آرٹس کونسل کے زیر اہتمام 39 روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025 “ آب و تاب سے جاری
ہم پاکستان اور اس کے جھنڈے کے لیے کام کرتے ہیں، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ
فیسٹیول کے تیسرے روز آرٹسٹوں کی تخلیقات، تجربات، میوزک ، تھیٹر ، فائن آرٹ سمیت مختلف ثقافتی پہلوو¿ں پر گفتگو
”ڈانس نائٹ“ میں مانی چاﺅ، اسٹریٹ ڈانسرز(کونگو )، Ballet Beyound Borders اور Haraka(موروکو) کا اسٹیج پر ثقافتی رقص کا شاندار مظاہرہ
کراچی ( ) آرٹس کونسل کے زیر اہتمام 39 روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025 “ آب و تاب سے جاری، فیسٹیول کے تیسرے روز کا آغاز اوپن مائیک سے کیاگیا، فیسٹیول میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے آرٹسٹوں کی تخلیقات، تجربات، ڈانس ، میوزک ، تھیٹر ، فائن آرٹ سمیت مختلف ثقافتی پہلوو¿ں پر گفتگو کی گئی جس میں کانگو، بی بی گروپ، فرانس، سیریا، بیلجیم،رومانیہ، کوسووو سمیت مختلف ممالک کے فنکاروں نے اپنے ملک کی ثقافت کے بارے میں گفتگو کی۔ آرٹیفیشنل انٹیلی جنس (AI) کے نقصانات اور فائدے پر بھی بات چیت کی گئی، نشست میں فنکاروں نے آرٹ کو پوری دنیا سے جوڑنے کا ذریعہ بتایا، کونگو سے آئے اسٹریٹ ڈانسرز نے کہاکہ جب ہم پاکستان آنے لگے تو لوگوں نے کہاکہ وہاں کیوں جارہے ہو مگر یہاں آکر اندازہ ہوا ہمارا فیصلہ درست تھا، یہاں نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے آرٹسٹوں سے مل کر بہت خوشی ہورہی ہے ، اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ ورلڈ کلچر فیسٹیول ہم نے نوجوانوں کے لیے شروع کیا ہے، ہم اپنے شہر کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں، ہم روزانہ 4بجے فلمیں دکھاتے ہیں عوام فری رجسٹریشن کے ذریعے اس میں شرکت کرسکتے ہیں، پوری دنیا سے مصوری، تھیٹر، میوزک، ڈانس کے فنکاروں کو تم سے ملانے لایا ہوں، 40 دن تک فیسٹیول کے ذریعے کراچی شہر کی رونقیں مزید بحال رکھیں گے، ہم پاکستان اور اس کے جھنڈے کے لیے کام کرتے ہیں، ورلڈ کلچر فیسٹیول میں راحت فتح علی خان پرفارم کریں گے جس میں شہریوں کی شرکت مفت ہوگی۔ فیسٹیول میں “United States Foucus” کے نام سے 5 مختصر فلموں کی اسکریننگ کی گئی جس میں ”اپنی ہی دھن“ ، ”ایک روکا ہوا تیر“ ،”سائے“ ، ”دو دریا“ اور ”کاراوانا“ شامل تھیں، ہال میں شائقین فلم کے دلدادہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی، فیسٹیول میں میوزک پر ماسٹر کلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں بیلجیم کی معروف موسیقارہ لوسی ٹاسکر اور احسن باری نے آرٹس کونسل میوزک اکیڈمی کے طلباءکو فی البدیع موسیقی کے گُر سکھائے۔ اس موقع پر لوسی ٹاسکر نے کہاکہ ہمیں ہر وقت سنجیدہ ہونے کی بجائے خوش اور ہنستے کھیلتے رہنا چاہیے، میں اپنے گھر میں آلات موسیقی کے ساتھ مختلف تجربے کرتی ہوں ، مجھے نہیں معلوم ہوتا کہ میں کیا کر رہی ہوں لیکن میں فی البدیع پر فارم کر رہی ہوتی ہوں، میں موسیقی کے آلات سے پرندوں کی آواز نکالتی ہوں، آخر میں لوسی ٹاسکر نے آرٹس کونسل میوزک اکیڈمی کے طلباءکے ساتھ میوزک پرفارمنس کی خواہش کا اظہار کیا۔ فرانس کے موسیقار کی جانب سے پرجوش ورکشاپ میں ذکریا حفار نے گائیکی کے گر سکھائے جس میں پانچ سو سال پرانی دھن بھی شامل تھی۔ آخر میں ”ڈانس نائٹ“ میں پاکستان سے مانی چاﺅ نے SOVAPA کے طلباءکے ساتھ بہترین پرفارمنس کی جبکہ کونگو کے اسٹریٹ ڈانسرز، Ballet Beyound Borders(Multinational) اور موروکو سے Harakaنے اپنے ثقافتی رقص کا زبردست مظاہرہ کرکے شائقین کے دل جیت لیے اور خوب داد وصول کی۔
























