حیرت ہے، 21 ہزار سے زائد پاکستانی بیرونی ممالک کی جیلوں میں کیوں قیدہیں؟

حیرت ہے، 21 ہزار سے زائد پاکستانی بیرونی ممالک کی جیلوں میں کیوں قیدہیں؟
قصور وار ہماری ریاست ہے جو ملک میں جزا و سزا کے قانون پر عمل درآمد کرانے میں ناکام ہے۔
قانون کی خلاف ورزیوں پر سزا ملتی رہتی تولوگ مجرمانہ سوچ اور سرگرمیوں دور رہتے،مولانا بشیر فاروق قادری

کراچی(30 نومبر 2025) سیلانی کے بانی اور چیئرمین مولانا بشیر فاروق قادری نے سینیٹ میں پیش کی جانے والی اس رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 21 ہزار سے زائد پاکستانی بیرونی ممالک کی جیلوں میں قید ہیں اور متحدہ عرب امارات نے عام پاکستانیوں کے لیے ویزوں کا اجرا روک دیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ قصور وار ہماری ریاست ہے جو ملک میں جزا و سزا کے قانون پر عمل درآمد کرانے میں ناکام ہے۔قانون کی خلاف ورزیوں پر سزا ملتی رہتی تولوگ مجرمانہ سوچ اور سرگرمیوں دور رہتے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ریاست شروع دن سےملک میں جزا اورسزا کا نظام قائم کردیتی ،غریب اور امیر کے لیے یکساں قانون نافذ ہوتا،قانون کی خلاف ورزیوں ،جعلی دستاویزات کی تیاری کی روک تھام کی جاتی تولوگ نہ صرف مجرمانہ سوچ اور سرگرمیوں دور رہتے بلکہ صورتحال اس قدر گھمبیر نہ ہوتی اور 21 ہزار پاکستانی ہماری عزت داؤ پر نہ لگارہے ہوتے۔آج ان سزا یافتہ یا سزاوں کے منتظر پاکستانیوں کی وجہ سے متحدہ عرب امارات نے عام پاکستانیوں کے ویزوں پر پابندی لگادی ہے جس کی وجہ سے قانون پسند شہری اور پڑھے لکھے نوجوان امارات سمیت دیگر ممالک میں جاکر اپنا مستقبل بنانے کے لیے بے چین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ پاکستانی کن وجوہ کی بناء پر جیلوں میں قید ہیں اور کیا دیگر ممالک کے لوگوں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہورہا ہے ۔