بولنگ اور فیلڈنگ کا کردار
سعود قасمی نے بھارتی بولنگ کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے درمیانی اوورز میں اچھا مینجمنٹ کیا: فاسٹ بولرز نے رنز کا بہاؤ روکا، پھر سپنرز کو موثر انداز میں استعمال کیا تاکہ میڈیم اور بالانس برقرار رہے۔
پاکستان کیوں ہارا؟
بھارت نے کیا بہتر کیا؟
پاکستان نے کہاں غلطیاں کیں؟
آئندہ کے لیے کیا سیکھا جا سکتا ہے؟
=================
◉ اوپنرز کی ناکامی:
میچ کے آغاز میں ہی پاکستان کو بڑا دھچکہ لگا جب دونوں اوپنرز ابتدائی اوورز میں بغیر کوئی بڑا سکور کیے پویلین لوٹ گئے۔
بابر اعظم جیسا کلاس بیٹسمین دباؤ میں نظر آیا۔
امام الحق اسپنرز کے خلاف کمزور دکھائی دیے۔
◉ درمیانی آرڈر کی کمزوری:
مڈل آرڈر نے بھی کسی قسم کا استحکام نہ دکھایا۔
محمد رضوان نے کوشش ضرور کی، لیکن وکٹ گرنے کا سلسلہ جاری رہا۔
پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ مکمل طور پر بکھر گئی۔ 50 اوورز پورے کرنے سے پہلے ہی پوری ٹیم آل آؤٹ ہو گئی، اور ایک ایسا ہدف دیا جو بھارت جیسی مضبوط بیٹنگ لائن کے لیے بہت آسان تھا۔
2. غلط حکمتِ عملی
◉ ٹاس جیت کر غلط فیصلہ؟
اگر پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کی، تو وہ فیصلہ موسم، پچ کی صورتحال اور حریف ٹیم کی طاقت کے مطابق مناسب نہیں تھا۔
بارش کی پیش گوئی تھی، ایسے میں چیس کرنے والی ٹیم کو فائدہ ہوتا ہے۔
بھارت کے فاسٹ بولرز کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے میں ماہر ہیں، خصوصاً نئی گیند سے۔
◉ بیٹنگ آرڈر کا مسئلہ:
کچھ شائقین اور ماہرین کا ماننا ہے کہ فخر زمان کی فارم مسلسل خراب ہے، انہیں آرام دیا جانا چاہیے تھا۔
شاداب خان کی بیٹنگ پوزیشن بھی بحث کا باعث بنی — انہیں نیچے بھیجنے سے وہ وقت پر خود کو سیٹ نہیں کر سکے۔
=============


==============

================
جاویریہ سعود کے لیے کرکٹ محض ایک کھیل نہیں، بلکہ اس کے جذبات کی زبان ہے۔ پاکستان کی سرزمین پر پیدا ہونے والی جاویریہ کے لیے یہ میچ قومی فخر، غیرت اور اپنے ہیروز کے لیے بے پناہ محبت کا اظہار ہے۔ وہ کہتی ہیں، “یہ میچ ہمارے لیے ایک ‘وجود’ کا سوال بن جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہر پاکستانی کا دل ایک ہی دھڑکن پر تھرتھراتا ہے۔ ہم صرف گیند یا بلے سے نہیں، بلکہ اپنی روح سے کھیلتے ہیں۔”
جاویریہ کے مطابق، بھارت کے خلاف ہر فتح محض میچ جیتنا نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک اجتماعی خوشی کا تہوار ہوتی ہے۔ “گلیوں میں نکلنے والی خوشی کی لہر، چہروں پر مسکراہٹیں، ایک دوسرے کو گلے لگانا… یہ وہ لمحے ہیں جو ہمیں ایک قوم بناتے ہیں۔ یہ کرکٹ سے بھی بڑھ کر ہے؛ یہ ہماری شناخت کا حصہ ہے۔” وہ 2017ء کے ICC چیمپئنز ٹرافی کے فائنل کو ایک مثال کے طور پر پیش کرتی ہیں، جب پاکستان نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو شکست دی تھی۔ “اس دن ہم نے نہ صرف ایک ٹرافی جیتی تھی، بلکہ اپنے اعتماد کو واپس پایا تھا۔”
لیکن جاویریہ کی نظر میں اس مقابلے کا ایک دردناک پہلو بھی ہے۔ شکست کے بعد کے لمحات، خاص طور پر جب میچ قریب سے ہارا جائے، وہ کہتی ہیں کہ یہ صرف ایک میچ نہیں ہارا جاتا، بلکہ ایک خواب ٹوٹ جاتا ہے۔ “ہار کی خاموشی جیت کے شور سے کہیں زیادہ گہری اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود، اگلے دن ہم اپنے ہیروز کے لیے اسی جذبے سے دعائیں کرتے ہیں۔ یہی ہمارا کھیل سے پیار ہے
بولنگ اور میدان سازی
بولرز کو پچ کی تبدیلیوں کو فوری محسوس کرنا چاہیے — اگر گیند گھوم رہی ہو یا جوڑ بن رہی ہو، تو سپنرز کو جلد بازی میں نہ لائیں مگر مؤثر انداز میں استعمال کریں۔
فیلڈ سیٹ اپ ایسا ہو کہ خاص طور پر مجرمانہ شاٹس روکے جا سکیں؛ باؤنڈری فیلڈرز تو مضبوط ہوں، گیند روکی جائے، اور چھوٹے مواقع ضائع نہ ہوں۔
میچ کے اہم لمحات میں بولنگ پلان واضح ہونا چاہیے: کونسا بولر کس گیند پر کس لائن و لینتھ سے گیند کرے گا، دباؤ بڑھاتے وقت کیا طرز اختیار کی جائے گی۔
ذہنی تیاری اور ٹیم سپرٹ
دباؤ کے لمحات کے لیے کھلاڑیوں کو تربیت دی جائے: میچ کے کلائمکس میں کس طرح رہنا چاہیے، جلدی کے فیصلے نہ کیے جائیں، خود پر بھروسہ ہو۔
کوچنگ سٹاف اور کپتان کی رہنمائی ایسی ہو کہ کھلاڑی جانیں کہ مایوسی ہو جائے تو سمجھ بوجھ سے واپس آنا ہے، نہ کہ خطرہ مول لے کر پورا کھیل کھونا ہے۔
میری اپنی رائے
================

=============
جویریہ سعود اور سعود قاسمی کی بصیرت دونوں اہم ہیں — ایک جذباتی اور انسانی پہلو دیکھتی ہیں، دوسرا ٹیکنیکل اور ڈیٹا کی روشنی ڈالتی ہے۔ دونوں مل کر اگر اپنی آرا ایک دوسرے کے نقطہ نظر سے جائزہ لیں، تو ٹیموں کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
============
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان نے، اگرچہ حوصلہ دکھایا ہو، مگر ابتدائی دباؤ میں وکٹیں کھو کر اپنا آپ کمزور کیا۔ بھارت نے میچ کی مڈل سیشنز میں بہتر حکمتِ عملی اپنائی۔ بولنگ اور فیلڈنگ نے وہ فرسودہ غلطیاں نہ کیں جو اکثر دباؤ میں ہوتی ہیں۔
تاہم پاکستان کے پاس ہمیشہ موقع ہوتا ہے کہ وہ درمیانی اور آخری اوورز میں بیٹنگ کو جوڑ کر ایک قابلِ احترام ہدف دے یا ڈی فنس میں مقابلہ کرے۔ صورتحال کا دارومدار اس بات پر ہے کہ کون زیادہ ذہنی سختی دکھائے، کون دباؤ کے وقت مستحکم رہے، اور کون ٹیم کے لیے وہ اضافی قدم اٹھائے جو میچ کا رخ بدل دے























