اقوامِ متحدہ اور بچوں کی تعلیم

اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی بچوں کی تعلیم

دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم انسانی ترقی، معاشرتی استحکام اور عالمی امن کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ تعلیم وہ قوت ہے جو نہ صرف فرد کی زندگی کو تشکیل دیتی ہے بلکہ معاشروں کو بھی مضبوط بناتی ہے۔ اسی حقیقت کے پیشِ نظر اقوامِ متحدہ نے عالمی سطح پر بچوں کی تعلیم کو بنیاد فراہم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا مقصد ہے کہ دنیا کے ہر بچے کو، خواہ وہ کسی بھی نسل، مذہب یا ملک سے تعلق رکھتا ہو، معیاری تعلیم میسر آئے۔ یہ مضمون اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی بچوں کی تعلیم کے حوالے سے پالیسیوں، اقدامات اور چیلنجز کا تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے۔

تعلیم اور اقوامِ متحدہ کا بنیادی منشور

اقوامِ متحدہ کے چارٹر، عالمی انسانی حقوق کے اعلامیے اور بین الاقوامی معاہدوں میں تعلیم کو ہر انسان کا بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔ 1948 کے عالمی اعلامیۂ حقوقِ انسان کی شق 26 میں واضح طور پر یہ درج ہے کہ ہر شخص کو تعلیم کا حق حاصل ہے، اور ابتدائی تعلیم مفت اور لازمی ہونی چاہیے۔ یہ اصول نہ صرف انسانیت کی بقا کے لیے ضروری ہے بلکہ عالمی ترقی کے لیے بھی بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔

بعد ازاں اقوامِ متحدہ نے تعلیم کے فروغ کے لیے مختلف ادارے تشکیل دیے جن میں یونیسکو (UNESCO)، یونیسیف (UNICEF) اور UNDP نمایاں ہیں۔ یہ ادارے مل کر ایسے منصوبے چلاتے ہیں جن کا مقصد دنیا بھر میں تعلیم کے مواقع پیدا کرنا، معیارِ تعلیم بہتر بنانا اور بچوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

یونیسکو اور بین الاقوامی تعلیمی حکمتِ عملی

یونیسکو اقوامِ متحدہ کا وہ ادارہ ہے جو عالمی تعلیمی پالیسیوں کا بنیادی محور سمجھا جاتا ہے۔ اس ادارے کا مقصد تعلیم، ثقافت، سائنس اور ابلاغ عامہ کے ذریعے امن اور انسانی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

یونیسکو کی اہم کوششیں

ایجوکیشن فار آل (EFA) پروگرام
یہ پروگرام 1990 میں شروع ہوا، جس کا مقصد دنیا کے ہر بچے کو بنیادی تعلیم فراہم کرنا تھا۔

ایجوکیشن 2030 فریم ورک
پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 4 (SDG-4) کے تحت، یونیسکو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ 2030 تک تمام بچوں کو معیاری، جامع اور مساوی تعلیم فراہم کی جائے۔

اسٹیٹسٹکس اور ریسرچ
یونیسکو عالمی تعلیمی اعدادوشمار جاری کرتا ہے تاکہ پالیسی ساز بہتر فیصلے کر سکیں۔

یونیسکو خاص طور پر اُن ممالک میں زیادہ سرگرم ہے جہاں جنگ، غربت یا قدرتی آفات کے باعث تعلیم کا نظام متاثر ہوتا ہے۔

یونیسیف اور بچوں کی تعلیم کا تحفظ

یونیسیف دنیا بھر کے بچوں کی فلاح و بہبود کا سب سے بڑا عالمی ادارہ ہے۔ اس کا بنیادی مشن ہے کہ ہر بچے کو تعلیم، صحت، تحفظ اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔

یونیسیف کی تعلیمی سرگرمیاں

بحران زدہ علاقوں میں عارضی اسکول قائم کرنا

لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا

تعلیمی مواد، کتابیں، یونیفارم اور سہولیات فراہم کرنا

معذور بچوں کے لیے خصوصی پروگرام

اساتذہ کی تربیت اور اسکول سسٹم کی مضبوطی

دنیا بھر میں لاکھوں بچے غربت، تنازعات، جبری مشقت، کم عمری کی شادیاں اور بچوں کی اسمگلنگ جیسے مسائل کے باعث تعلیم سے محروم ہیں۔ ان حالات میں یونیسیف کا کردار انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) اور تعلیم

پائیدار ترقی کا ہدف نمبر 4 (SDG-4) خاص طور پر تعلیم سے متعلق ہے۔ اس کا مقصد ہے:

معیاری اور مفت بنیادی تعلیم

لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے مساوی مواقع

معذور اور پسماندہ بچوں کی شمولیت

تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کا فروغ

اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی انفراسٹرکچر میں بہتری

عالمی سطح پر تعلیم کے یہ اہداف اقوامِ متحدہ کی سنجیدگی کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

بچوں کی تعلیم کے عالمی چیلنجز

اگرچہ اقوامِ متحدہ کے اقدامات انتہائی مؤثر ہیں، لیکن دنیا کے کئی حصوں میں بچوں کی تعلیم اب بھی سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔

1. غربت

غربت دنیا بھر میں تعلیم کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ لاکھوں بچے اسکول جانے کے بجائے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔

2. جنگ اور تنازعات

شام، فلسطین، افغانستان اور افریقی ممالک میں جنگوں نے اسکولوں کو تباہ کر دیا ہے، جس سے بچے تعلیم سے محروم ہیں۔

3. صنفی عدم مساوات

کئی ممالک میں لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی یا معاشرتی رکاوٹیں انہیں اسکول جانے سے روکتی ہیں۔

4. کمزور تعلیمی معیار

بہت سے ممالک میں بنیادی ڈھانچہ، تربیت یافتہ اساتذہ، اور تعلیمی مواد کی کمی کی وجہ سے معیارِ تعلیم کمزور ہے۔

5. قدرتی آفات

سیلاب، زلزلے اور دیگر آفات اسکولوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بچوں کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔

پاکستان اور اقوامِ متحدہ کا تعلیمی تعاون

پاکستان میں تقریباً دو کروڑ سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں، جو دنیا کا دوسرا بڑا غیر رسمی تعلیمی بحران ہے۔ اقوامِ متحدہ نے پاکستان کے ساتھ مختلف منصوبوں پر تعاون کیا ہے:

اسکولوں کی مرمت و تعمیر

سیلاب زدہ علاقوں میں عارضی تعلیمی مراکز

لڑکیوں کی تعلیم کے پروگرام

اساتذہ کی تربیت

غذائیت اور صحت کے ساتھ مربوط تعلیمی منصوبے

یونیسیف اور یونیسکو پاکستان میں صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایسے پروگرام چلا رہے ہیں جن کا مقصد بچوں کے اسکول جانے کی شرح بڑھانا ہے۔

ڈیجیٹل تعلیم اور اقوامِ متحدہ کا کردار

جدید دنیا میں ٹیکنالوجی کی اہمیت کے پیش نظر اقوامِ متحدہ نے ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ پر خصوصی توجہ دی ہے۔ COVID-19 کی وبا کے دوران کروڑوں بچے اسکولوں سے محروم ہو گئے، جس کے بعد اقوامِ متحدہ نے آن لائن تعلیم، ای-لرننگ پلیٹ فارمز، ٹیلی اسکولنگ اور ڈیجیٹل مواد کے منصوبے شروع کیے۔

ڈیجیٹل تعلیم نہ صرف ہنگامی حالات میں مدد دیتی ہے بلکہ دور دراز علاقوں میں بچوں کے لیے تعلیم کو قابلِ رسائی بناتی ہے