نیسلے کمپنی کے سابق ملازم جاوید آصف کے ساتھ لاہور ہائی کورٹ میں جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار کون ؟-نو سال سے کیس چل رہا ہے دو عدالتوں سے جیت چکا تیسری عدالت میں پانچ سال سے تاریخ پر تاریخ ،سخت دل برداشتہ ہو کر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی-

چھ بچوں کا باپ ہےنیسلے مقدمے میں گھر بک گیا گاڑی بک گئی 15 ہزار ماہانہ کرائے کے گھر میں آگیا
نیسلے کمپنی کے مقدمے کی وجہ سے بچوں اور گھر والوں کے حوالے سے دھمکیاں مل رہی تھیں دھمکیوں کی کالز آنے پر پریشان تھے اہلیہ کا موقف
ہر پیشی پر وکیل کو 15 ہزار روپے دیتے وہ ملتان سے لاہور عدالت میں آتا ہے
وکیل کو دینے کے لیے پیسے بھی کسی سے ادھار لیے تھے
میئو ہسپتال ایک سرکاری ہسپتال ہے لیکن ادویات کے لیے پرچی تھما دیتے ہیں کہ باہر سے لے کر آؤ

سرکاری ہسپتال غریبوں کے لیے بنایا ہے تو غریبوں کو ادویات تو دیں کوئی علاج کا خیال نہیں کیا جا رہا تکیہ تک نہیں دیتے ٹانگیں اوپر باندھنی ہیں بازو پر باندھنے ہیں تو پٹیاں نہیں ہیں خرید کر لاؤ انجیکشن خرید کر لاؤ
صدر وزیر اعظم اور چیف جسٹس سے انصاف کی اپیل ہے ہمارے ساتھ انصاف کریں غریبوں کے ساتھ انصاف کریں

چیف جسٹس صاحب اور ججوں سے اپیل ہے کہ غریبوں کا کیس سن تو لیا کریں فیصلہ تو اپ نے کرنا ہے لیکن کیس تو سنیں یہاں تاریخ پر تاریخ دے دی جاتی ہے ہر مرتبہ کوئی بہانہ بنا کر سماعت ملتوی کر دیتے ہیں پانچ سال سے مقدمہ ہی نہیں سنا فیصلہ کریں یا ہمارے حق میں یا خلاف لیکن سنیں تو، اہلیہ کا موقف

وزیراعلی پنجاب سب کی ماں ہیں لیکن اتنا بڑا واقعہ ہو گیا ماں آئی نہیں پوچھنے ، سرکاری ہسپتال میں بھی کوئی خیال کرنے والا نہیں دوائیں بھی خود خرید کر دے رہے ہیں
کیسا سرکاری ہسپتال ہے کہ پٹیاں اور انجیکشن اور دوائیاں سب کچھ باہر سے خرید کر لانا پڑ رہا ہے سرکاری فنڈ کہاں ہے غریبوں کے لیے ہسپتال بنایا ہے تو دوائیاں کیوں نہیں ہیں


اس مقدمے کے حوالے سے جاوید اصف تو ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کی اہلیہ زنیرہ کا کہنا ہے کہ نیسلے کمپنی سے نو سال سے ڈسمس کرنے کا کیس چل رہا ہے ذہنی طور پر وہ بہت ڈسٹرب تھے شوگر کا ٹیگ بھی ہوا تھا گھر بک گیا گاڑی بک گئی 15 ہزار روپے کرائے کے مکان میں رہتے ہیں خانیوال سے تعلق ہے ہر مرتبہ وکیل کو 15 ہزار روپے دیتے ہیں تاکہ وہ لاہور میں ا کر کیس لڑے وکیل کو دینے کے لیے پیسے نہیں تھے تو وہ بھی کسی سے ادھار لے کر دیے ہیں رمضان ا رہا ہے عید ارہی ہے گھر میں کچھ نہیں ہے باپ بچوں کے لیے پریشان تھا گھر بار بار ا کر کیا منہ دکھاتا ہر بار یہ سوچ کر جاتے تھے کہ اج فیصلہ ہو جائے گا لیکن عدالت میں تاریخ پر تاریخ پڑتی رہی اور کسی نے نہیں سنا ان کے پاس پٹرول پہلے سے ہوگا جو یہاں

ا کر انہوں نے اگ لگا لی لیکن سکیورٹی کہاں تھی کسی نے ان کا پٹرول کیوں نہیں چیک کیا اندر کیسے پیٹرول ایا اگر کوئی چیکنگ ہوتی سکیورٹی ہوتی تو خود سوزی کا واقعہ پیش نہ اتا ان کو روکا جا سکتا تھا اہلیہ کے مطابق انہیں کمپنی سے اس لیے ڈسمس کیا گیا تھا غیر قانونی طور پر کہ وہ صرف ایک معاملے میں گواہی کے لیے پیش ہو گئے تھے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں ۔ کمپنی نے ان کو غیر قانونی طور پر نکالا انہوں نے نیسلے کمپنی کے خلاف کیس کیا این ائی ار سی میں گئے اور کیس جیت گئے
اس کے بعد کمپنی نے فل بینچ میں اپیل کر دی فل بینچ میں بھی وہ جیت گئے اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں رٹ کر دی اور پانچ سال سے کیس چل رہا ہے لاہور ہائی کورٹ میں کیس سنتے ہی نہیں ہیں سماعت ہی نہیں ہوتی تاریخ پر تاریخ دے دیتے ہیں وہ ہر مرتبہ انصاف کا سوچ کر اتے تھے کہ اج ضرور فیصلہ ہوگا اج ضرور انصاف ملے گا لیکن ایسا نہیں ہوا اور یہ واقعہ پیش اگیا مسلسل پریشانی تھی اور ان کو نسلے والے گھر والوں کے حوالے سے اور بچوں کے حوالے سے دھمکیاں دے رہے تھے دھمکی کی کال اتی تھی تو وہ پریشان ہو جاتے تھے وہ شوگر کے مریض تھے اور ہارٹ مکے بھی مریض بن گئے اور سب کچھ پریشانی کا عالم تھا گھر میں لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ وہ خود سوزی کر لیں گے نہ انہوں نے اس کا ذکر کیا تھا لیکن ظاہر ہے کہ وہ اپنے طور پر پتہ نہیں کیا کیا سوچ رہے ہوں گے ہسپتال میں ملاقات ہوئی تو وہ کم بول رہے ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا میں نے سوچ لیا تھا کہ اگر اب عدالت نے فیصلہ نہ دیا تو میں یہ کچھ کروں گا جو میں نے کیا عدالت نے جس روز 18 اپریل کی تاریخ دے دی وہ دل برداشتہ ہو گئے اور انہوں نے خود سوزی کر لی وہ غریب انسان ہیں مزدور محنت کش ہیں چھ بچے ہیں اور پورے گھر کا بوجھ ان پر ہے وہ کیا کریں ان کے ساتھ کام کرنے والوں نے اور ان کے دوستوں نے بتایا کہ وہ مخلص انسان ہیں حمزہ انسان ہیں لیکن کافی پریشان ہو گئے ہیں کیونکہ نو سال سے کیس چل رہا ہے دو عدالتوں سے مقدمہ جیت چکے ہیں تیسری عدالت میں بھی جیت جائیں گے لیکن مقدمہ سنا ہی نہیں جا رہا اس ملک میں غریب کو انصاف ملنا مشکل ہو گیا ہے
چیف منسٹر خود کو صوبے کے عوام کی ماں کہتی ہیں تو اج ماں کہاں ہیں وہ پوچھنے کیوں نہیں ائی ہمیں ان کا انتظار ہے ۔خانیوال کے رہائشی ہیں 15 ہزار روپے کرائے پر مکان میں رہتے ہیں غریب لوگ ہیں مقدمے کا خرچہ بھی ادھار لے کر برداشت کر رہے ہیں جج شجاعت علی خان کی عدالت کے باہر انہوں نے یہ سب کچھ کیا غالبا مقدمہ بھی اسی عدالت میں ہے عدالت والوں نے یہ کہہ کر نئی تاریخ دے دی کہ اپ کے وکیل کا نام کمپیوٹر میں نہیں ا رہا اج سماعت نہیں ہو سکتی ہر مرتبہ کوئی نیا بہانہ بنا کر کیس کی سماعت ملتوی ہو
جاتی تھی اس لیے وہ دل برداشتہ ہو گئے ۔
اس افسوسناک واقعے نے بہت سے سوالات اٹھا دیے ہیں ہمارے انصاف کے سسٹم پر بھی سوالات اٹھے ہیں اور نیسلے کمپنی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھے ہیں کہ انہوں نے محنت کش و مزدوروں کو نکالا تو ان کے لیے کچھ مالی امداد کا بندوبست کیوں نہیں کیا اور اگر کیا تو پھر یہ سب واقعات کیوں پیش ائے ہے کہ انہیں نیسلے کمپنی کے حوالے سے دھمکیاں میز فون شوہر کو اتے تھے تو اخر دھمکیاں کون دیتا تھا اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ نیسلے کمپنی کی جانب سے


اگر دھمکیاں دی جا رہی تھیں تو وہ کون لوگ تھے اس کے ذمہ دار کون ہیں اور اگر نیسلے کمپنی کا کوئی نام استعمال کرتا ہے تو وہ بھی سامنے انا چاہیے کبیروالہ سے شروع ہونے والا یہ معاملہ اب صرف لاہور ہائی کورٹ تک نہیں بلکہ پورے ملک میں سب کی توجہ حاصل کر چکا ہے اصف جاوید اسپتال میں زیر علاج ہے اس کو بچانا بھی ہے لوگ اس کی صحت کے لیے دعا بھی کر رہے ہیں اب اگر مالی امداد اتی بھی ہے سرکار جاگتی بھی

ہے عدالت میں کیس لگتا بھی ہے تو جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا سوال یہ ہے کہ ایسے روز کتنے کیس عدالتوں میں اتے ہیں اور ان کی سماعت نہیں ہو پاتی لوگ دل برداشتہ ہو کر چلے جاتے ہیں انصاف کے معاملے میں تیزی اور بہتری لانے کی ضرورت پر زور دینا چاہیے حکمرانوں کو بھی اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے رعایہ ان کے رحم و کرم پر ہے غریب مزدوروں کے پاس کمپنیوں سے نوکریاں ختم ہو جانے یا غیر قانونی طور پر نکالے جانے یا ناانصافی کا شکار ہونے کے

بعد عدالتیں ہی واحد راستہ بچتا ہے وہ ان کا سارا دارومدار ان ججوں پر ہوتا ہے ججوں کو چاہیے کہ ایسے مقدمات کی سماعت ضرور کریں اور فیصلہ کریں فیصلہ کچھ بھی ہو 
حق میں ہو یا خلاف ہو لیکن فیصلہ جلد ہونا چاہیے انصاف فورا ملنا چاہیے انصاف میں تاخیر بھی انصاف نہیں ہے ۔ کیسا وقت ہے ایک طرف اصف ملک کا صدر ہے دوسری طرف ایک آصف ہسپتال میں پڑا اس کا کوئی پرسان حال نہیں اس کو کوئی انصاف دینے والا نہیں اس کے غریب اہل خانہ دربدر ہیں انصاف کی خاطر ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور ان پر قرضہ چڑھ گیا ہے اور ان کے کمانے والا واحد کفیل ہسپتال میں پڑا ہے ۔ غریب جائے تو جائے کہاں ۔ نیسلے کمپنی ویسے تو سماجی خدمات پر کافی فنڈ خرچ کرتی ہے لوگوں کی مدد کرتی ہے اچھے اچھے کاموں کی تشہیر بھی کرتی ہے اچھے کام بھی کرتی ہے لیکن اب اس کے ساتھ یہ ایک ایسا افسوسناک واقعہ جڑ گیا ہے جو اس کا پیچھا کرتا رہے گا اس کا ذمہ دار کون ہے نیسلے کمپنی میں بہت سے لوگ ہیں بہت سے فنڈز ہیں 
اس ایک غریب کو بھی کچھ نہ کچھ دیا جا سکتا تھا اس کے مقدمے کو اتنی زیادہ توجہ دی گئی اتنا لٹکایا گیا اور اس کے خلاف بڑے بڑے وکیل کھڑے کیے گئے اور یہ غریب مجھے برداشتہ ہو کر خود سوزی پر مجبور ہو گیا اتنی بڑی طاقتور نسلے کمپنی اور اس کے اتنے بڑے بڑے طاقتور نامور وکیل بھی جاوید اصف کو عدالت میں مقدمے میں ہرا نہیں پا رہے تھے دو عدالتی فورمز پر جاوید اصف اپنا مقدمہ جیت چکا تھا تیسرے عدالتی فورم پر فیصلہ نہیں ہوا پانچ سال سے اس کا کیس لٹکا ہوا ہے سال 2020 میں رٹ ہوئی تھی اور اج 2025 چل رہا ہے اس کے کیس کا فیصلہ نہیں ہو سکا وہ دلبرداشتہ ہو گیا اس ساری صورتحال کا ذمہ دار کون ہے کس کس کی جواب دہی ہونی چاہیےہمارے نظام انصاف پر بھی بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں حکومتی کارکردگی پر بھی باتیں ہو رہی ہیں عدالت میں پیٹرول کیسے پہنچ گیا وہاں کے سکیورٹی نظام پر بھی سوال ہو رہے ہیں ہسپتال میں پڑے مریض کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے سرکاری ہسپتالوں میں غریبوں کے ساتھ کیسا برتاؤ ہو رہا ہے اس حوالے سے بھی بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں ۔
============================
2خودکشیاں،لاہورہائیکورٹ کے احاطہ میں شہری کی خودسوزی
26 فروری ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
لاہور،اوکاڑہ،صفدرآباد (کورٹ رپورٹر،کرائم رپورٹر،کرائم رپورٹرسے،نمائندہ جنگ،نامہ نگار) لاہورہائیکورٹ کے احاطہ میں شہری نے خود سوزی کرلی ،وہ چلاتا رہا کہ اسے انصاف نہیں ملا انصاف چاہیے، پولیس اہلکاروں نے اس پرپانی پھینک کرآگ بجھائی۔ نجی کمپنی کبیروالانے درخواستگزار آصف جاویدسمیت متعدد ملازمین کو10سال قبل یونین سرگرمیوں پر نکال دیاتھا،لیبرکورٹ نےملازمین کو بحال کرکے واجبات کی ادائیگی کا حکم دیا، نجی کمپنی نےفیصلے کو5سال سےہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے۔آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نےمیو ہسپتال میں زیر علاج آصف کی عیادت کی۔دوسری جانب اوکاڑہ کے موضع کوہلہ میں 35سالہ شاہد نے درخت سے لٹک کر خود کشی کر لی، متوفی مبینہ طورپرنشہ کا عادی تھا ۔ادھرصفدرآبادکے نواحی گاؤں قلعہ میرزمان میں شادی شدہ سفینہ بی بی نے زہریلا کیمیکل پی کر خود کشی کرلی،ورثاکے مطابق خاتون پر جنات کا سایہ تھا۔دوسرے واقعہ میں مسجد قیوم صفدرآباد کے سامنے ریلوے اراضی پر جاوید اکرام سکنہ ڈھاباں کلاں کی نعش ملی،پولیس کارروائی شروع کردی گئی۔
https://e.jang.com.pk/detail/854876
==========

مصطفیٰ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی کے نئے انکشافات، کئی ملزمان کے فرار کا دعویٰ
تمام شواہد ختم ہوگئے تو مصطفٰی قتل کی تفتیش کرنا آسان نہیں ہوگا، سابق ایس ایس پی
کراچی کے علاقے ڈیفنس سے اغوا کے بعد قتل ہونے والے مصطفی عامر کے کیس میں مزید سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں، سابق ایس ایس پی نیاز احمد کھوسہ نے دعوی کیا ہے کہ پولیس کی ناقص تفتیش کے باعث مصطفی قتل کیس کے کئی اہم ملزمان ملک سے فرار ہوچکے ہیں۔
سابق ایس ایس پی نیاز احمد کھوسہ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر اپنے ہولناک انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ارمغان مصطفی کو جلانے کے بعد شیراز کے ساتھ ڈیفنس پہنچا، شیراز کے ساتھ مل کر ساری رات ڈانس پارٹی کی، انٹرنیشنل فاسٹ فوڈ چین سے برگر بھی منگوائے، دونوں نے شراب میں دھت ہوکر لڑکیوں کے ساتھ رقص کیا، دونوں نے ساری رات مصطفٰی کے قتل کا جشن منایا۔
نیاز احمد کھوسہ نے دعوی کیا کہ پولیس کی ناقص تفتیش سے کئی ملزمان دبئی اور قطر فرار ہوچکے ہیں، پولیس نے ارمغان کا بنگلہ کامران قریشی کے حوالے کردیا گیا، ارمغان کا بنگلہ اس کے والد کے حوالے فوری نہیں کرنا چاہیئے تھا۔
سابق پولیس افسر نے یہ بھی بتایا کہ تمام شواہد ختم ہوگئے تو مصطفی قتل کی تفتیش کرنا آسان نہیں ہوگا، ارمغان نے پولیس مقابلے کے دوران ہی اکاونٹ سے رقم منتقل کردی اور این وی آر سے ریکارڈنگ بھی ڈیلیٹ کردی۔
سابق ایس ایس پی نے کراچی اور بلوچستان کے پولیس افسران کا نام لیتے ہوئے ان سے شفاف تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔
مصطفی قتل کیس میں ایک اورپیش رفت، اے ایس آئی زیرحراست
مصطفی قتل کیس میں ایک اور پیش رفت سامنے آئی، گزری تھانے کے اے ایس آئی کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
ڈی آئی جی سی آئی اے کے مطابق پولیس افسر ملزم ارمغان سے رابطے میں تھا اور دیگر کاموں میں اس کا سہولت کار رہا ہے، ملزم ارمغان نے لڑکی زوما کو تشدد کے بعد پولیس افسر سے زخمی لڑکی کو لے جانے کے لیے رابط کیا تھا۔
سی آئی اے پولیس نے بتایا کہ حراست میں لیے جانے والے پولیس افسر سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
مقتول مصطفی عامرکی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل
مقتول مصطفی عامرکی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں جس میں مصطفی عامر، خوشگوار موڈ میں دوستوں کے ساتھ نظر آرہے ہیں۔
یہ ویڈیوز اب مصطفی عامر کے دوست سوشل میڈیا پر رکھ رہے ہیں اور مصطفی عامر کو بہت یاد کررہے ہیں۔ ایک ویڈیو میں مصطفٰی عامر اپنے گھر والوں کے ساتھ خوشگوارموڈ میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔
کیس کا پس منظر
یاد رہے کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے 14 فروری کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس کے علاقے سے لاپتا ہوا تھا، مقتول کی والدہ نے اگلے روز بیٹے کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔
قتل سے پہلے ٹاس: ’تجھے مارنے کا حکم قدرت کی طرف سے ہے‘، ارمغان سے تفتیش میں دل دہلا دینے والے انکشافات
25 جنوری کو مصطفیٰ کی والدہ کو امریکی نمبر سے 2 کروڑ روپے تاوان کی کال موصول ہونے کے بعد مقدمے میں اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کی گئی تھیں اور مقدمہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) منتقل کیا گیا تھا۔
بعد ازاں، اے وی سی سی نے 9 فروری کو ڈیفنس میں واقع ملزم کی رہائشگاہ پر چھاپہ مارا تھا تاہم ملزم نے پولیس پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی اے وی سی سی احسن ذوالفقار اور ان کا محافظ زخمی ہوگیا تھا۔
ملزم کو کئی گھنٹے کی کوششوں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے جسمانی ریمانڈ لینے کے لیے گرفتار ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تو جج نے ملزم کا ریمانڈ دینے کے بجائے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا، جس کے خلاف سندھ پولیس نے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی تھی۔
ملزم نے ابتدائی تفیش میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کے بعد لاش ملیر کے علاقے میں پھینک دی تھی لیکن بعدازاں اپنے بیان سے منحرف ہوگیا تھا، بعدازاں اے وی سی سی اور سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کوششوں سے ملزم کے دوست شیراز کی گرفتاری عمل میں آئی تھی جس نے اعتراف کیا تھا کہ ارمغان نے اس کی ملی بھگت سے مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کو گھر میں تشدد کا نشانہ بناکر قتل کرنے کے بعد لاش اسی کی گاڑی میں حب لے جانے کے بعد نذرآتش کردی تھی۔
ملزم شیراز کی نشاندہی کے بعد پولیس نے مقتول کی جلی ہوئی گاڑی حب سے برآمد کرلی تھی جبکہ حب پولیس مقتول کی لاش کو پہلے ہی برآمد کرکے رفاہی ادارے کے حوالے کرچکی تھی جسے امانتاً دفن کردیا گیا تھا، مصطفیٰ کی لاش ملنے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
تفتیشی افسران کے مطابق حب پولیس نے ڈی این اے نمونے لینے کے بعد لاش ایدھی کے حوالے کی تھی، گرفتار کیا گیا دوسرا ملزم شیراز ارمغان کے پاس کام کرتا تھا، قتل کے منصوبے اور لاش چھپانےکی منصوبہ بندی میں شیراز شامل تھا۔
مصطفیٰ عامر قتل کیس: ارمغان کے ہاتھوں تشدد کا شکار لڑکی نے پولیس کو بیان دے دیا
کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول مصطفیٰ کا اصل موبائل فون تاحال نہیں ملا ہے، ملزم ارمغان سے لڑکی کی تفصیلات، آلہ قتل اور موبائل فون کے حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔
بعدازاں پولیس نے لاش کے پوسٹ مارٹم کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں قبر کشائی کی درخواست دی تھی جس پر گزشتہ روز عدالت نے قبر کشائی کا حکم جاری کردیا تھا۔
ڈارک ویب سے منشیات کی سپلائی، مصطفیٰ عامر اور ساحر حسن کراچی کے بڑے منشیات ڈیلرز میں شامل، حکام کا انکشاف
دریں اثنا، 15 فروری کو ڈان نیوز کی رپورٹ میں تفتیشی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑے کی وجہ ایک لڑکی تھی جو 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی تھی، لڑکی سے انٹرپول کے ذریعے رابطے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزم ارمغان اور مقتول مصطفیٰ دونوں دوست تھے، لڑکی پر مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑا نیو ایئر نائٹ پر شروع ہوا تھا، تلخ کلامی کے بعد ارمغان نے مصطفیٰ اور لڑکی کو مارنے کی دھمکی دی تھی۔
’لڑکی سے ناراضگی نے ارمغان کو پاگل کر دیا‘، مصطفیٰ کے قتل میں شریک ملزم شیراز کے نئے انکشافات
پولیس حکام نے بتایا کہ ارمغان نے 6 جنوری کو مصطفیٰ کو بلایا اور تشدد کا نشانہ بنایا، لڑکی 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی جس سے انٹرپول کے ذریعے رابطہ کیا جارہا ہے، کیس کے لیے لڑکی کا بیان ضروری ہے۔
Mustafa Kidnapping case
Mustafa Murder Case
Armaghan
Mustafa Mother
Shiraz
==============























