صوبہ سندھ میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے متعلق محکمہ انسانی حقوق سندھ کے اشتراک سے گول میز اجلاس کا انعقاد

مور خہ 30نومبر 2025

کراچی30 نومبر ۔محکمہ انسانی حقوق حکومتِ سندھ نے ایک مقامی ہوٹل میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی گول میز اجلاس کا انعقاد کیا۔ اجلاس کی صدارت ڈائریکٹر محکمہ انسانی حقوق سندھ آغا فخر حسین نے کی۔ اجلاس میں سینئر سرکاری افسران، ترقیاتی اداروں کے نمائندگان، سول سوسائٹی کے اراکین اور ماہرینِ موسمیات نے شرکت کی۔ اجلاس کا اہتمام CSSP کے منیجر عبدالواحد سنگراسی اور کلائمیٹ اسمارٹ نیٹ ورک کے چیئرمین نواز کھمبر نے کیا تھا۔ اپنے افتتاحی کلمات میں ڈائریکٹر آغا فخر حسین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ سندھ کو درپیش سب سے بڑا انسانی حقوق کا چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول کو بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات زندگی، صحت، خوراک، پانی، تعلیم اور رہائش جیسے بنیادی حقوق تک گہرائی سے پہنچتے ہیں اور ان کا غیر متناسب اثر خواتین، بچوں اور پسماندہ طبقات پر پڑتا ہے۔اجلاس کے دوران شرکاء نے دادو اور جامشورو کے منچھر جھیل کے علاقے میں انسانی حقوق سے متعلق حالیہ انکوائری کے نتائج کا جائزہ لیا۔ انکوائری میں موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی غربت کے سنگین اثرات سامنے آئے جن میں روزگار کا وسیع پیمانے پر خاتمہ، آبادی کی بے دخلی، بچپن کی شادیوں میں اضافہ اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شامل تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ متاثرہ خاندانوں کو شناختی دستاویزات اور اسکول ریکارڈ کی عدم موجودگی کے باعث انصاف اور ضروری خدمات تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈائریکٹر آغا فخر حسین نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی موافقت کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو مرکزی حیثیت دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر موبائل نادرا یونٹس بھیجنے، لڑکیوں کی تعلیم کے لیے موسمیاتی لحاظ سے مضبوط اسکول قائم کرنے، اور بچپن کی شادیوں کی روک تھام کے لیے کمیونٹی سطح کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماہی گیری، دستکاری، چھوٹی صنعتوں اور خواتین کی قیادت میں کاروبار سے روزگار کی بحالی کو مستحکم کیا جائے، اور عوام کے مکانات کی اسکیم کے تحت موسمیاتی لحاظ سے محفوظ رہائش فراہم کی جائے۔ ڈائریکٹر آغا فخر حسین نے سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی کی استعداد کار بڑھانے، خصوصاً مون سون کے موسم میں، کے ساتھ ساتھ موسمیاتی موافقت اور بحالی کے لیے مختص فنڈز میں ایک مخصوص ’’انسانی حقوق بجٹ‘‘ رکھنے کی سفارش بھی کی۔اپنے اختتامی کلمات میں ڈائریکٹر آغا فخر حسین نے کہا کہ موسمیاتی مضبوطی انسانی حقوق کے بغیر نامکمل ہے اور انسانی حقوق موسمیاتی عمل کے بغیر ممکن نہیں۔

ہینڈآؤٹ نمبر 1344۔۔۔