بالی ووڈ کے معروف اداکار عمران ہاشمی نے اپنی آنے والی فلم “حق” کے حوالے سے پیدا ہونے والی تنقید اور سوالات پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم کا مقصد کسی بھی مذہب یا کمیونٹی کو نشانہ بنانا یا مسلمانوں کی غلط تصویر پیش کرنا نہیں ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں عمران ہاشمی نے بتایا کہ فلم کا موضوع اگرچہ حساس نوعیت کا ہے، تاہم اس کی پیشکش انتہائی متوازن اور غیر جانب دار ہے۔ ان کے بقول، “میں نے اسکرپٹ کو ایک فنکار کے طور پر سمجھا، اور اس دوران اپنی برادری کے جذبات کا بھی خیال رکھا۔ فلم میں کسی مذہب، طبقے یا فرد کے خلاف کوئی منفی اشارہ نہیں دیا گیا۔”
اداکار نے مزید کہا کہ وہ خود کو ایک لبرل مسلمان سمجھتے ہیں اور فلم کے پیغام سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس فلم میں کسی طبقے یا مذہب کی توہین ہوتی تو وہ اس کا حصہ کبھی نہ بنتے۔ “میری فیملی میں مختلف مذاہب کے لوگ ہیں، میں نے ایک ہندو خاتون سے شادی کی ہے، اور میرا بیٹا نماز بھی پڑھتا ہے اور پوجا بھی کرتا ہے — یہی ہماری سیکولر شناخت ہے۔”
ذرائع کے مطابق، فلم “حق” کی کہانی شاہ بانو کیس سے متاثر ہے — وہ تاریخی مقدمہ جس نے بھارت میں مسلم خواتین کے طلاق کے بعد نفقے (خرچ) کے حق پر اہم قانونی بحث چھیڑی تھی۔
فلم کی ہدایتکاری سوپرن ایس ورما نے کی ہے جبکہ یامی گوتم مرکزی کردار میں جلوہ گر ہوں گی۔ فلم جلد سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔























