گلوکارہ حمیرا ارشد نے حال ہی میں موسیقی کے ریئلٹی شو ’پاکستان آئیڈل‘ میں فواد خان کی بطور جج شمولیت پر اعتراض اٹھایا، جس کے بعد شوبز انڈسٹری کی متعدد شخصیات فواد خان کے حق میں بول پڑیں۔
گزشتہ دنوں ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حمیرا ارشد نے کہا تھا کہ ایسے فنکاروں کو موسیقی کے شو میں جج نہیں بنانا چاہیے جن کا موسیقی سے براہِ راست تعلق نہ ہو۔ ان کے مطابق پاکستان میں ہمیشہ یہی رواج رہا ہے کہ غیر موسیقار افراد کو جج پینل کا حصہ بنایا جاتا ہے، حالانکہ یہ مقام ان فنکاروں کا ہونا چاہیے جنہوں نے اپنی پوری زندگی موسیقی کے فن کے لیے وقف کی ہو۔
حمیرا ارشد کے اس بیان کے بعد فنکار برادری نے سوشل میڈیا پر بھرپور ردعمل دیا۔
اداکارہ عائشہ عمر نے انسٹاگرام پر فواد خان کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ وہ پاکستان کے مشہور راک بینڈ ای پی (Entity Paradigm) کے مرکزی گلوکار رہ چکے ہیں، جو بیٹل آف دی بینڈز کے پہلے فاتح تھے۔ ان کے مطابق فواد خان کا موسیقی میں طویل تجربہ ہے، اور وہ خود ایک ریئلٹی شو کے فاتح رہ چکے ہیں، اس لیے وہ مقابلے میں شریک نوجوانوں کے احساسات کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ فواد خان تین سیزنز تک ’پیپسی بیٹل آف دی بینڈز‘ کے جج رہ چکے ہیں، اور ان کی تنقید ہمیشہ مدلل اور مؤثر ہوتی تھی۔

اداکار ہارون شاہد نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ یہ بحث بالکل غیرضروری ہے، حیرت کی بات ہے کہ حمیرا ارشد کو فواد خان اور بلال مقصود کے موسیقی سے تعلق کے بارے میں علم نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان آئیڈل کا موجودہ سیزن بہترین جا رہا ہے اور ججز کا پینل متوازن اور مضبوط ہے۔
https://x.com/Haroon_5hahid/status/1980709043846148598?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1980709043846148598%7Ctwgr%5E2df83d20e5b63171f9f557db990c52879fd5ea5d%7Ctwcon%5Es1_c10&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawnnews.tv%2Fnews%2F1272227
اسی طرح اداکار نمیر خان نے انسٹاگرام پر فواد خان کے کیریئر پر مبنی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “یہی ہمارا قومی المیہ ہے، ہم کسی کو کامیاب دیکھ نہیں سکتے۔ ہمیں اپنے لوگوں کی کامیابی پر فخر کرنا چاہیے، نہ کہ انہیں نیچا دکھانا۔ فواد خان ایک اسٹار ہیں، انہیں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔”

اداکارہ درفشاں سلیم نے بھی فواد خان کے دفاع میں لکھا کہ وہ بلاوجہ کی تنقید کی مستحق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ ہم ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جو دوسروں کو عوامی سطح پر نیچا دکھانے میں خوشی محسوس کرتی ہے، جبکہ اصل میں ہمیں ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

درفشاں سلیم نے مزید کہا کہ تعمیری تنقید تو پیشہ ورانہ دائرے میں ضروری ہے، مگر بلاوجہ اپنے ہی فنکاروں پر حد سے زیادہ تنقید کرنا ترقی نہیں بلکہ افسوسناک طرزِ عمل ہے۔























