
سندھ لٹریچر فیسٹیول کا دوسرا دن۔
معروف شاعر آکاش انصاری کے متعلق سیشن۔
وزیر تعلیم سردار شاہ ، میرا آکاش ، ذوالفقار فقیر ، علی زاہد اور سیف سمیجو نے خیالات کا اظہار کیا۔
وزیر تعلیم سردار شاہ نے کہا کہ میرے لیئے مشکل ہے کہ شدید نفرتوں اور شدید محبتوں کا اظہار نہیں کر سکتا۔
محبت انسانوں سے ہوتا ہے
آکاش انصاری میرا دوست تھا۔
آکاش انصاری کی شاعری موہن جو دڑو کی رقص تھی۔
آکاش انصاری کی اپنی مٹی سے محبت تھی۔
آکاش نے حاجی احمد ملاح کو پڑھا تھا۔
آکاش انصاری کی پوری شاعری انسانیت کی شاعری ہے
مزاحمت سماج کو تبدیل کرنے کے لیئے ہوتی ہے
آکاش کی والدہ شاہ عبد الطیف بھٹائی کی حافظہ تھیں
آکاش کی شاعری میں تاریخ کا ادراک اور وزڈم شامل ہے۔ 
آکاش ایک موسیقار بھی تھا اپنی شاعری کی دھنیں خود بناتا تھا۔
ون یونٹ کے بعد جدید سندھی شاعری میں ابھار آئی
شیخ ایاز کے بعد کسی نے جدید شاعری میں جگہ بنائی تو وہ آکاش انصاری تھے
الطاف حسین سندھیوں کا قتل عام کرنے کے بعد حیدر آباد میں آکاش انصاری کی شاعری پڑھتا تھا۔
تمام مکتبہ فکر کے لوگ ان کی شاعری پڑھتے تھے۔
ھر تخلیق کار زندگی کے ایک اسٹیج پر اپنا اعتراف کرتا ہے
آکاش کا المیہ سندھ کے تمام قومی کارکنوں کا المیہ ہے
وزیر تعلیم نے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اسٹال کا دورہ بھی کیا
======================
نصیر آباد میں ریلوے ٹریک تباہ ، جعفر ایکسپریس بال بال بچی
ضلع نصیرآباد بلوچستان میں جعفر ایکسپریس ایک بار پھر دہشت گردی کا نشانہ بننے سے بال بال بچ گئی۔
پولیس کے مطابق ضلع نصیرآباد میں نوتال کے مقام پر نامعلوم افراد نے ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑادیا۔
کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس منسوخ
جعفر ایکسیریس کے گزرنےکے بعد ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا جس کے باعث ٹرین محفوظ رہی۔ٹرین کوئٹہ سے پشاور جارہی تھی۔
یاد رہے ماضی میں بھی جعفر ایکسپریس کو کئی بار نشانہ بنایا جاچکا ہے ۔واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے ۔























