
آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کی سندھ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جاوید مہر شمسی کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں اراکین نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا 15:85کے نظام کو برقرار رکھتے ہوئے سرکاری اشتہارات کی ادائیگی کے موجودہ طریقہ کار کی بجائے ایجنسیوں کے ذریعے ادائیگی کا پرانا نظام بحال کیا جائے۔اراکین نے پی آئی ڈی کی جانب سے سندھ کے اخبارات کو نظر انداز کرنے اور ادائیگی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ پی آئی ڈی کے جاری کردہ اشتہارات کی جلد ادائیگی ممکن بنائی جائے ۔اراکین نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ محکمہ اطلاعات سندھ کی طرف سے اخبارات و جرائد کو اشتہارات کا اجراء طے شدہ حجم کے برعکس کم ترین سطح پر آگیا ہے جبکہ اشتہارات کے اجراء میں اے پی این ایس رکن مطبوعات کو یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ پرنٹ میڈیا کیلئے اشتہارات کا حجم بڑھایا جائے تاکہ وہ اپنی اشاعت برقرار رکھ سکیں۔ کمیٹی کے اراکین نے نان بجٹڈ اشتہارات کی ادائیگی کے نظام کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پرانا نظام بحال کیا جائے اور حسب سابق ان اشتہارات کی ادائیگی ماہانہ بنیاد پر محکمہ اطلاعات سندھ کی طرف سے کی جائے ۔ اجلاس نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ محکمہ اطلاعات سند ھ کی طرف سے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر سے پرنٹ میڈیا شدید بحران کا شکار ہے۔اجلاس نے مطالبہ کیا کہ واجبات کی ادائیگی جلد از جلد کی جائے۔اجلاس میں سرمد علی صدر، جاوید مہر شمسی چیئرمین ، یونس مہر نائب چیئرمین، ممتاز علی پھلپوٹو، علی بن یونس ، نجم الدین شیخ ، شبیر حسین ، اقبال حسین تنیو، زاہدہ عباسی، قاضی سجاد اکبر، محمد عرفان اور شاہد ساٹی نے شرکت کی۔
=========================
معروف صنعتکار محمد علی ٹبہ اور مصدق ذوالقرنین کا ملکی معیشت پر اظہار تشویش
کراچی (ٹی وی رپورٹ)ملک کے معروف صنعتکار محمد علی ٹبہ اور مصدق ذوالقرنین کا ملکی معیشت پر اظہار تشویش ۔ پروگرام’’ نیا پاکستان‘‘ میں حکومت کی معاشی پالیسیز پر تنقید کرتے ہوئے محمد علی ٹبہ نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے موزوں حالات نہیں ہیں ۔ ہماری گروتھ ساڑھے تین فیصد پر پھنس کر رہ گئی ہے جبکہ بھارت میں گروتھ کی شرح 8فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ تنخواہ دارطبقے اورانڈسٹری پر ٹیکس کم کرنے کی ضرورت ہے ۔مصدق ذوالقرنین کا کہنا تھا کہ ٹیکس کی شرح میں کمی کے لیے آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی ضرورت ہے ۔ آج زرعی،مینوفیکچرنگ اورریئل اسٹیٹ تمام سیکٹرز کا براحال ہے ۔ اب ٹھوس اقدامات لینے کاوقت آگیا ۔ ایکسچینج ریٹ کو کنٹرول کرنا اور سپرٹیکس ختم کریں ۔ملکی معیشت کو لے کر حکومت اور ایس آئی ایف سی دونوں کو خدشات ہیں ۔توانائی کے سیکٹر میں بہت خرابیاں ہیں جنہیں درست ہونے میں بہت وقت لگے گا۔وفاقی حکومت بے نظیر انکم سپورٹ کو کیوں فنڈ کرتی ہے یہ کام صوبائی حکومتوں کو دیں ۔درآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے برآمدات نہیں بڑھ رہے۔ میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کرتے ہوئے ملک کے معروف صنعت کار محمد علی ٹبہ اور مصدق ذالقرنین نے ملکی معیشت پر تشویش کا اظہار کیا حکومت کی معاشی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے محمد علی ٹبہ نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے موزوں حالات نہیں ہیں مصدق ذوالقرنین کا کہنا تھا کہ ٹیکس کی شرح میں کمی کے لیے آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی ضرورت ہے۔ صحافی منیب فاروق اور تجزیہ کار محمد مالک کے بقول حکومت نے تحریک انصاف پر سخت دباؤ ڈال رکھا ہے اور سیاسی اسپیس تقریباً ختم ہو چکی ہے ۔ منیب فاروق کے مطابق بھارت میں انٹرویوز دینے کا مقصد اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دینا ہے مگر یہ پارٹی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ محمد مالک نے کہا کہ حکومت کے کنٹرول میں سب کچھ ہے پھر بھی جان بوجھ کر تصادم کی فضا پیدا کی جا رہی ہے ۔ پاکستان کی معیشت سے متعلق صنعت کار محمد علی ٹبہ نے کہا کہ ہر روز ملز بند ہو رہی ہیں اگلے چھ ماہ میں اسپننگ کا پچاس فیصد کام ٹھپ ہوجائے گا۔ پاکستان کے لیے سرمایہ کاری کے لیے موزوں حالات نہیں ہیں۔ ہماری گروتھ تین ساڑھے تین فیصد پر پھنس گئی، بھارت میں گروتھ کی شرح آٹھ فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ تنخواہ دار طبقے اور انڈسٹری پر ٹیکس کم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد میں ایک مائنڈ سیٹ ڈیولپ ہے کہ حکومت نے بہت کوشش کی ہے لوگوں نے اور ہم نے بہت قربانیاں دے کر معیشت کو مستحکم کیا ہے ۔ جو اقدامات کیے گئے ہیں جس سے پاکستان کی انڈسٹری میں مسائل بڑھ رہے ہیں ایک طرف لاگت بڑھتی جارہی ہے دوسری طرف حکومت نے ٹیرف کیے ہیں کہ امپورٹ ڈیوٹی بہت زیادہ ہیں چاہے یوٹیلیٹی کاسٹ ہو یا ٹیکسیشن وہ اس خطے سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک دفعہ جب کوئی پلانٹ بند ہوجائے تو وہ دوبارہ نہیں لگ سکتا۔صنعت کار مصدق ذوالقرنین نے کہا کہ ملکی معیشت کو لے کر حکومت اور ایس آئی ایف سی دونوں کو خدشات ہیں۔ کھپت والی گروتھ کے بجائے انڈسٹریل گروتھ کی طرف جانا ضروری ہے۔ درآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے برآمدات نہیں بڑھ رہے۔ وفاقی حکومت بے نظیر انکم سورٹ کو کیوں فنڈ کرتی ہے یہ کام صوبائی حکومتوں کو دیں۔ توانائی کے سیکٹر میں بہت خرابیاں ہیں جنہیں درست ہونے میں بہت وقت لگے گا۔ آئی ایم ایف کو ٹیکس کی شرح میں کمی لانے کے لیے قائل کرنے کی ضرورت ہے۔ آج زرعی، مینوفیکچرنگ اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر سب کا برا حال ہے۔ ایس آئی ایف سی اور حکومت دونوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ اسی لیے نو ورکنگ گروپ بنائے گئے ہیں جس ورکنگ گروپ کو میں چیئر کر رہا تھا اس میں وزیراعظم نے بہت وقت دیا اور ہماری تجویز کو فوری طور پر اپرو کیا اور اس سے ایک پیغام ضرور گیا کہ یہ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ مسائل سب جانتے ہیں اس کا حل یہ ہے کہ ہم جب اپنا فزیکل ڈیفسٹ نیچے کرنا ناگزیر ہے۔ کچھ ان ڈاکیومنٹ کارپوریٹ سیکٹر ہے جو اپنے حصے کا ٹیکس نہیں دے رہے ہیں اور ان کا سارا لوڈ تنخواہ دار طبقہ اور ٹیکس نیٹ میں موجود لوگوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ کہیں ان مسائل کو حل کرنے کی ول نہیں ہوتی کہیں کوئی ویسٹرن انٹرسٹ آجاتا ہے کہیں صلاحیت نہیں ہے ۔ایس آئی ایف سی کے نیشنل کورڈینٹر نے کہا ہے کہ ہمارا چینج ریٹ مینجڈ ہے ۔ کچھ نہ کچھ ٹھوس اقدامات کرنے پڑیں گے ۔























