شکست خوردہ بھارت کا واویلا ، بھارتی وزیر کا شور کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف
پاکستان نے بھارت کیخلاف بڑی فتح حاصل کی، ڈی جی آئی ایس پی آر کی برطانوی میڈیا سے گفتگو
معرکہ بنیان مرصوص میں بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے بعد کشمیر پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا دوٹوک مؤقف سامنے آگیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے برطانوی ٹی وی اسکائی نیوز سے گفتگو کی ہے، جس میں انھوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کی بڑی افواج کے باوجود نئی دہلی کیخلاف بڑی فتح حاصل کی، جو بھی ہماری سرزمین اور خودمختاری کی خلاف ورزی کریگا جواب بےرحمانہ ملےگا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں یقینی جواب کا عزم ظاہرکیا، انھوں نے کہا کہ پاکستان بھارت دونوں ایٹمی طاقت ہیں کشیدگی تباہی کاباعث ہو گی۔
اسکائی نیوز سے گفتگو میں احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارت سمجھتا ہے کہ پاکستان کیخلاف محاذ کھڑا کریگا تو یہ خطے میں تباہی ہوگی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ امریکا جیسے ممالک جوہری خطرات پر بھارت کے عزائم کو جان چکے، بھارت مسئلے کو اندرونی معاملہ قرار دیکر کشمیریوں کو ہراساں کررہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل قرارداد کے مطابق حل کرنا ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ بھارت ناراض ہےک ہ امریکا اس بحران کے دوران مسئلہ کشمیر کو اجاگر کررہا ہے، امریکا کیلئے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ بھارت پر کتنا دباؤ ڈال سکتا ہے۔
=======================

صورتحال میں بہتری: پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ بندی کو توسیع
اسلام آباد-(15 مئی 2025) – پاکستان اور ہندوستان کے درمیان گزشتہ ہفتے شروع ہونے والی فوجی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک نے جنگ بندی کو مزید توسیع دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی سطح پر ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں امن کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔
جنگ بندی پر اتفاق
پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کو پارلیمنٹ کو بتایا کہ دونوں ممالک کی فوجی قیادت کے درمیان رابطہ ہوا ہے اور دونوں اطراف نے جنگ بندی کو اتوار (18 مئی) تک بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اعتماد سازی کے اقدامات جاری رہیں گے تاکہ کشیدگی کو مزید کم کیا جا سکے۔”
امن کی اپیل
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا، “اب ہمیں امن کی بات کرنی چاہیے۔ اگر خطے سے دہشت گردی ختم کرنی ہے تو بیٹھ کر بات کریں۔”
بین الاقوامی ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کشیدگی میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “تجارت جنگ سے بہتر ہے” اور دونوں ممالک کے درمیان تنازعے کے حل پر خوشی کا اظہار کیا۔
جوہری ہتھیاروں پر تنازعہ
اس دوران ہندوستانی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں پر اقوام متحدہ کی نگرانی کی تجویز پیش کی، جسے پاکستان نے مسترد کر دیا۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے جوابی بیان میں کہا کہ “ہندوستان اپنے جوہری پروگرام کی نگرانی پر توجہ دے، جہاں حساس مواد کی غیرقانونی تجارت کے واقعات سامنے آئے ہیں۔”
مستقبل کی راہ
اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان الزامات کا تبادلہ جاری ہے، لیکن جنگ بندی کی توسیع اور امن مذاکرات کی پیشکش ایک امید افزاء پیش رفت ہے۔ عالمی برادری دونوں ممالک پر زور دے رہی ہے کہ وہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں تاکہ خطے میں مستقل امن قائم ہو سکے۔
اختتامی نوٹ
کشمیر کے تنازعے پر دہائیوں سے جاری کشمکش کے باوجود، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان حالیہ مثبت اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک تشدد کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دے رہے ہیں۔ امید ہے کہ یہ کوششیں مستقبل میں بڑے تنازعات کو روکنے میں کامیاب ہوں گی۔
























