ناسا نے خلا سے لی گئی دلکش کہکشاؤں کی نئی تصویریں جاری کردیں

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا اور ہارورڈ-اسمتھ سونین مرکز برائے فلکی طبیعیات نے خلا میں موجود اپنی چندرا ایکس رے دوربین کے ذریعے حاصل کردہ نایاب اور دل موہ لینے والی کہکشاؤں اور ستاروں کے علاقوں کی تصاویر عوام کے سامنے پیش کی ہیں۔

ان خوبصورت مناظر کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ان میں خلا میں موجود دیگر طاقتور دوربینوں، جیسے کہ جیمز ویب خلائی دوربین اور ہبل خلائی دوربین سے حاصل کردہ معلومات کو بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ ہر تصویر کی گہرائی اور وضاحت میں اضافہ ہو۔

جاری کردہ مجموعی طور پر نو تصویریں نہایت دور دراز مقامات پر موجود کہکشاؤں اور ستاروں کی پیدائش کے خطوں کو دکھاتی ہیں۔ ان تصویروں میں دکھائے گئے اجرام فلکی کے نام اور ان کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے:

این 79: ایک ایسا علاقہ جہاں ستارے وجود میں آ رہے ہیں، یہ مقام ہم سے تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار نوری سال کے فاصلے پر ہے۔

این جی سی 2146: ایک خم دار کہکشاں، جو تقریباً چار کروڑ چالیس لاکھ نوری سال دور واقع ہے۔

آئی سی 348: ہماری اپنی کہکشاں، ملکی وے میں واقع ایک ستارہ ساز علاقہ۔

ایم 83: جسے جنوبی پن وہیل کہکشاں بھی کہا جاتا ہے۔

ایم 82: اُرسا میجر جھرمٹ میں واقع ایک مشہور کہکشاں، جسے سگار کہکشاں بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کہکشاں ستاروں کو دیگر کہکشاؤں کی نسبت سو گنا زیادہ رفتار سے تخلیق کر رہی ہے۔

این جی سی 1068: یہ کہکشاں سیٹس جھرمٹ میں موجود ہے اور اسے اسکوئیڈ کہکشاں کے نام سے جانا جاتا ہے۔

این جی سی 346: ایک اور ستارہ ساز علاقہ، جہاں موجود کچھ ستارے ابھی صرف بیس لاکھ برس پرانے ہیں۔

آئی سی 1623: یہ دو کہکشاؤں کا ایسا جوڑا ہے جو اس وقت آپس میں ٹکرا رہا ہے اور ان کے درمیان ایک عظیم فلکیاتی واقعہ رونما ہو رہا ہے۔

ویسٹرلنڈ 1: یہ ہماری اپنی کہکشاں کے کم عمر ستاروں کا سب سے بڑا جھرمٹ ہے، جو زمین سے صرف بارہ ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے۔

ناسا کی جانب سے جاری کردہ یہ تصویریں نہ صرف فلکیاتی علم کے دائرے کو وسعت دیتی ہیں بلکہ کائنات کی خوبصورتی اور وسعت کو ایک نئی نظر سے دیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔