“میٹا نے جعلی اشتہارات سے اربوں ڈالر کمائے، انکشاف”

نئے دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنی میٹا ہر سال فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر دھوکا دہی اور ممنوع اشیاء سے متعلق اشتہارات چلا کر اربوں ڈالر کما رہی ہے۔

بین الاقوامی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق گزشتہ برس کے آخری میں ٹیکنالوجی کمپنی کی جانب سے اندرونی طور پر تخمینہ لگایا گیا کہ کمپنی اپنی سالانہ آمدنی کا تقریباً 10 فی صد (16 ارب ڈالر) جعلی ای-کامرس اور سرمایہ کاری کی اسکیمز، غیر قانونی آن لائن کیسینو اور ممنوع طبی اشیاء کی فروخت سے کمائے گی۔

ماضی میں سامنے نہ آنے والے دستاویزا میں یہ بھی بتایا گیا کہ سوشل میڈیا کمپنی گزشتہ کم از کم تین برسوں میں ایسے جعلسازی اور غیر قانونی اشیاء کی فروخت کے اشتہارات کی نشان دہی کرنے اور فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے اربوں صارفین کو ان سے بچانے میں ناکام رہی ہے۔

دسمبر 2024 کے ایک دستاویز کے مطابق کمپنی اپنے پلیٹ فارمز پر صارفین کو ایک اندازے کے مطابق روزانہ اوسطاً 15 ارب انتہائی خطرناک جعلسازی کے اشتہارات (ایسے اشتہارات جن میں جعلسازی کے واضح اشارے موجود ہوتے ہیں) دکھاتی ہے۔

2024 کے ایک اور دستاویز میں بتایا گیا کہ میٹا سالانہ جعلسازی کی اس کیٹگری سے تقریباً 7 ارب ڈالر کماتا ہے۔