‏ٹرمپ سے مصافحہ کرنی والی سعودی عورت کون ہے؟

شہزادی ریما بنت بندر: سعودی عرب کی طاقتور خاتون سفیر اور خواتین کے حقوق کی علمبردار

واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ سے مصافحہ کرنے والی سعودی خاتون کوئی اور نہیں، بلکہ امریکہ میں سعودی عرب کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر ہیں، جو اپنی خوبصورتی، ذہانت اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہیں۔

استقبالی تقریب کے موقع پر شہزادی ریما نے سعودی ڈیزائنر ہنیدہ صیرافی کا تیار کردہ شاہانہ لباس پہنا تھا، جس میں رائل بلیو عبایا کے فرنٹ اور بازوؤں پر نفیس سنہری کڑھائی کی گئی تھی۔ عبایا کے نیچے والے حصے پر چھوٹے چھوٹے سنہری نقش بنے ہوئے تھے، جبکہ انہوں نے نیلے رنگ کا سکارف بھی پہن رکھا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہنیدہ صیرافی کا برینڈ بین الاقوامی شہرت یافتہ شخصیات جیسے پرینکا چوپڑا، لوپیٹا نیونگو اور اردن کی شہزادی رجوا کے لیے بھی ڈیزائن تیار کرتا ہے۔

شاہی خاندان سے تعلق اور تعلیمی قابلیت
شہزادی ریما کے والد شہزادہ بندر بن سلطان سعودی عرب کے سابق کراؤن پرنس اور طویل عرصے (1983 سے 2005) تک امریکہ میں سعودی سفیر رہے ہیں۔ ان کی والدہ شہزادی حیفہ بنت فیصل، سابق سعودی بادشاہ شاہ فیصل کی بیٹی ہیں۔

ریما نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ امریکہ میں گزارا اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے میوزیم سٹڈیز میں گریجویشن کیا۔ انہوں نے پیرس اور واشنگٹن کی معروف سیکلر آرٹ گیلری میں انٹرنشپ بھی کی، جس نے ان کے فنون سے متعلق دلچسپی کو مزید پروان چڑھایا۔

خواتین کے حقوق اور سماجی تبدیلی کی علمبردار
2019 میں شہزادی ریما پہلی سعودی خاتون بنیں جنہیں امریکہ میں سفیر کے طور پر تعینات کیا گیا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کہا:
“سعودی عرب اور امریکہ کا اتحاد صرف تاریخ نہیں، بلکہ ایک نیا مستقبل ہے۔”

والد کے سفارتی دور کے بعد 2005 میں ریاض واپس آنے پر شہزادی ریما نے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر دونوں میں کام کیا اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ انہیں سعودی جنرل سپورٹس اتھارٹی میں تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے نہ صرف کھیلوں کے شعبے کو بہتر بنایا بلکہ خواتین کی کھیلوں میں شرکت کو بھی فروغ دیا۔

وہ ہاروی نکولس (ریاض کے مشہور لگژری ڈپارٹمنٹ سٹور) کی سی ای او بھی رہیں۔ ان کی کوششوں سے آج سعودی عرب میں ہاروی نکولس جیسی جگہوں پر درجنوں خواتین ملازمت کر رہی ہیں، جبکہ پہلے یہاں صرف مردوں کو نوکری دی جاتی تھی۔ انہوں نے خواتین ملازمین کے لیے کام کی جگہ پر نرسری قائم کی اور انہیں ٹرانسپورٹ الاؤنس بھی فراہم کیا، کیونکہ اس وقت سعودی خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں تھی۔

عالمی سطح پر پہچان
2014 میں فوربز میگزین نے انہیں “سب سے طاقتور عرب خواتین” کی فہرست میں شامل کیا۔ آج وہ نہ صرف ایک کامیاب سفیر ہیں، بلکہ سعودی خواتین کے حقوق کی علامت بھی ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں صنفی مساوات پر اکثر سوالات اٹھائے جاتے ہیں، شہزادی ریما کی سفیر کے طور پر تعیناتی ایک مثبت تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔

ان کی کوششیں ثابت کرتی ہیں کہ تعلیم، ہمت اور عزم سے خواتین کسی بھی میدان میں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔ شہزادی ریما بنت بندر نہ صرف سعودی عرب، بلکہ پوری دنیا کی خواتین کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔