شاہد خاقان عباسی ایک بار پھر عمران خان کی حمایت میں سامنے آگئے۔-پولی گرافک ٹیسٹ اُن لوگوں کا ہونا چاہیئے جو جھوٹے کیسز بناتے ہیں

شاہد خاقان عباسی ایک بار پھر عمران خان کی حمایت میں سامنے آگئے۔-پولی گرافک ٹیسٹ اُن لوگوں کا ہونا چاہیئے جو جھوٹے کیسز بناتے ہیں


پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے پولی گرافک ٹیسٹ کے معاملے پر عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا مؤقف بھی سامنے آگیا۔ ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولی گراف ٹیسٹ کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں لیکن اگر کرنا ہی ہے تو ان کا ٹیسٹ کریں جو سیاستدانوں پے جھوٹے مقدمے بناتے ہیں، پولی گرافک ٹیسٹ کی پاکستان کے قانون میں کوئی گنجائش نہیں ہے، میری رائے میں عدالتی ٹرائل میں کی کوئی حیثیت نہیں ہے، میں نے کئی سال تک نیب کے بنائے گئے کیسز بھگتے ہیں میں کہتا ہوں نیب کیسز بنانے والے ان افراد کو بلائیں اور ان کے بھی پولی گرافک ٹیسٹ کرائیں، پولی گرافک ٹیسٹ کوئی آسان کام نہیں ہوتا، ہمارے یہاں بہت ساری چیزیں بن جاتی ہیں، اب عمران خان بھگت رہے ہیں کچھ سال بعد پتا چلے گا یہ مقدمے بھی غلط تھے۔

ایک سوال کے جوب میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ تحریک انصاف کو چاہیئے مزاکرات ملک کیلئے کریں، ایک شخصیات کے لیے نہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور بچوں جیسی باتیں نہ کریں کہ ہماری ملاقات نہ کروائی تو ہم ملک نہیں چلنے دیں گے، علی امین گنڈاپور کو میرا مشورہ ہے کہ وہ اپنے صوبے کے مسائل پر توجہ دیں۔ عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے پر اس حکومت کے تحت ملک کا مستقبل روشن نہیں، یہ حکومت متنازع اور ان کا مینڈیٹ متنازع ہے، اگر حکومت واقعی ملک کی خیر خواہ ہے تو سیاسی تقسیم کو ختم کرے، ن لیگ نے ماضی میں فیصلہ کیا تھا کہ سیاسی مخالفین کو قید نہیں کریں گے، ہتک نہیں کرنی لیکن آج یہ سب کام ن لیگ کررہی ہے، انڈیا سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں ہے، پاکستان کو اصل خطرہ بھارت سے زیادہ موجودہ نظام سے ہے، جنگ میں کامیابی کا سہرا صرف عوام کو جاتا ہے، حکومت کو چاہیئے کہ جنگ کی کامیابی پر سب کو میڈل دے دیں تاکہ جھگڑا ہی ختم ہوجائے۔
=======================

برطانیہ میں سیاسی پناہ کیلئے درخواستیں دینے والوں میں پاکستانی سرفہرست
2023/24ء کے عرصے میں پاکستانی شہری انگلینڈ میں سیاسی پناہ کے خواہاں افراد میں دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر تھے

برطانیہ میں سیاسی پناہ کیلئے درخواستیں دینے والوں میں پاکستانی سرفہرست

لندن – برطانیہ میں سیاسی پناہ کیلئے درخواستیں دینے والوں میں پاکستانی شہری سرفہرست آگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں سیاسی پناہ تلاش کرنے والے افراد کی فہرست میں پاکستانی شہری پہلے نمبر پر پہنچ چکے ہیں، برطانوی وزارت داخلہ نے اپنے تازہ ترین اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ گزشتہ برس 11 ہزار 48 پاکستانی شہریوں نے سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں، جو مجموعی طور پر 1 لاکھ 9 ہزار 343 درخواستوں کا ایک بڑا حصہ ہے، اس سے پہلے 2023/24ء کے عرصے میں پاکستانی شہری سیاسی پناہ کے خواہاں افراد میں تیسرے نمبر پر تھے، تاہم اس سال پاکستانیوں شہریوں کا اس لسٹ میں پہلا نمبر ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اس فہرست میں افغان شہریوں نے 8 ہزار 69 درخواستوں کے ساتھ دوسرا نمبر حاصل کیا ہے، چھوٹی کشتیوں میں سمندری راستے خطرناک سمندری سفر کرکے برطانیہ پہنچنے والے مہاجرین میں سے 33 فیصد نے سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کروائی ہیں، یہ اعداد و شمار مہاجرین کے لیے ان خطرناک سفروں کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی مشکلات مہاجرت کے اہم محرکات ہیں۔

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کئی عوامل کا نتیجہ ہوسکتی ہے، جن میں ملک میں معاشی عدم استحکام، سیاسی کشیدگی اور روزگار کے محدود مواقع شامل ہیں، یہ اعداد و شمار نا صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے سماجی و اقتصادی حالات کے بارے میں اہم اور غور طلب امور کی نشاندہی کرتے ہیں، ان اعداد و شمار سے یورپی ممالک کے لیے مہاجرت کے بحران سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسیاں بنانے کی ضرورت کو عکاسی ہوتی ہے۔
==========

پی ٹی آئی کی حکومت سے مذاکرات شروع کرنے کی کاوشیں جاری، ذرائع
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت سے مذاکرات شروع کرنے کی کاوشیں جاری ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف مذاکرات کےلیے سرگرم ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پاک بھارت کشیدگی کے باعث پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل رک گیا تھا۔

تحریک انصاف تذبذب میں مبتلا، عمران خان خود کو نقصان پہنچا رہے ہیں

مشیرِ اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے فی الحال کسی سے باضابطہ مذاکرات نہیں ہیں۔

بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کےلیے کاوشیں جاری ہیں۔