ماحولیاتی تحفظ کے لیے پنجاب حکومت کا نیا اقدام

فضائی آلودگی اور سموگ جیسے بڑھتے ہوئے مسائل کے پائیدار حل کے لیے حکومت پنجاب نے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے لاہور شہر میں ’گرین کوریڈور‘ منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت ماحولیاتی بہتری کی کوششوں کا تسلسل ہے۔

اس منصوبے کے تحت شاہدرہ سے رائیونڈ تک ریلوے لائن کے دونوں جانب موجود اراضی کو سرسبز گرین بیلٹس میں تبدیل کیا جائے گا، جو نہ صرف شہر کو خوبصورت بنائیں گی بلکہ شہریوں کو صحت مند اور صاف ماحول بھی فراہم کریں گی۔ اس اہم منصوبے کی قیادت سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب کر رہی ہیں، جن کی ماحول دوست پالیسیوں نے ایسے منصوبوں کی راہ ہموار کی ہے۔

منصوبے پر عمل درآمد پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (PHA) اور پاکستان ریلوے کے تعاون سے کیا جائے گا، جبکہ اس کی مجموعی نگرانی محکمہ ہاؤسنگ پنجاب انجام دے گا۔
ترجمان ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، اس منصوبے کی کل لمبائی 40 کلومیٹر اور رقبہ تقریباً 700 کنال ہے، جس پر تقریباً 2.355 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ منصوبہ چار مراحل میں مکمل ہوگا:

شاہدرہ تا لاہور ریلوے اسٹیشن

ریلوے اسٹیشن تا والٹن

والٹن تا کوٹ لکھپت

کوٹ لکھپت تا رائیونڈ

اس منصوبے کے تحت مختلف مقامات پر تفریحی سرگرمیوں کے لیے سہولیات فراہم کی جائیں گی، اور پرانی ریلوے بوگیوں کو جدید طرز کی لائبریریوں اور کیفیز میں تبدیل کیا جائے گا، جو نہ صرف تعلیمی و تفریحی مواقع مہیا کریں گے بلکہ گرین بیلٹ کی کشش میں بھی اضافہ کریں گے۔

مزید برآں، وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر ’پے پلوٹرز رولز‘ (Pay Polluters Rules) کو صوبائی قانون کا حصہ بنا دیا گیا ہے، جس کے تحت ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے افراد اور اداروں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

اس سلسلے میں سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب ملک کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں ماحولیاتی تحفظ کے لیے بین الاقوامی معیار کا قانون نافذ کیا گیا ہے۔ صوبے کو 10 ماحولیاتی زونز میں تقسیم کر کے جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جس میں ’خبردار‘ نامی خودکار الرٹ سسٹم بھی شامل ہے، جو کسی بھی آلودگی کی صورت میں فوری اطلاع دے گا۔

ای پی اے فورس (EPA Force) کو الرٹ ملتے ہی فوری کارروائی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ہر زون میں انچارجز، انسپکٹرز، اور مانیٹرنگ اسکواڈز تعینات کر دیے گئے ہیں، جو صنعتوں، اینٹوں کے بھٹوں اور گاڑیوں سے خارج ہونے والے زہریلے دھوئیں پر کڑی نظر رکھیں گے۔ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے آلودگی کی سطح کی خودکار شناخت کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر فوری ایکشن لیا جائے گا۔

یہ نظام صنعتی فضلے کو ندی نالوں میں پھینکنے، کوڑا کرکٹ جلانے اور پلاسٹک کے غیر قانونی استعمال پر بھی مکمل نگرانی رکھے گا۔ ہر زون میں ڈرون کیمرے، جدید گاڑیاں اور فوری رسپانس سسٹم فراہم کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 25 کروڑ روپے کی لاگت سے ای پی اے فورس کا ہیڈکوارٹر بھی تعمیر کیا جائے گا۔

مزید یہ کہ، گرین لائن ماحولیاتی انفراسٹرکچر کی تیاری کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ “گرین کریڈٹ پروگرام” کے تحت ای-بائیکس، الیکٹرک رکشہ، اور سپر سیڈر جیسے اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
پنجاب میں پہلی ڈیجیٹل کلائمیٹ موومنٹ کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے، اور گرین اسکول پروگرام کے ذریعے تعلیمی اداروں میں ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کی مہم شروع کی جا رہی ہے۔

سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے یہ بھی خوشی کا اظہار کیا کہ 2025 میں برازیل میں ہونے والی بین الاقوامی ماحولیاتی کانفرنس میں پنجاب کو نمائندگی دی جائے گی، جو وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ماحولیاتی خدمات کا عالمی سطح پر اعتراف ہے۔