
لاڑکانہ(بیورورپورٹ) سندھ کے نامور ادیب، شاعر اور صدارتی ایوارڈ حاصل کرنے والے 30 کتابوں کے مصنف ڈاکٹر ذوالفقار علی سیال مختصر علالت کے بعد کراچی کے نجی اسپتال میں انتقال کرگئے، جن کی میت تحصیل باقرانی کے گاؤں فرید آباد لائی گئی جہاں ان کی نماز جنازہ کی گئی جس میں صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ، ایم پی اے لاڑکانہ جمیل احمد سومرو، سابق صوبائی وزیر داخلہ ایم پی اے سہیل انور سیال، طارق انور سیال، ٹاؤن چیئرمین شاہ رخ انور سیال، چیئرمین ضلع کونسل لاڑکانہ اعجاز احمد لغاری، میئر لاڑکانہ ایڈووکیٹ انور علی لہر، چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر احمد علی شیخ، اعجاز شیخ جرنلسٹ عاشق پٹھان ڈاکٹر ذوالفقار سیال کے صاحبزادے شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے رجسٹرار فہد جبران سیال،


پروفیسرز، ڈاکٹرز، تاجروں سمیت مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جس کے بعد ڈاکٹر ذوالفقار سیال کو سینکڑوں اشکبار آنکھوں کے ساتھ آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا، دوسری جانب ڈاکٹر ذوالفقار سیال کے انتقال پر سابق صوبائی وزیر داخلہ ایم پی اے سہیل انور سیال اور مرحوم کے بیٹوں کے ساتھ تعزیت کا سلسلہ جاری ہے، ڈاکٹر ذوالفقار سیال نے معروف لوک کہانی بالی میر علی نواز پر پی ایچ ڈی کی، وہ چانڈکا ہسپتال لاڑکانہ، سول ہسپتال کراچی سمیت سندھ کے مختلف ہسپتالوں میں بطور میڈیکل سپرنٹینڈنٹ خدمات سر انجام دیتے رہے، ڈاکٹر ذوالفقار سیال نے بچوں کے ادب پر 17 سے زائد شاعری کی کتابیں تحریر کیں جس کا اعزاز اور کسی پاکستانی زبان کے شاعر کو حاصل نہیں یہ ہی وجہ ہے انہیں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، ڈاکٹر ذوالفقار سیال نے سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار میر علی نواز ناز اور بالی پر پی ایچ ڈی کر کے ڈبل ڈاکٹر ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا، وہ ناصرف 2 مرتبہ سندھی ادبی سنگت کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے ادبی خدمات سر انجام دیتے رہے بلکہ سندھی ٹی وی کے معروف پروگراموں واؤ سیاؤ اور سنگت کے کمپیئر بھی رہے، ڈاکٹر ذوالفقار سیال کی اردو، سندھی، سرائیکی اور دیگر زبانوں میں کی گئی شاعری برصغیر کے معروف گلوکاروں نے گائی جن میں مہدی حسن، نور جہاں سمیت دیگر فنکار شامل ہیں، ذوالفقار سیال سابق وزیر داخلہ سندھ سردار سہیل انور سیال اور طارق انور سیال کے چچا جبکہ ڈاکٹر فہد جبران سیال اور دانیال سیال کے والد ہیں۔























