جنگ مخالف تنظیموں کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف لندن میں ایک بڑا مظاہرہ کیا گیا۔
جنگ مخالف تنظیموں کے زیراہتمام ہفتہ کو وسطی لندن میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حماس کی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اب بھی بلا خوف غزہ میں روزانہ حملے کرکے فلسطینیوں کو ہلاک کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود دنیا خاموشی سے تماشا دیکھ رہی ہے۔
مظاہرے میں بارش اور سخت سردی کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد شریک تھی، اسرائیلی جارحیت کے بعد ہونے والے مظاہروں ہر طرح کے موسم کے دوران شرکاء کی تعداد میں کوئی فرق نہیں پڑا۔
اس موقع پر مظاہرے کا آغاز ہائیڈ پارک کارنر سے ہوا اور شرکاء مختلف شاہراہوں سے ہوتے وائیٹ ہال پہنچے، مظاہرے کے شرکاء تمام راستے اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں نعرے بلند کرتے رہے۔
مظاہرے میں شریک مختلف جنگ مخالف تنظیموں کے رہنماؤں کے علاوہ شرکاء کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا سلسلہ بند کرے اور اپنا غیر قانونی تسلط ختم کرے۔
انہوں نے برطانیہ سے بھی مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت بند کرے۔
شرکاء نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے خوراک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی افسوناک ہے، غزہ میں لوگ روزانہ بمباری کے علاوہ بھوک سے بھی ہلاک ہو رہے ہیں، اسرائیل فوری طور پر خوراک اور ضروریات زندگی کی اشیاء غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے۔
غزہ کی ہیلتھ منسٹری کے مطابق نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کو دو برس سے زائد کا عرصہ بیت گیا جس کے دوران 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔























