یکم مئی – عالمی یومِ مزدور پاکستان میں مزدوروں کے حقوق – جامع روزگار اب بھی ایک خواب


تحریر: عابد لاشاری
یکم مئی، عالمی یوم مزدور کے موقع پر ہم نہ صرف شکاگو تحریک میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے مزدوروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں بلکہ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پاکستان میں آج مزدوروں کی حالت کیا ہے۔
پاکستان میں اگرچہ مزدوروں کے حقوق کے قوانین موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد انتہائی کمزور ہے۔ کروڑوں مزدور آج بھی بغیر کسی معاہدے، کم از کم تنخواہ، یا سوشل سیکیورٹی کے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ غیر رسمی شعبہ ملک کی معیشت پر حاوی ہے، جہاں 70 فیصد سے زائد افراد قانونی تحفظ سے محروم ہیں۔
معذور افراد اور خواجہ سرا مزدوروں کی حالت اور بھی ابتر ہے۔ سندھ معذور افراد کو بااختیار بنانے کا قانون 2018 اور خواجہ سرا حقوق کا قانون 2018 کے باوجود، ان طبقات کی روزگار میں شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔
اس کے برعکس، جرمنی، سویڈن، اور کینیڈا جیسے ممالک جامع لیبر پالیسیوں کے ذریعے معذور اور پسماندہ افراد کو روزگار فراہم کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کی ’ہر فرد کے لیے باعزت روزگار‘ کی پالیسی پر پاکستان کو عملدرآمد کی ضرورت ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے قوانین پر عمل کریں، مانیٹرنگ اور احتساب کو بہتر بنائیں اور ہر شہری کو مساوی روزگار کا حق دیں۔ حکومتِ پاکستان، خاص طور پر حکومت سندھ سے اپیل ہے کہ وہ معذور افراد اور خواجہ سرا برادری کے لیے باعزت اور مناسب روزگار کے مواقع فراہم کرے۔
آئیے اس یومِ مزدور کو نعرے بازی سے نکال کر حقیقی تبدیلی کا دن بنائیں۔