راحت فتح علی خان کا حیران کن انکشاف؟…..سینئر اداکار نعمان اعجاز شرپسند میں ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہونے کو تیار

ٹیلی وژن کی رنگا رنگ دنیا میں، جہاں ڈرامے نہ صرف تفریح کا ذریعہ بلکہ ثقافتی مباحث کا مرکز بنتے ہیں، ایک نیا ڈراما “شطرنج پسند” اپنی منفرد کہانی اور پرکشش کرداروں کے ساتھ ابھر رہا ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ جو بات اس وقت ہر طرف سنائی دے رہی ہے، وہ ہے اس کا نیا اور اصل ساؤنڈ ٹریک۔ یہ نغمہ محض ایک ڈرامے کا تھیم سانگ نہیں رہا، بلکہ یہ عوامی مقبولیت کی ایک نئی داستان بن کر سامنے آیا ہے، جس نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سے لے کر گلی محلوں تک اپنی دھمک بنا لی ہے۔

“شطرنج پسند” کا یہ ساؤنڈ ٹریک کیسے اور کیوں اتنا مقبول ہوا؟ اس کی کامیابی کے پیچھے کئی فنکارانہ اور تکنیکی پہلو کارفرما ہیں، جو اسے دورِ حاضر کے دیگر نغموں سے منفرد اور یادگار بناتے ہیں۔

شاعری کی۔ نغمے کے بول اردو زبان کی شائستگی اور رومانوی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ بول نہ تو بہت زیادہ پیچیدہ ہیں کہ سامع کو سمجھ نہ آئیں، اور نہ ہی اس قدر عام کہ فراموش ہو جائیں۔ ان میں محبت کی نزاکت، توقعات، اور اندرونی کشمکش کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ ایک ایسا گیت جو کسی کے دل کی آواز بن جائے، وہی عوامی مقبولیت حاصل کرتا ہے۔ “شطرنج پسند” کا نغمہ بھی ایسے ہی بول رکھتا ہے جو نوجوان نسل کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔ ہر لفظ میں وہ درد، وہ امید، اور وہ بے چینی ہے جو ہر محبت کرنے والا محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سامعین خود کو اس نغمے سے جڑا ہوا محسوس کرتے ہیں، گویا یہ انہی کے دل کی کہانی کہہ رہا ہو

دوسرا اہم پہلو ہے موسیقی۔ موسیقار نے اس نغمے میں جدید برقی آلات (سینتھیسائزر) اور روایتی جنوب ایشیائی آلات، جیسے طبلہ، سیتار، یا فلوت کا حسین امتزاج پیش کیا ہے۔ آغاز ہی تھیم کو پہچنوانے والا ہے، جو سامع کے کانوں میں رس گھول دیتا ہے۔ نغمے کا “ہک” یا مرکزی دھن اتنی پرکشش اور بار بار سننے والی ہے کہ وہ فوراً ہی دماغ میں بیٹھ جاتی ہے۔ یہ وہ معیار ہے جو کسی بھی کامیاب نغمے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ موسیقی میں ترتیب (arrangement) میں اتار چڑھاؤ برقرار رکھا گیا ہے۔ جہاں پر جوش اور رومان کے لمحات ہیں، وہیں پر نرم اور دھیمی دھنوں پر مشتمل حصے بھی ہیں، جو جذبات کے ایک تسلسل کو جنم دیتے ہیں۔ یہ اتار چڑھاؤ سامع کو بور ہونے نہیں دیتا اور وہ پورا نغمہ شروع سے آخر تک سنتا چلا جاتا ہے

تیسرا اور شاید سب سے اہم عنصر ہے گلوکار کی آواز۔ خواہ وہ کوئی معروف نام ہو یا کوئی نیا talent، گلوکار نے نغمے کے جذبات کو اپنی آواز کے ذریعے سامع تک پہنچانے میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی ہے۔ آواز میں وہ گداز، والہانہ پن، اور جذباتیت ہے جو بول اور موسیقی کے ساتھ مل کر چار چاند لگا دیتی ہے۔ گلوکار نے نہ صرف سُر اور تال کو برقرار رکھا ہے، بلکہ ہر لفظ کو جذبات سے اس طرح بھر دیا ہے کہ وہ براہِ راست دل تک اتر جاتا ہے

ساؤنڈ ٹریک کی مقبولیت میں جدید ذرائع ابلاغ کا کردار نہایت اہم ہے۔ یہ وہ دور ہے جب کوئی بھی نغمہ سوشل میڈیا کے ذریعے لمحوں میں وائرل ہو سکتا ہے۔ یہ نغمہ بھی یوٹیوب، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر آگ کی طرح پھیل گیا۔ نوجوانوں نے اسے اپنی “اسٹیٹس” اور “سٹوریز” میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ٹک ٹاک پر تو اس نغمے پر بننے والے ویڈیوز اور “لیپ سنک” ویڈیوز نے ایک نیا ٹرینڈ ہی چلا دیا۔ یہ عوامی مقبولیت کا وہ پیمانہ ہے جو پرانے زمانے میں ممکن نہیں تھا۔ جب ہزاروں، بلکہ لاکھوں صارفین کسی نغمے کو اپنے تخلیقی مواد کے ساتھ استعمال کرتے ہیں، تو وہ نغمہ صرف ایک گانا نہیں رہتا، بلکہ ایک ثقافتی رجحان (Cultural Phenomenon) بن جاتا