فصلوں کی پیداوار اور حفاظت کے لیے استعمال ہونے والی کیڑے مار ادویات (پیسٹیسائیڈز) کی نگرانی کے لیے سائنسدانوں نے ایک جدید اور تیز ترین طریقہ تجویز کیا ہے، جس سے مٹی، پانی اور خوراک میں مضر کیمیاوی مادّوں کی موجودگی فوری اور کم خرچ انداز میں معلوم کی جا سکتی ہے۔
امریکی یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن کے انزائم انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر سندرم گُناسیکارن کی قیادت میں ماہرین اور پاکستان کی سندھ زراعت یونیورسٹی کی ڈاکٹر آؽیْا اکبر پنهور انزائم اور نینو میٹریل پر مبنی پورٹیبل سینسرز تیار کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ سینسرز فصلوں سے کم مقدار میں باقی رہ جانے والے مضر مادّوں کی درست شناخت کر سکتے ہیں اور لیبارٹری کے بغیر کھیت یا مارکیٹ میں استعمال کے قابل ہیں۔
ڈاکٹر پنهور نے کہ کہ اس تکنیک کے چند بڑے فوائد ہیں، جن میں چند منٹوں میں فوری نتائج حاصل ہونا، مہنگے لیبارٹری ٹیسٹ کی ضرورت نہ ہونا، پورٹیبل اور فوری استعمال کی سہولت، اور انتہائی کم مقدار میں بھی درست نتائج شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ سینسرز نہ صرف فصلوں اور خوراک کی حفاظت بلکہ پانی اور مٹی کی آلودگی کی نگرانی میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ مستقبل میں انہیں اسمارٹ فون سے مربوط کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کاشتکار موبائل ایپ کے ذریعے فوراً نتائج دیکھ سکیں۔
یہ ٹیکنالوجی خوراک کے ضیاع اور آلودگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور پائیدار ترقی کے عالمی اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔























