
برطانوی جریدے اکانومسٹ نے لکھا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی تیسری شادی نے محض ذاتی زندگی ہی نہیں، ان کی حکمرانی کے انداز کو بھی گہرے سوالات کے زد میں لاکھڑا کیا ہے۔ حکومتی حلقوں اور سابق معاونین کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بشری بی بی نے اہم تقرریوں اور روزمرہ سرکاری فیصلوں تک اثر انداز ہونے کی کوشش کی، جس سے عمران خان کے فیصلہ سازی کے عمل پر ”روحانی مشاورت“ کا رنگ غالب ہونے کی شکایات پیدا ہوئیںں ۔وہ اپنے اصلاحاتی ایجنڈے میں ناکام رہے۔۔بعض مبصرین کے مطابق مقتدر حلقوں کے چند افراد مبینہ طور پر ایسے اشارے اور معلومات بشری بی بی تک پہنچاتے رہے جو بعد ازاں عمران خان کے سامنے روحانی ”بصیرت“ کے طور پر پیش کی جاتی تھیں
======================

بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں شرکت کے بعد مختلف ممالک کے پارلیمانی وفود اسلام آباد سے اپنے اپنے ممالک روانہ
اسلام آباد :بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں شرکت کے بعد گھانا (GHANA)، صربیا (SERBIA)، کینیا (KENYA)، نیپال (NEPAL) کے وفود اپنے اپنے ممالک روانہ ہو گئے۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر سینیٹ کے اعلیٰ حکام نے وفود کو الوداع کیا، جبکہ تمام وفود نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی شاندار میزبانی، بہترین انتظامات اور پاکستان کی جانب سے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر اظہارِ تشکر کیا۔
گزشتہ روز بھی بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں شرکت کے بعد مختلف ممالک کے پارلیمانی وفود اسلام آباد سے اپنے اپنے ممالک روانہ ہوئے۔ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں شرکت کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں سے آنے والے پارلیمانی وفود پاکستان سے اپنے اپنے ممالک واپس روانہ ہو گئے۔ بین الاقوامی سطح پر پارلیمانی تعاون، مکالمے اور مشترکہ اہداف کے فروغ کے لیے منعقدہ اس کانفرنس کو غیر معمولی طور پر کامیاب قرار دیا گیا۔
روانگی کے موقع پر وفود نے پاکستان کی میزبانی، کانفرنس کے انتظامات اور چیئرمین سینیٹ کی کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ سینیٹ آف پاکستان کے اعلیٰ حکام نے تمام وفود کو ایئرپورٹ پر الوداع کہا۔
تمام وفود نے پاکستان کی سیاسی قیادت، بالخصوص چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ وفود نے اس امید کا اظہار کیا کہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کا یہ پلیٹ فارم امن، ترقی، سلامتی اور خطوں و ممبر ممالک کی خوشحالی کے لیے مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ مکالمے، رابطے اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کا یہ سلسلہ مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا۔























