
چیئرمین آباد حسن بخشی آباد کی تاریخ اور کردار بتا رہے ہیں۔
“پراپرٹی میں سرمایہ کاری کرتے وقت یہ 3 احتیاطی تدابیر ضرور اپنائیں”
خبر کا متن:
لاہور/کراچی: پراپرٹی میں سرمایہ کاری ایک محفوظ اور منافع بخش قدم ہو سکتا ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب آپ قانونی اور معتبر تعمیراتی اداروں سے منسلک ہوں۔ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (ABAD) کے ترجمان کے مطابق، غیر قانونی تعمیرات اور بے ضابطہ بلڈرز سے بچنے کے لیے سرمایہ کاروں کو درج ذیل احتیاطی تدابیر ضرور اطمینان کر لینی چاہئیں:

1. قانونی تعمیرات کی اہمیت
غیر رجسٹرڈ بلڈرز کے ساتھ معاہدہ کرنے سے گریز کریں، کیونکہ غیر قانونی تعمیرات کے باعث آپ کا سرمایہ ضائع ہو سکتا ہے۔ ABAD کے رکن بلڈرز ہی پر بھروسہ کریں، کیونکہ ان کے پاس SBCA (سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی) یا دیگر صوبائی اداروں کی توثیق ہوتی ہے۔
2. ABAD کیا ہے، اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (ABAD) 1972ء میں قائم ہوا اور اب 53 سال سے تعمیراتی شعبے میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس کے دفاتر کراچی، حیدرآباد، لاہور، اسلام آباد، گوادر اور پورے پاکستان میں موجود ہیں۔ ABAD صرف کراچی تک محدود نہیں، بلکہ پورے پاکستان میں بلڈرز اور ڈویلپرز کی نمائندہ تنظیم ہے۔
3. ABAD کا رکن کیسے بنا جائے؟
کسی بھی قانونی بلڈر یا ڈویلپر کو ABAD کا رکن بننے کا حق حاصل ہے۔
سندھ میں، جو بلڈر 3 یونٹس سے زیادہ پراپرٹیز بناتا ہے، اس کے لیے ABAD کی رکنیت لازمی ہے۔
رکنیت کے لیے NTN اور کم از کم 400 مربع گز کی ملکیت ہونا ضروری ہے۔

فی الحال سندھ میں 1800 کے قریب رجسٹرڈ ممبرز ہیں، جبکہ غیر رجسٹرڈ بلڈرز کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
پنجاب میں ABAD کی رکنیت لازمی نہیں، لیکن اب ABAD تمام بلڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ملک بھر میں تعمیراتی شعبے کا درست ڈیٹا تیار کیا جا سکے۔
نتیجہ:
اگر آپ پراپرٹی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، تو ABAD کے رجسٹرڈ ممبرز سے ہی تعاون کریں تاکہ آپ کا پیسہ محفوظ رہے۔ غیر قانونی تعمیرات سے بچیں اور پراپرٹی کے شعبے میں ہونے والی دھوکہ دہی سے خود کو محفوظ رکھیں۔
مزید معلومات کے لیے ABAD کے دفتر سے رابطہ کریں یا ان کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔
یہ خبر واضح، معلوماتی اور قارئین کے لیے مفید ہے، جس میں ABAD کے کردار اور پراپرٹی انویسٹمنٹ کے محفوظ طریقوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=0Hz2OObfkeQ























