“ہرجائی” بہت متاثر کر رہا ہے۔…نیا ڈرامہ “پامال”…… OST

نیا ڈرامہ “پمال” اوست “ہرجائی” بہت متاثر کر رہا ہے۔

نہ صرف ڈرامے کی فضاء کو متعین کرتے ہیں بلکہ خود ایک الگ شناخت بنا کر عوام کے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ یہ مضمون اسی طاقتور رشتے کی دریافت ہے —

کہ کیسے ایک ڈرامہ اور اس کا OST ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہوئے شہرت کی بلندیوں کو چھوتے ہیں

کسی بھی ڈرامے کی کامیابی کا راز صرف اس کے منظرنامے یا اداکاروں کی کارکردگی میں نہیں، بلکہ اس کے ہر پہلو کے ہم آہنگ امتزاج میں پنہاں ہوتا ہے۔ OST اسی امتزاج کا سب سے جذباتی اور اثرانگیز جزو ہے۔ یہ وہ آلہ کار ہے جو ناظر کو کہانی کے مرکزی خیال سے متعارف کرواتا ہے۔ جب ہم “ہم سفر” کے آغاز میں وہ دل دہلا دینے والا سُر سنتے ہیں، تو بغیر کسی منظر کے ہی یہ احساس ہو جاتا ہے کہ کہانی محبت، جدائی اور المیے کے گرد گھومے گی۔ OST ڈرامے کے مرکزی کردار کی اندرونی کیفیات، اس کے جذبات اور کشمکش کو بغیر بولے بیان کر دیتا ہے۔ یہ وہ فنکارانہ چابک دستی ہے جو ڈرامے کو محض ایک “شو” سے بلند ہو کر ایک “احساس” بنا دیتی ہے۔

ایک کامیاب OST کا سفر ایک شاعر کے اس مصرعے سے شروع ہوتا ہے جو ڈرامے کے مرکزی خیال کا احاطہ کرتا ہے۔ شاعر جیسے “عاطف بٹ”، “خلیل الرحمٰن قمر”، یا “سعدیہ شہزاد” جیسے نام ڈرامے کے جذبات کو الفاظ کا لباس پہناتے ہیں۔ پھر موسیقار اس شاعری کو سروں کی ایک ایسی لہر میں ڈھالتا ہے جو ناظر کے دل کی دھڑکن بن جائے۔ “شفقت علی خان”، “نذیر عباس” اور “سہیل رانا” جیسے ہنرمند وہ جادو کرتے ہیں جو کانوں سے ہو کر براہِ راست دل تک اتر جاتا ہے۔

آخر میں، گلوکار وہ آخری کڑی ہے جو اس فن پارے میں جان ڈالتا ہے۔ ایک گلوکار کی آواز میں وہ جادو ہوتا ہے جو لفظوں اور سروں کو ایک ایسی روح عطا کر دیتا ہے جو ہمیشہ کے لیے حافظے میں محفوظ ہو جاتی ہے۔ راحت فتح علی خان کی “زندگی میں تو صرف تم نے پیار دیا” میں درد بھری آواز ہو یا عاطف اسلم کی “کبھی بندش تو کبھی رستہ ہوں میں” میں امید کی کرن، یہ آوازیں ڈرامے کے کرداروں کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیتی ہیں