مہینوں کے انتظار کے بعد آخرکار گوگل نے اپنے جدید AI اسسٹنٹ جیمنائی کو اینڈرائیڈ آٹو میں محدود طور پر متعارف کرانا شروع کر دیا ہے۔
جیمنائی (Gemini) کے طور پر آپ کی گاڑی میں اب ایک ہوشیار اے آئی اسسٹنٹ آپ کو مدد فراہم کرے گا، یہ نیا فیچر بعض گاڑیوں میں گوگل اسسٹنٹ کی جگہ لے رہا ہے، کمپنی چاہتی ہے کہ اس کا ’بات چیت کرنے والا‘ اے آئی ہر قسم کے ڈیوائس پر موجود ہو۔
صارفین نے رپورٹ کیا ہے کہ اینڈرائیڈ آٹو کے ورژن 15.6 اور 15.7 میں جیمنائی فیچر ان کی گاڑیوں میں ظاہر ہو رہا ہے۔ یہ اپ ڈیٹ فی الوقت صرف بیٹا ٹیسٹرز کے لیے دستیاب ہے۔ جن صارفین کو یہ فیچر ملا ہے ان کے پاس جیمنائی سے متعلق نئی سیٹنگز بھی نظر آ رہی ہیں، جن میں اے آئی اسسٹنٹ کے ساتھ درست لوکیشن ڈیٹا شیئر کرنے کا آپشن شامل ہے۔
جب جیمنائی کا اجرا مکمل ہو جائے گا، تو یہ اینڈرائیڈ آٹو اور ’گوگل بلٹ اِن‘ والی گاڑیوں کے لیے ایک معیاری وائس اسسٹنٹ بن جائے گا، یہ ایک زیادہ سمجھ دار اور فطری ساتھی ڈرائیور ہے۔
گاڑیوں میں جیمنائی لانے کا مقصد آواز کے ذریعے ہونے والی گفتگو کو زیادہ فطری، سیاق و سباق پر مبنی اور انسانی انداز میں لانا ہے۔ یہ 40 سے زائد زبانوں میں ترجمہ کر سکتا ہے، صارف کی عادات کو یاد رکھتا ہے، اور گفتگو کے سیاق و سباق کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جیمنائی کی وجہ سے اب صارفین گوگل میپس، یوٹیوب میوزک اور اسپوٹیفائی تک براہِ راست رسائی کر سکیں گے، وہ ریسٹورنٹ ریویوز دیکھ سکیں گے، مقامات کا خلاصہ حاصل کر سکیں گے، اور فون کو چھوئے بغیر جی میل یا کیلنڈر سے متعلق معلومات بھی یکجا کر سکیں گے۔
اس اپ ڈیٹ میں ’’جیمنائی لائیو‘‘ بھی شامل ہے یعنی صارفین Hey Google, let’s talk کہہ کر مزے سے دو طرفہ گفتگو شروع کر سکیں گے، اسمارٹ فون ورژن کے برعکس، اینڈرائیڈ آٹو میں جیمنائی کی گفتگو مختصر اور جامع ہوگی تاکہ ڈرائیور کی توجہ سڑک سے نہ ہٹے۔
یہ بالکل گوگل اسسٹنٹ کی طرح پیغامات بھیجنے، موسیقی چلانے اور نیویگیشن کنٹرول کرنے جیسے کام انجام دے گا، لیکن فرق یہ ہے کہ اب اس کا انداز زیادہ فطری، ہموار اور انسانی محسوس ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ گاڑیوں میں جیمنائی کا مستقبل کیا ہوگا؟ گوگل کے مطابق اب دنیا بھر میں 25 کروڑ سے زائد گاڑیاں اینڈرائیڈ آٹو کو سپورٹ کر رہی ہیں، ایسے میں جیمنائی کا انضمام گوگل کے لیے سب سے بڑے AI اجرا میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ فی الحال اس فیچر تک رسائی صرف محدود بیٹا صارفین کے لیے ہے، لیکن توقع ہے کہ گوگل ابتدائی فیڈبیک حاصل کرنے کے بعد آئندہ چند ہفتوں میں اسے عام صارفین کے لیے جاری کر دے گا۔























