انڈس ڈیلٹا میں LNG منصوبوں کے خلاف عوامی سنوائی، ماہی گیر برادری کا ماحول دوست توانائی کی طرف جانے کا مطالبہ

انڈس ڈیلٹا میں LNG منصوبوں کے خلاف عوامی سنوائی، ماہی گیر برادری کا ماحول دوست توانائی کی طرف جانے کا مطالبہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان فشر فوک فورم، انڈس کنسورشیم اور گرین گرو کی جانب سے ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ایل این جی (LNG) ٹرمینلز اور گیس کی تلاش کے خلاف عوامی سنوائی عباس کمیونٹی ہال، مل جیٹی میں منعقد کی گئی، جس میں ریڑھی گوٹھ اور ابراہیم حیدری سمیت ساحلی علاقوں سے بڑی تعداد میں مرد و خواتین ماہی گیروں نے شرکت کی۔

عوامی سنوائی سے پاکستان فشر فوک فورم کے جنرل سیکریٹری سعید بلوچ، سینئر وائس چیئرپرسن فاطمہ مجید، ایوب شان خاصخیلی اور طالب کچھی سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ ایل این جی، کوئلہ اور تیل سے بجلی پیدا کرنے والے کارخانے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سانس اور جلدی امراض سمیت مختلف جان لیوا بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی علاقوں میں ان منصوبوں سے نہ صرف ماہی گیر کمیونٹی کے روزگار کو خطرات لاحق ہیں بلکہ سمندری حیات اور مقامی ماحول بھی متاثر ہو رہا ہے۔

سعید بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گیس کو ایل این جی میں تبدیل کرنے کے عمل کے دوران گیس کو منفی 262 ڈگری تک ٹھنڈا کیا جاتا ہے، جبکہ دوبارہ گیس میں تبدیلی کے دوران تقریباً 6 فیصد گیس ضائع ہو جاتی ہے، جو انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے خطرناک ہے۔

فاطمہ مجید نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ پاکستان ایل این جی کے معاہدوں سے دستبردار ہو، فوسل فیول پر مبنی نئے منصوبے فوری طور پر روکے، اور عالمی مالیاتی اداروں (MDBs, IFIs) اور کمرشل بینکوں سے ایل این جی توسیعی منصوبوں کی مالی امداد بند کرنے کی درخواست کرے۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام نئی سرکاری اور غیر سرکاری سرمایہ کاری کو ونڈ اور سولر انرجی جیسے قابلِ تجدید ذرائع کی طرف منتقل کیا جائے تاکہ ماحول کو محفوظ، روزگار کو پائیدار اور انسانی زندگی کو صحت مند بنایا جا سکے۔

شرکاء نے اعلان کیا کہ وہ ماحولیاتی انصاف اور ساحلی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔