
چیف آف ڈیفنس فورسز یا آرمی چیف! Asal Kahani Hy Kiya?? نوٹیفکیشن کب اور کیسے؟ | خصوصی
چیف آف ڈیفنس فورسز یا آرمی چیف! Asal Kahani Hy Kiya?? نوٹیفکیشن کب اور کیسے؟ | خصوصی
Chief of Defence Forces Ya Army Chief! Asal Kahani Hy Kiya?? Notification Kab aur Kaisy? | Exclusive

==================
پاکستان نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے بےبنیاد بیان کو مسترد کردیا: دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے بےبنیاد بیان کو مسترد کر دیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کی منظور کردہ 27ویں آئینی ترمیم پر اقوام متحدہ کی بےجا تشویش ناقابل فہم ہے، آئینی ترامیم عوام کے منتخب نمائندوں کا مکمل اختیار ہے، جمہوری طریقہ کار کا احترام ہونا چاہیے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان انسانی حقوق، انسانی وقار، بنیادی آزادیوں، قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے عزم پر قائم ہے، افسوس ہے پاکستان کا مؤقف اور زمینی حقائق اقوام متحدہ کے بیان میں شامل نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے
27 ویں ترمیم اور آئینی عدالت کے ججوں کی تقرری کے خلاف درخواست
27 ویں ترمیم کی ہولناک تفصیلات سامنے آرہی ہیں جو شرمناک ہیں، حافظ نعیم
ترجمان نے کہا کہ ہائی کمشنر خودمختار فیصلوں کا احترام کریں اور سیاسی تعصب اور غلط معلومات پر مبنی تبصروں سے گریز کریں۔
واضح رہے کہ اقوامی متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر نے جمعے کو کہا تھا کہ پاکستان میں جلد بازی میں منظور کی گئی آئینی ترمیم عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر نے کہا کہ گزشتہ سال 26ویں آئینی ترمیم کی طرح یہ ترمیم بھی وکلاء برادری اور سول سوسائٹی سے بڑے پیمانے پر مشاورت اور بحث کے بغیر کی گئی۔
=========================
ایف سی ہیڈ کوارٹرز خودکش دھماکا: تینوں حملہ آوروں کے افغان شہری ہونے کی تصدیق
پشاور: (عامر جمیل) پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے خودکش دھماکوں سے متعلق تفتیش جاری کر دی گئی۔
تفتیشی حکام کے مطابق نادرا نے ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کرنے والے تینوں حملہ آوروں کی افغان شہریت کی تصدیق کر دی ہے، تاہم نادرا کو حملہ آوروں کی مزید تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئیں۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے متعلق اب تک 100 سے زیادہ مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے، حملہ آوروں کی رحمان بابا قبرستان سے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز تک آمد کی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ تفتیشی ٹیم سہولت کار کی کھوج لگا رہی ہے، حملے کے دن خودکش حملہ آوروں کے زیر استعمال کوئی موبائل فون نہیں تھا۔
واضح رہے کہ 24 نومبر کو فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز میں خودکش دھماکے ہوئے تھے جس میں 3 ایف سی اہلکار شہید جبکہ تینوں حملہ آور ہلاک ہوئے تھے۔
پولیس نے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کا مقدمہ سی ٹی ڈی میں درج کرایا تھا۔
پولیس کے مطابق مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف مقامی ایس ایچ او عبداللہ جلال کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق دہشت گردوں نے ملکی سالمیت اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، تین موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا، ایک حملہ آور نے گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑایا، دو حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے، جائے وقوعہ سے 27 سے زیادہ خول برآمد ہوئے۔
پولیس کے مطابق ایف سی ہیڈکوارٹرز پر تین دہشت گردوں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں تین جوان شہید اور 11 زخمی ہوئے تھے۔























