“پاکستان کی کرکٹ “ہاکی” کی طرح برباد ہو گئی، کرکٹ کو دوبارہ قابل قدر کیسے بنایا جائے؟

پاکستان کا نام دنیا بھر میں کرکٹ کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔ ہمارے ہاں کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک جنون، ایک شوق، ایک عشق اور قومی شناخت کا حصہ رہی ہے۔ ماضی قریب میں پاکستانی کرکٹ نے وہ شاندار کارنامے انجام دیے کہ دنیا کی کوئی بھی ٹیم پاکستان کے خلاف کھیلتے ہوئے کانپ اٹھتی تھی۔ ہم نے دھماکا خیز بلے باز، ریکارڈ توڑ گیند باز اور تاریخ ساز کپتان دئیے۔ مگر آج صورتحال اس کے برعکس ہے۔ پاکستانی کرکٹ زوال کی اس دلدل میں پھنسی نظر آتی ہے جس سے نکلنے کا راستہ ہمیں دکھائی نہیں دے رہا۔

یہ المناک صورتحال ہمیں ایک اور کھیل کی یاد دلاتی ہے جس میں ہم کبھی دنیا میں چھائے رہتے تھے – ہاکی۔ پاکستان کی ہاکی ٹیم نے چار اولمپک گولڈ میڈل سمیت دنیا بھر میں اپنا لوہا منوایا۔ مگر آج ہاکی کا کھیل ہمارے ہاں بری طرح نظر انداز ہو چکا ہے۔ انتظامی بدانتظامی، وسائل کی کمی، پالیسیوں کے فقدان اور نئی نسل کی عدم توجہی نے ہاکی کو تقریباً ملیامیٹ کر دیا ہے۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستانی کرکٹ بھی اب اسی راستے پر چل پڑی ہے۔ اگر فوری اور ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یہ خدشہ ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کرکٹ کی عظمت کی داستانیں سناتے رہ جائیں گے اور وہ ہمیں یقین نہیں کریں گی۔ اس اسکرپٹ میں ہم پاکستانی کرکٹ کے زوال کی وجوہات پر روشنی ڈالیں گے اور اسے دوبارہ عظمت کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تجاویز پیش کریں گے۔

[حصہ اول: زوال کی وجوہات]

پاکستانی کرکٹ کے زوال کی کئی وجوہات ہیں جو ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔

1۔ انتظامیہ کی نااہلی اور بدعنوانی:
پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کی تاریخ سیاسی مداخلت، بدعنوانی اور نااہل انتظامیہ سے بھری پڑی ہے۔ بورڈ کے اندرونی معاملات، عہدوں کے حصول کی دوڑ، اور ذاتی مفادات نے قومی مفاد کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ فیصلے اکثر کھلاڑیوں کی بجائے سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں جس کا خمیازہ میدان میں کھیلنے والی ٹیم کو بھگتنا پڑتا ہے۔

2۔ گھریلو کرکٹ ڈھانچے کا زوال:
کسی بھی ملک کی کرکٹ کی بنیاد اس کے گھریلو ڈھانچے پر ہوتی ہے۔ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔ پچوں کا معیار گرتا جا رہا ہے، کوچنگ سہولیات ناکافی ہیں، اور نوجوان کھلاڑیوں کو ترقی دینے کے لیے کوئی مربوط نظام موجود نہیں۔ قومی ٹیم میں انتخاب اکثر “قربت” یا “تعلقات” کی بنیاد پر ہوتا ہے نہ کہ صلاحیت اور فارم کے مطابق۔

3۔ کوچنگ اور سہولیات کا فقدان:
ہمارے پاس جدید ترین کوچنگ تکنیکوں اور سائنسی تربیت کا شدید فقدان ہے۔ جدید کرکٹ میں فٹنس، نفسیات، ویڈیو تجزیہ اور ڈیٹا اینالیٹکس کا کردار انتہائی اہم ہو گیا ہے۔ مگر پاکستان ان جدید تقاضوں سے کوسوں دور ہے۔ ہمارے کوچز اکثر پرانے زمانے کے طریقوں پر کاربند ہیں۔

4۔ کھلاڑیوں میں نظم و ضبط کی کمی:
نظم و ضبط کسی بھی کھلاڑی کی کامیابی کی کنجی ہے۔ مگر پاکستانی کھلاڑیوں میں اس کی شدید کمی نظر آتی ہے۔ فٹنس کے معیار پر پورا نہ اترنا، میدان میں جذباتی عدم استحکام، اور ذاتی اختلافات کا کھیل پر اثر انداز ہونا عام بات ہو گئی ہے۔

5۔ بین الاقوامی تنہائی:
2009 کے سانحہ لاہور کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ تقریباً ختم ہو گئی۔ اگرچہ پی سی بی نے کچھ دوروں کا اہتمام کیا ہے مگر اب بھی بڑی ٹیمیں پاکستان آنے سے گریز کرتی ہیں۔ اس تنہائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی ٹیموں کے خلاف کھیلنے کا موقع نہیں ملتا۔

6۔ سلیکشن پالیسی کا بحران:
پاکستان کی سلیکشن پالیسی ہمیشہ سے متنازعہ رہی ہے۔ کھلاڑیوں کو اچانک ڈراپ کرنا، فارم کو نظر انداز کرنا، اور ایک میچ کی بنیاد پر فیصلے کرنا معمول بن گیا ہے۔ اس سے کھلاڑیوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

[حصہ دوم: بحالی کے لیے تجاویز]

پاکستانی کرکٹ کو دوبارہ عظمت کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہمیں ایک مربوط، دیرپا اور شفاف حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

1۔ انتظامیہ میں اصلاحات:
سب سے پہلے پی سی بی میں مکمل اور بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ بورڈ کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنا ہوگا۔ اس کے عہدوں پر کرکٹ کے ماہرین، سابق کھلاڑیوں اور انتظامیہ کے تجربہ کار افراد کو تعینات کیا جائے۔ فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت لانا ہوگی۔ ہر عہدے کی ذمہ داریاں واضح ہونی چاہئیں اور احتساب کا نظام ہونا چاہیے۔

2۔ گھریلو کرکٹ ڈھانچے کو ازسرنو تعمیر کرنا:
ہمیں اپنے ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے کو مکمل طور پر نئی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔

علاقائی کرکٹ کو مضبوط بنانا: صوبائی ٹیموں کے بجائے علاقائی ٹیموں کے درمیان مقابلے منعقد کروانے چاہئیں جس سے مقابلے کا معیار بہتر ہوگا۔

پچوں کا معیار بہتر بنانا: ہمارے اسٹیڈیمز کی پچیں بلے بازوں اور گیند بازوں دونوں کے لیے متوازن ہونی چاہئیں۔ گراس روٹس لیول پر مصنوعی پچوں کی سہولیات فراہم کرنی چاہئیں۔

نوجوان صلاحیتوں کی کھوج: ملک بھر میں باقاعدہ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرامز کا انعقاد کیا جائے۔ دور دراز کے علاقوں سے نکلنے والے ہونہار کھلاڑیوں کو سہولیات اور پلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔

3۔ کوچنگ اور تربیت کا جدید نظام:
ہمیں کوچنگ کے ایک مضبوط پیپرامڈ ڈھانچے کی ضرورت ہے۔

قومی کوچنگ اکیڈمی قائم کرنا: ایک مرکزی کوچنگ اکیڈمی قائم کی جائے جہاں جدید کوچنگ تکنیکوں، فٹنس، نفسیات اور ڈیٹا اینالیسس کی تربیت دی جائے۔

غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنا: ابتدائی طور پر تربیت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے تجربہ کار غیر ملکی کوچز اور سپیشلسٹ کی خدمات حاصل کی جائیں جو مقامی کوچز کو تربیت دے سکیں۔

سپیشلائزڈ کوچنگ: ہر شعبے کے لیے الگ سپیشلسٹ کوچ ہوں – بیٹنگ، باؤلنگ، فیلڈنگ، وکٹ کیپنگ۔

4۔ کھلاڑیوں کی نفسیاتی اور ذہنی تربیت:
جدید کرکٹ میں ذہنی مضبوطی کامیابی کی سب سے بڑی کلید ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں کو اسپورٹس سائیکالوجسٹ کی مدد سے ذہنی دباؤ کو سنبھالنے، یکجہتی پیدا کرنے اور فیصلہ کن موقعوں پر پرفارم کرنے کی تربیت دی جائے۔

5۔ نظم و ضبط اور فٹنس کا ثقافت قائم کرنا:
فٹنس کو کسی سمجھوتے کے بغیر لازمی شرط بنانا ہوگا۔ جو کھلاڑی فٹنس کے معیار پر پورا نہ اترے اسے ٹیم میں جگہ نہ ملے۔ کھلاڑیوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ ہونی چاہیے اور ان کی خوراک اور طرز زندگی پر نظر رکھنی چاہیے۔

6۔ بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کو یقینی بنانا:
پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا ہوگا۔ اس کے لیے سیکیورٹی کے انتظامات کو عالمی معیار کے مطابق کرنا ہوگا۔ دیگر ممالک کی ٹیموں کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ پاکستان سپر لیگ (PSL) کو مزید کامیاب بنانا ہوگا جو نہ صرف نئے کھلاڑیوں کو موقع دے رہی ہے بلکہ بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

7۔ نئی نسل کو کرکٹ سے جوڑنا:
ہمیں اسکول اور کالج لیول پر کرکٹ کو فروغ دینا ہوگا۔ انسٹی ٹیوٹس میں کرکٹ کوچنگ کیمپس کا انعقاد کیا جائے۔ نئی نسل میں کرکٹ کے تئیں شوق پیدا کرنے کے لیے پرکشش مقابلوں کا اہتمام کیا جائے۔

8۔ میڈیا اور عوام کے ساتھ تعلقات:
میڈیا کو تعمیری تنقید کرنی چاہیے۔ ہر ناکامی پر کھلاڑیوں اور انتظامیہ پر تنقید کے بجائے حل تجویز کرنے چاہئیں۔ عوام کو بھی صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کھلاڑی ہمارے سفیر ہیں، انہیں ہر صورت میں سپورٹ کرنا چاہیے۔

ہاکی کے زوال سے ہمیں یہ سبق لینا چاہیے کہ عظمت کا حصول مشکل ہے مگر اسے برقرار رکھنا اس سے بھی مشکل ہے۔ ہاکی کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ مسلسل نظر اندازی اور مستقبل کی منصوبہ بندی نہ کرنا تھا۔ ہم نے نئی نسل کو ہاکی سے جوڑنے میں ناکامی کھائی، سہولیات نہ دیں، اور عالمی معیار کے مطابق خود کو ڈھال نہ سکے۔

کرکٹ کے ساتھ بھی یہی غلطی دہرانے کا خطرہ ہے۔ اگر ہم نے ابھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی