بھارتی گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ کو آسٹریلیا میں ہونے والے اپنے کنسرٹ سے پہلے ایک انتہا پسند تنظیم کی جانب سے سنگین دھمکیاں دی گئی ہیں۔
یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب دلجیت نے حال ہی میں بالی ووڈ کے مشہور اداکار امیتابھ بچن کے پاؤں چھوئے۔
تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دلجیت دوسانجھ نے اس عمل سے 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے متاثرین کی تذلیل کی ہے۔ بیان کے مطابق، امیتابھ بچن نے اس وقت ہجوم کو ”خون کے بدلے خون“ کے نعرے سے بھڑکایا، جس سے ملک بھر میں ہزاروں سکھ مرد، خواتین اور بچے ہلاک ہوئے۔

قابلِ ذکر ہے کہ اکال تخت صاحب نے یکم نومبر کو ”سکھ نسل کشی یادگار دن“ کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے اور اسی دن کے قریب دلجیت دوسانجھ کا آسٹریلیا میں شو طے ہے۔
انتہا پسند تنظیم نے دلجیت کے کنسرٹ کو ”یادگار دن کی بے عزتی“ قرار دیتے ہوئے دنیا بھر کے سکھ فنکاروں اور گروپوں سے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں، وہ کنسرٹ کے مقام پر ایک پینتھک ریلی کا اہتمام بھی کر رہے ہیں۔
تنظیم کے مطابق، ’یادگار دن کو تجارت کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا اور نسل کشی کی یاد کو کسی قسم کی تفریح یا تجارتی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔‘
ابھی تک دلجیت دوسانجھ یا ان کی ٹیم نے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ان کے قریبی ذرائع کے مطابق گلوکار اس وقت اپنے ورلڈ ٹور میں مصروف ہیں، جس میں نومبر کے مہینے میں کئی بین الاقوامی شوز شامل ہیں۔























