ماہرین نے دوسرے نظامِ شمسی میں زمین سے 35 گنا بڑا سیارہ دریافت کرلیا

سائنس دانوں نے ایک اور نظامِ شمسی میں ایسا نیا سیارہ دریافت کیا ہے جو سائز میں ہماری زمین سے تقریباً پینتیس گنا بڑا ہے، جس سے نظامِ شمسی کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔

یہ سیارہ کیپلر-139 ف کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حجم کے لحاظ سے یہ مشتری سے لگ بھگ ساٹھ فیصد بڑا ہے جبکہ وزن کے اعتبار سے اس کا ماس زمین کے مقابلے میں چھتیس گنا زیادہ ہے۔

یہ سیارہ اپنے سورج نما مرکزی ستارے کے گرد سال بھر، یعنی تقریباً 355 دن میں چکر مکمل کرتا ہے۔ اس کا اپنے ستارے سے فاصلہ بھی زمین جیسے ہے جو تقریباً 1.006 فلکیاتی اکائیوں
(AU)
کے برابر ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت ٹرانزٹ ٹائمنگ ویریئشنز اور ریڈیئل ویلیو جیسے سائنسی طریقہ کار کے ذریعے ممکن ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سیارے کی موجودگی اس جگہ پر پائی گئی جہاں اس سے قبل اسی نظامِ شمسی میں تین دیگر سیارے پہلے ہی دریافت ہو چکے تھے۔ تاہم، اس نئے سیارے کی موجودگی طویل عرصے تک چھپی رہی کیونکہ یہ دوسرے بڑے گیس سے بھرپور سیارے کی کشش کے اثر میں تھا، جس نے اسے براہِ راست مشاہدے سے اوجھل رکھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مشاہدے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بڑے اور بیرونی سیارے، اندرونی سیاروں کی حرکات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور ان کے چکر کے راستے بھی بدل سکتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ عام مشاہداتی طریقوں سے نظر نہیں آتے۔

اگرچہ کیپلر-139 ف کا ماحول نیپچون جیسے سیاروں سے مشابہ ہے اور وہاں زندگی کے آثار موجود ہونے کا امکان نہایت کم ہے، لیکن یہ تحقیق سیاروں کے نظام کی بناوٹ، ارتقاء، اور ان کے درمیان کشش کی نوعیت کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔