فن جب سماج کے نازک اور حساس مسائل کو بے لاگ اور بے ساختہ انداز میں پیش کرے تو وہ محض ایک ڈرامہ نہیں رہتا، بلکہ ایک تحریک بن جاتا ہے۔ ہماری پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری نے گزشتہ کچھ عرصے سے اپنے معیار اور موضوعات کے اعتبار سے ایک نئی راہ متعین کی ہے، اور اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے “پامال”۔ یہ ڈرامہ صرف ایک کہانی سنانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمارے معاشرے کے ایک ایسے زخم کو ہوا دیتا ہے جس پر ہماری اجتماعی نظر اندازی کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔
“پامال” ایک ایسی کہانی ہے جو ہمارے گھروں، ہماری بستیوں اور ہماری روزمرہ زندگی میں ہونے والے ایک ایسے المیے کو دکھاتی ہے جس کا شکار ہمارے معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ہے۔ یہ ڈرامہ اپنے مرکزی کردار “صابرہ” کے گرد گھومتا ہے، جس کی زندگی کی کہانی ہمارے سامنے ایک ایسی المناک حقیقت کو عیاں کرتی ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں

ایک غریب گھرانے کی لڑکی ہے جو اپنے خاندان کی کفالت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے گھر گھر جا کر کام کرتی ہے۔ اس کی زندگی ایک روز ایک ایسے موڑ پر آ جاتی ہے جب اسے ایک دولت مند گھرانے میں ملازمت ملتی ہے۔ یہاں اس کی ملاقات “طلحہ” سے ہوتی ہے، جو اس گھرانے کا بیٹا ہے۔ طلحہ کی شادی “مہک” سے ہو چکی ہے، لیکن وہ ایک خود غرض اور مادی لذتوں کا عادی انسان ہے۔ وہ صابرہ کی معصومیت اور مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتا ہے اور اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنا لیتا ہے۔
نتیجتاً، صابرہ حاملہ ہو جاتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سے صابرہ کی زندگی کا ایک نیا اور مشکل ترین باب شروع ہوتا ہے۔ معاشرے کی طرف سے ملنے والی رسوائی، گھر والوں کی بے اعتنائی، اور اپنے ہی وجود سے پیدا ہونے والے سوالات کا سامنا کرتی ہوئی صابرہ ہر طرح کی ذہنی اور جذباتی اذیت سے گزرتی ہے۔ ڈرامے کا مرکزی نقطہ یہی ہے کہ کس طرح ایک عورت کو صرف اور صرف اس کی غلطی قرار دے کر ہر طرف سے تنہا کر دیا جاتا ہے، جبکہ اس “غلطی” میں شامل مرد معاشرے میں باعزت زندگی گزارتا رہتا ہے























