خود فریبی اور احساس کمتری کا شکار قوم

خود فریبی اور احساس کمتری کا شکار قوم
تحریر شہزاد بھٹہ
پاکستانی قوم کا بس چلے تو اپنی گاڑیاں اپنے بیڈ روم دفاتر اور شاپنگ مال کے اندر لے جائیں
کل ازمیر ٹاؤن لاھور میں ایک فری ہیلتھ کیمپ میں جانے کا اتفاق ھوا جو کھلی گراؤنڈ میں لگایا گیا تھا جب گروانڈ میں پہنچے تو اپنی گاڑی باھر پارکنگ میں کھڑی کی اور پیدل گروانڈ میں بنائے گئے کیمپ کی طرف چل دیئے تو دیکھ کر حیرانگی اور افسوس ھوا کہ کچھ گاڑیاں خوبصورت گریسی گراؤنڈ کے اندر کھڑی ملیں پہلا سوچا کہ کوئی جسمانی معذور ھیں جو پیدل نہیں چل سکتے جس کی وجہ سے وہ اپنی اپنی گاڑی گروانڈ کے اندر کیمپ کے پاس لے آئے ہیں لیکن جان کر حیرانگی ھوئی کہ یہ سب سوسائٹی کے رھائشی اور انتظامیہ کے معززین ھیں جو اچھے بھلے ھوتے ھوئے بھی اپنی اپنی قیمتی گاڑیاں گروانڈ کے اندر تک لے آئے ھیں شاہد وہ لوگ دوسروں پر اپنی امیری دکھانے چاھتے تھے کہ وہ بڑی قیمتی گاڑیاں رکھتے ہیں
لیکن اصل میں ایسی حرکت کرتے ھوئے وہ لوگ ذہنی طور بیمار دکھائی دیئے جو خود فریبی میں مبتلا نظر آئے یہ بیماری نو دولتی لوگوں میں زیادہ نظر آتی ھے ھم لوگ ایسے خود فریبی کے نظارے چوبیس گھنٹے دیکھتے ہیں