لاہور کی خوشگوار خزاں رات میں، پاکستان کی سال کی سب سے زیادہ منتظر فلموں میں سے ایک “نیلوفر” کا پہلا گانا ایک خاص اسکریننگ کے دوران پیش کیا گیا، جو گلبرگ کے تاریخی اور شاندار سر گنگا رام ہاؤس میں منعقد ہوئی۔

یہ خوبصورت شام فلم “نیلوفر” کے مرکزی اداکاروں فواد خان اور ماہرہ خان کی جانب سے منعقد کی گئی، جنہوں نے شوبز، فیشن اور موسیقی کی دنیا سے تعلق رکھنے والے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر یاسر حسین نے میزبان کے فرائض انجام دیے، جنہوں نے اپنی مخصوص حسِ مزاح اور گرمجوشی سے اس شام کو یادگار بنا دیا۔
تقریب میں فلم “نیلوفر” کے موسیقی کے سفر کی جھلک پیش کی گئی، جس نے فلم کی ریلیز کے لیے شائقین میں بےچینی اور جوش میں مزید اضافہ کر دیا۔ گلوکار وکی حیدر کے آواز میں فلم کے پہلے میوزک ویڈیو کی لانچ کے موقع پر یہ شام جذبات، فن اور خوبصورتی کا حسین امتزاج بن گئی۔
اس تقریب میں پاکستان کے معروف فنکار، موسیقار اور اداکار موجود تھے جن میں سیمی راحیل، زیب بنگش، نمیر خان، ہاوی اور مورو سمیت کئی نامور شخصیات شامل تھیں جنہوں نے تقریب کی رونق بڑھائی۔
یہ ایک ایسی رات تھی جہاں فلم، موسیقی اور فن نے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر نغمگی پیدا کی۔ تقریب میں مشہور ڈیزائنرز، سماجی شخصیات اور ابھرتے ہوئے فنکاروں نے بھی شرکت کی تاکہ نیلوفر کے جذبے اور اس کی روح پرور موسیقی کا جشن منایا جا سکے۔
تقریب میں پیش کیا گیا گانا فلم کا دل کی دھڑکن قرار دیا جا رہا ہے — ایک ایسا نغمہ جو محبت کی روحانی اور شاعرانہ کیفیت کو بیان کرتا ہے، جہاں خاموشی نغمہ بن جاتی ہے اور نگاہوں سے زیادہ دل کا رشتہ بولتا ہے۔ فلم میں فواد خان ایک مصنف کے کردار میں ہیں، جبکہ ماہرہ خان “نیلوفر” کا کردار نبھا رہی ہیں — ایک ایسی نابینا مگر روشن روح، جو محبت کو محسوس کرنے کا نیا مفہوم پیش کرتی ہے۔
تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے فواد خان نے کہا:
“نیلوفر ایک ایسی کہانی ہے جو جذبات میں سانس لیتی ہے، اور یہ گانا اس کی روح ہے۔ آج کی شام کا مقصد ان احساسات کو بانٹنا تھا جو اس فلم کے سفر سے جڑے ہیں۔”
ماہرہ خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
“یہ فلم میرے لیے بہت ذاتی اہمیت رکھتی ہے۔ آج جب سب نے اس گانے پر اتنا جذباتی ردِعمل دیا، تو مجھے یاد آیا کہ ہم نے نیلوفر کیوں بنائی — یہ محبت کے خالص اور روحانی جذبے کی کہانی ہے۔”
“نیلوفر” کو فواد خان، حسان خالد اور اوساف شریق نے پروڈیوس کیا ہے، جبکہ اسے عمار رسول نے لکھا اور ڈائریکٹ کیا ہے۔ یہ فلم 28 نومبر 2025 کو پاکستان بھر میں سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔























