
پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر میں توسیع، سفارتی کوششیں جاری
اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ کو بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر 18 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے فوجی افسران (DGMOs) کے درمیان مسلسل رابطے کے نتیجے میں یہ فیصلہ ہوا۔
وزیر خارجہ نے تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ ’’10 مئی کو بات چیت کے بعد سیز فائر 12 مئی تک، پھر 12 مئی کو مزید مذاکرات کے بعد 14 مئی تک، اور اب اسے 18 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے اس عمل کو دونوں طرف سے تنازعے کو کم کرنے کی کوشش قرار دیا۔
بھارت کی الزام تراشی کے جواب میں واضح موقف
اسحاق ڈار نے کہا کہ ’’پاکستان پر جھوٹے الزامات لگانا بھارت کا پرانا طریقہ رہا ہے۔ پہلگام حملے کے فوراً بعد بھارت نے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا، لیکن ہم نے ثابت کیا کہ ہم بے قصور ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جب بھارت نے جارحیت کی تو ہم نے جوابی کارروائی میں ان کے چھ جنگی طیارے گرائے، جبکہ ہمارا ایک بھی جہاز محفوظ رہا۔‘‘
بین الاقوامی برادری نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی
وزیر خارجہ نے بتایا کہ تنازعے کے دوران پاکستان نے سفارتی سطح پر بھرپور کوششیں کیں۔ انہوں نے کہا، ’’دنیا بھر کے 60 سے زائد وزرائے خارجہ اور وزرائے اعظم سے ہماری بات چیت ہوئی۔ تمام ممالک کو ہم نے واضح کیا کہ پاکستان صبر اور ذمہ داری سے کام لے رہا ہے، لیکن ہم کسی جارحیت کو برداشت نہیں کریں گے۔‘‘
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’اس بار بھارت کا جھوٹا پروپیگنڈا کام نہیں آیا۔ ہم نے ثابت کر دیا کہ بھارت غلط بیانی کر رہا تھا۔ کچھ ممالک کو خدشہ تھا کہ بھارت دوبارہ حملہ کرے گا، لیکن ہم نے واضح کر دیا کہ ایسی صورت میں وہ سخت جوابی کارروائی کا سامنا کرے گا۔‘‘
قومی اور بین الاقوامی سطح پر یکجہتی
اسحاق ڈار نے کہا کہ سینیٹ نے پہلگام واقعے کے بعد متفقہ قرارداد منظور کی، جبکہ قومی سلامتی کمیٹی نے بھارتی اقدامات کے پیش نظر اہم فیصلے لیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بین الاقوامی برادری نے پاکستان کے حق میں موقف اپنایا، جس سے ہمارا موقف مزید مضبوط ہوا۔‘‘
انہوں نے اختتام پر کہا کہ ’’پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن ہماری خودمختاری اور سلامتی کسی سمجھوتے پر مبنی نہیں ہوگی۔ ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘























