کینیڈا میں منی پاکستان۔۔۔۔ مرزا یاسین بیگ کے ہمراہ محبت بھری شام ۔

سچ تو یہ ہے،

بشیر سدوزئی،

کینیڈا کے معاشی حب ٹورنٹو کے مغرب میں 30 کلومیٹر فاصلے پر واقع جدید اور ترقی یافتہ شہر مسسی ساگا (Mississauga) خوب صورتی، ترقی اور جدیدیت میں اپنی مثال آپ ہے، ڈاؤن ٹاون میں مشہور و مصروف شاپنگ سینٹرز اور دلکش رہائشی و کمرشل عمارتوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے دفاتر بینک، ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، اور صحت کے شعبوں میں ملازمتوں کی فراہمی و فراوانی ہے۔ تب ہی اس شہر میں تارکین وطن کے ہجوم کا سرے شام فوڈ کورٹس

اور فٹ پاتھوں پر بسیرا رہتا ہے۔ مسی ساگا کی آبادی تقریباً 8 لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس میں تارکین وطن 55% کے لگ بھگ ہیں۔ آبادی کے یہ اعداد و شمار مسسی ساگا کو کینیڈا کے سب سے زیادہ متنوع شہروں میں سے ایک بناتے ہیں، جہاں مختلف ثقافتوں اور زبانوں کے لوگ آباد ہیں۔ تاہم پاکستانیوں اور خاص طور پر کراچی سے کینیڈا ہجرت کرنے والوں کی خاصی بڑی تعداد اسی شہر یا اس کے قرب و جوار میں مقیم ہے۔ تب ہی ہم اس شہر کو منی پاکستان کہتے ہیں۔ ڈاؤن ٹاون میں واقع دو مشہور ٹیڑھی عمارتیں “Absolute Towers” مسسی ساگا کی پہچان بن چکی۔۔ جن کی مڑتی ہوئی شکل معروف اداکارہ مارلن منرو کی ساخت کو ظاہر کرتی ہے۔

اس مناسبت سے عوامی طور پر یہ عمارتیں “مارلن منرو ٹاورز” “Marilyn Monroe Tower” کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں اور منفرد آرکیٹیکچر کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتی ہیں، جن کی بلندی تقریباً 50 اور 56 منزل ہے۔ ان عمارتوں کی کشش مسسی ساگا آنے والوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ ہم بھی وہاں پہنچے کہ انسانی مہارت کے اس شاہکار کا جائزہ لیں، ان کو دیکھ کر انسان کے شان دار تعمیراتی کمال کو داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ ابھی گھوم پھر کر مختلف اینگلز سے


ان کا جائز لے ہی رہے تھے کہ ہمارے سیل فون کی آواز نے اپنی طرف متوجہ کیا۔ ہیلو کہنے پر آگئیں سے سوال ہوا،” تم ابھی گھر سے نکلے تو نہیں ہوں گے؟ ” اس سے پہلےکہ کوئی اور سوال ہوتا ہم نےفورا ہی وضاحت کی “بھائی میں مسی ساگا کے ڈاؤن ٹاون میں گھوم رہا ہوں آپ کے پاس چھ بجے جو پہنچنا ہے ایک گھنٹہ تھا، سوچا مسی ساگا کا ڈاؤن ٹاون دیکھ لیتا ہوں ” جس پر کہا گیا “بس ٹھیک ہے تم پونے چھ بجے آ جاوں میں تیار ہو جاتا ہوں ” ٹیلی فون پر یہ گفتگو ہمارے جوان عمری کے ساتھی مرزا یاسین بیگ کے ساتھ ہو رہی تھی جن کو کراچی چھوڑے 24 برس ہو چکے، لیکن انہوں نے کراچی اور کراچی والوں کو دل سے نہیں چھوڑا۔ یاسین اپنے پرانے دوستوں کے ساتھ رہنا چاتا ہے ان کے دکھ سکھ میں شامل ہونا چاتا ہے تب ہی ایک ایک کے بارے میں پوری معلومات رکھتا ہے۔ دوستوں اور احباب کے امور اور مسائل کی خبر پڑوسی سے پہلے یاسین کو مسسی ساگا میں مل جاتی ہے۔ بقول حسینہ معین ” جناب کینیڈا میں رہتے ہوئے بھی پاکستانی حالات سے مکمل باخبر ہیں” کینیڈا میں میرے احباب و شناسا میں اور بھی بہت سارے لوگ مقیم ہیں، لیکن روانگی سے پندرہ دن پہلے ہی یاسین کا کراچی فون آ گیا، “بھائی کب آ رہے ہو” میں نے شڈول بتایا تو اس کی گفتگو سے ایسا لگا، جیسے میرے کینیڈا آنے میں، مجھ سے زیادہ یاسین کو خوشی ہے۔ “وقت نکال کر آنا یہاں آکر مصروف نہ ہو جانا، بولو کہ وقت ہی نہیں دو تین دن ہمارے ساتھ گزارنے ہیں” وہی گرجدار آواز بے تکلفانہ گفتگو، اور گفتگو میں کشش، پہلے جملے میں ہی اپنائیت کا احساس ہونے لگتا ہے ۔ یاسین بڑا ادیب، براڈکاسٹر، مقرر ہے اور مزاح کا بادشاہ، کئی کتابوں کا مصنف جس کے چانے والوں کی تعداد لاکھوں کروڑوں میں ہے، لیکن وہ دوستوں کا دوست ہے۔ طبیعت میں غرور نہیں، تکبر نہیں، عاجزی اور درویشی ہے۔ جوانی کی طرح آج بھی یاسین کے قلم و زبان سے ایسے شگوفے پھوٹتے ہیں کہ محفل قہقہوں سے زعفران زار ہو جاتی ہے۔ اسی باعث وہ نہ صرف احباب میں بلکہ عوام میں بھی مقبول ہے۔ احمر بشیر نے ڈاؤن ٹاون سے گاڑی کو گھمایا اور ہم گوگل کی مدد سے یاسین کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے، پونے چھ بجے گوگل نے اس گھر کے سامنے لا کھڑا کیا جہاں یاسین گزشتہ 20 برس سے مقیم ہے۔ فون کیا کہ گھر کے باہر کھڑے ہیں۔ ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ اٹھائے فورا ہی نکل آیا، گلے ملا ” یار اچھا کیا تم کینیڈا آئے” مجھ سے زیادہ صاحبزادے سے مخاطب ہوا کہ دیکھیں دوسری نسل سے ملاقات ہو رہی ہے۔۔ یاسین نے احمر سے پوچھا “ریج وے پلازہ دیکھا ہے” بولا ہاں ” بس وہاں چلو ” میری طرف مخاطب ہوا ” ہمارے ہاں مسسی ساگا میں کئی فوڈ کورٹس ہیں مگر ریج وے پلازہ عالمی فوڈ کورٹس بن چکا، بلکہ بین الاقوامی فوڈ کا حب ہے۔ ہر ثقافت اور ہر ریجن کا ہر قسم کا کھانہ یہاں ملتا ہے، آپ کو یہاں لگے کا پاکستان میں ہوں” ہم ریج وے پلازہ روانہ ہوئے جہاں آج کی شام یاسین کے ساتھ گزارنی ہے۔ کینیڈا کا موسم کروٹ لے رہا ہے۔ بہار کی آمد آمد ہے یاسین بیگ کی ڈی نما گلی میں داخل ہوئے تھے تو آسمان صاف اور موسم خوشگوار تھا۔ گلی کے دوسرے کونے سے باہر نکل رہے تھے تو آسمان پر اچانک سیاہ اور گھنے بادل امڈ آئے جیسے ہمارا راستہ روکنے والے ہوں۔ خنک و تند ہوائیں فراٹے بھرنے لگیں۔ شام کا وقت تھا اور ہم یاران خضر راہ، کے تعین کردہ ریج وے پلازہ کی طرف رواں دواں تھے ۔ موسم کے اس بدلتے تہور کو دیکھ کر لگا اس سہانی شام کی سلیبریٹ میں کوئی اڑچن آنے والی ہے۔ احمر بشیر نے گاڑی کا ایکسیلیٹر دبایا کہ طوفان سے پہلے منزل تک پہنچا جائے، مگر آسمان نے جیسے گھڑا انڈیل دیا ہو۔ گاڑی رکنے ہی والی تھی کہ طوفان بادباراں پل بھر میں ماشا ہو گیا۔ نہ کیچڑ نہ سیلاب سڑک اور آسمان دونوں صاف۔ لگ بھگ ایک فرلانگ ہی آگئیں گئے ہوں گے کہ ہمارے سامنے کا آسمان قدر صاف اور کالی گھٹائیں دوسری جانب کھسک گئیں ۔ مرزا یاسین بیگ نے گاڑی کے شیشے سے باہر جھانک کر اپنے ملک کی تعریف میں فرمایا ” یہی تو کینیڈا کے موسم کی شان ہے، اس کے بارے میں حتمی کچھ نہیں کہا جا سکتا طوفان تو خطرے ناک آیا تھا، لگتا ہے کسی اور طرف چلا گیا”۔ احمر نے تو اس کی تائید کی کہ بچت ہو گئی۔ میں اس قضیہ پر خاموش ہی رہا، کہ معلومات کی کمی بھی غنیمت ہے۔ بے شک یاسین کا انتخاب لاجواب تھا، ریج وے پلازہ (Ridgeway Plaza) پہنچے تو دیکھنے میں ہی لطف آ گیا۔ قطار در قطار کئی بلاک ہیں اور ہر بلاک میں درجنوں دوکانیں۔ مجموعی طور پر ریج وے پلازہ میں 100 سے زائد حلال ریستوران ہیں، پاکستانی، بھارتی، عربی، چینی، ترک، افغانی، میکسیکن، افریکی، امریکی اور دیگر اقوام کے کھانے دستیاب ہیں۔ یہ فوڈ کورٹس شمالی امریکہ کا سب سے بڑا حلال فوڈ مرکز ہے اور اب دنیا بھر کے کھانے کا حب بن چکا۔ یہاں پاکستانی کھانوں کے کئی مشہور برانڈ موجود ہیں۔ کراچی کا معروف پکوان نہاری اِن۔۔کراچی کچن،۔۔۔فوڈ اسٹریٹ،۔۔لاہور چٹکھارہ،۔۔لاہوری فلیم اور کئی دیگر ریسٹورنٹ ہیں جہاں نہاری، کوئلہ کڑاہی، بیف بہاری کباب بریانی چکن تکہ سیخ کباب ملائی بوٹی، گولا گنڈا، پانی پوری، دودھ پتی چائے سمیت پاکستان کے تمام علاقوں کے روایتی کھانے دستیاب ہیں یہ فوڈ کورٹس کراچی کی طرح رات دیر تک کھلا رہتا ہے اور گاہکوں کا رش لگا رہتا ہے۔ تاہم کراچی کی طرح سروس روڑ اور فٹ پاتھ گھیرنے کی یہاں اجازت نہیں، وقت برباد کرنا ہے یا پیسہ، آپ کو ریسٹورنٹ کے ہال میں ہی بیٹھنا پڑے گا چاہئے رات دیر تک ہی بیٹھے رہیں ۔ مرزا یاسین بیگ بھی ہمیں ایک ریسٹورنٹ کے ہال میں لے گیا جو پاکستانی نہیں عراقی تھا۔ عراقی ریسٹورنٹ کا پلیٹر پانچ افراد کے لیے کافی ہے، لیکن ہم تین ہی تھے، پاکستانی طریقہ کار کے مطابق بقیہ پیک کرایا گیا۔ بعد ازاں دودھ پتی کی خواہش پر کسی پاکستانی ریسٹورنٹ کی تلاش شروع کی گئی جس کی ذمہ داری یاسین بیگ نے احمر بشیر کو دی کہ یہ کام اب ہمارا نہیں نوجوانوں کا بے۔ انٹرنیٹ پر تلاش کیا گیا تو معلوم ہوا ویج وے پلازہ میں چائے کے ایک نہیں کئی ریسٹورنٹ ہیں۔ ہم کھانے کے بعد چند قدم چہل قدمی کی غرض سے دو گلیاں دور کا انتخاب کیا۔ نہاری ان پر چائے بھی بہت اچھی ہے اور کراچی کی نہاری بھی دستیاب ہے اور پان بھی، دیار غیر میں بلکہ دنیا کے آخری کونے میں اگر آپ کو برنس روڑ کی ساری سہولتیں مل جائیں سوائے کچرے اور بہتے سیوریج کے پانی کے تو پھر قیمت کا تذکرہ کرنا باجائز ہے، بحر اوقیانوس کے اس پار انٹارکٹکا کی برف پوش پہاڑوں کے دامن میں کوئٹہ وال سے اچھی چائے کے مزے اور یاسین بیگ کے شگوفوں نے آج کی شام کو سہانہ بنا لیا، نہار ان کے ہال بھر ہوا تھا، اس میں اب تعجب کی کوئی وجہ نہیں کہ گوریاں لائن میں لگ کر نہاری اور بریانی پارسل لے رہی تھی۔ کراچی بریانی کینیڈا میں اس قدر مشہور ہو چکی کہ چند دن قبل انتخابی مہم کے دوران کنزرویٹو پارٹی رہنماء کا ایک بیان شائع ہوا کہ میں ہفتہ میں چھ دن بریانی کھا سکتا ہوں۔ اد کا عملی مظاہرہ میں نے اس دن ریج وے پلازہ کے نہاری ان ریسٹورنٹ پر دیکھا کہ گورے بریانی پر کس قدر ٹوٹ رہے ہیں۔۔ ہال کے ٹیبل بھی گاہکوں سے بھرے ہوئے تھے اور ہر ٹیبل پر نہاری کی پلیٹ رکھی ہوئی تھیں۔ نہاری اِن سے باہر نکلے تو موسم پھر بدل چکا تھا۔ مغرب کا وقت ہونے کو تھا ہوائیں تیز اور جسم کو کاٹ رہی تھیں۔ جو لباس پہن رکھا تھا وہ ان ہواوں اور ان کے زور کے ساتھ آنے والی یخ پستگی کو روکنے کے لیے ناکافی تھی۔
“یہ سردیوں کا اداس موسم کہ دھڑکنیں برف ہو گئی ہیں۔۔۔
جب ان کی یخ بستگی پرکھنا تمازتیں بھی شمار کرنا ”
نوشی گیلانی کا شعر یاد آیا اور ساتھ ہی کراچی کی تمازتیں بھی اس موقع پر یاد آئیں تو ہمیں مسسی ساگا کے اپریل سے اپنے کراچی کا جون ہی اچھا لگا۔ پسینے آتے ہیں کپکپی تو نہیں طاری ہوتی۔ اطراف سے گزرنے والوں میں 90 فی صد لوگ اردو میں گفتگو کرتے گزر رہے تھے۔ ہم نے ہمت پکڑی کہ کوئی شناسا دیکھ رہا ہو اور تمسخر اڑائے کہ کراچی میں تو بڑے شیر بنے گھومتے ہیں یہاں مسسی ساگا میں آخری شب کے مسافر لگ رہے ہیں۔ اسی صورت حال میں ہم نے کچھ تصویریں بنائیں، جلدی جلدی گاڑی میں بیٹھے اور یاسین کے اسٹوڈیو کے لیے روانہ ہوئے جہاں کینیڈا ٹی وی ون پر یاسین نے ہمارا انٹرویو ریکارڈ کرنا تھا۔ اسٹوڈیو پہنچے عملے سے تعارف کے بعد یاسین بیگ نے انٹرویو شروع کیا اور بعد میں احمر بشیر خان کو بھی اس میں شامل کیا گیا۔ ایک گھنٹے کے انٹرویو میں میرے بچپن سے بڑھاپے، کے ایم سی سے کشمیر اور اسٹوڈنٹس ویلفیئر آرگنائزیشن سے آرٹس کونسل آف پاکستان، انتظامی خدمات سے، لکھنے پڑھنے تک مرزا یاسین بیگ نے اپنی براڈکاسٹک کی وسیع مہارت اور تجربے کی بنیاد پر سب کچھ اگلا دیا۔ اور وہ کچھ بھی جو پاکستان میں لوگوں کو نہیں معلوم کینیڈا ٹی وی ون کے ناظرین کو معلوم ہو جائے گا۔ یاسین کا شکریہ کہ ہماری درخواست پر ہلکا ہاتھ رکھا ورنہ یاسین بیگ کے براڈکاسٹک تجربے کے آگئیں ” کیا ہماری بساط اور ہم کیا” شکریہ یاسین آپ نے ہر لمحہ آداب میزبانی کا خیال رکھا، بعد ازاں کتابوں کا تبادلہ ہوا۔ یاسین بیگ نے اپنی شہرآفاق کتاب پارچے، اور دیسی لائف ان کینیڈا اور میں نے بلدیہ کراچی سال بہ سال اور کوہ قاف کی چوٹیاں یاسین کو پیش کئیں اسی اثناء رات دس بچ چکے تھے۔ جس معاشرے میں مغرب سے پہلے ڈنر ہوتا ہو وہاں بجے رات کا کون سا پہر تصور ہو گا اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔اور نیاگرا پہنچنے کے لیے ہمیں ابھی ایک ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت مذید طہ کرنی ہوگی۔ یاسین کو گھر چھوڑا۔ یاسین کے ساتھ چار گھنٹے کی یہ محفل خوشگوار یادوں کے ساتھ ختم ہوئی، اور ہم نیاگرا روانہ ہوئے۔