور پر بات چیت ہوئی۔
اگر بھارت واقعی روسی تیل کی خریداری بند کرتا ہے تو یہ ماسکو کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہوگا اور دیگر ممالک پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ روسی توانائی پر انحصار کم کریں۔























