برطانیہ کی انگلیا رسکن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بچپن کی یادیں واپس لانے کا حیرت انگیز طریقہ دریافت کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر کوئی شخص خود کو اپنے بچپن کی شکل میں تصور کرے، تو وہ اپنی بچپن کی یادوں کو زیادہ بہتر طریقے سے یاد کر سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق جب بالغ افراد نے ایک خصوصی تجربے میں اپنی شکل کو اسکرین پر بچپن جیسا تبدیل شدہ دیکھا، تو ان کے لیے ماضی کے تجربات اور یادیں زیادہ واضح اور تفصیلی ہو گئیں۔
ماہرین نے اس تجربے کو چہرے کا وہم (Enfacement Illusion) کا نام دیا ہے، یعنی ایک بصری چال جس میں انسان کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اس کا چہرہ کسی اور عمر یا حالت میں ہے۔
نتائج کے مطابق جن شرکاء نے خود کو بچپن کے روپ میں دیکھا، وہ اپنی ماضی کی کہانیاں اور بچپن کے مناظر زیادہ مؤثر انداز میں یاد کر پائے۔
تحقیق کے سربراہ اتکرش نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ جسمانی شناخت میں معمولی تبدیلی بھی انسان کے ذہن کو ماضی میں لے جا سکتی ہے، جب کوئی شخص خود کو اپنے بچپن کی شکل میں دیکھتا ہے، تو بچپن کی یادوں تک رسائی حیرت انگیز طور پر آسان ہو جاتی ہے۔
ماہرِ نفسیات جین ایسپل نے کہا کہ یادیں صرف دماغی عمل نہیں بلکہ جسمانی احساسات سے بھی جڑی ہوتی ہیں جب انسان اپنے پرانے خود کے چہرے کو دوبارہ محسوس کرے، تو بھولی بسری یادیں پھر سے زندہ ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں یہ تکنیک یادداشت کھو بیٹھنے والے مریضوں اور نفسیاتی علاج کے میدان میں ایک انقلابی پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔























