
کسٹم عدالت نے ساؤتھ افریقہ سے 2 درجن سے زائد بندروں کی اسمگلنگ کے مقدمے میں وکیل صفائی اور تفتیشی افسر کی عدم حاضری پر سماعت ملتوی کردی۔ کراچی کی کسٹم عدالت کے روبرو ساؤتھ افریقہ سے 2 درجن سے زائد بندروں کی اسمگلنگ کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ملزمان کے وکیل اور تفتیشی آفسر عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ وکیل صفائی اور تفتیشی آفیسر کی عدم حاضری پر فاضل جج نے اظہار برہمی کیا۔ عدالت نے سماعت 19 مئی تک ملتوی کردی۔ کسٹم حکام نے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سے این او سی کی تصدیق کروائی جس پر یہ جعلی ثابت ہوئی۔ کسٹم حکام نے جعلی این او سی کی وجہ بندروں کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ خیال انٹرپرائز کمپننی کے 3 ملزمان کو مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تینوں ملزمان کی ضمانت منظور ہوچکی ہے۔
=================
ملیر کی مقامی عدالت نے نیشنل ہائی وے پر دھرنے کے دوران ذیشان اجمل آرائیں ایڈووکیٹ پر پولیس تشدد کرنے سے متعلق ایس ایس پی ملیر کاشف آفتاب عباسی سمیت دیگر کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر درخواستگزار کو بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دے دیا۔ مقامی عدالت کے روبرو نیشنل ہائی وے پر دھرنے کے دوران ذیشان اجمل آرائیں ایڈووکیٹ پر پولیس تشدد کرنے سے متعلق ایس ایس پی ملیر کاشف آفتاب عباسی،ایس ایچ او اسٹیل ٹاؤن علن عباسی، ایس ایچ او بن قاسم طاہر قادری کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ چند روز قبل کینالز کیخلاف نینشل ہائی وے پر وکلاء نے دھرنا دیا تھا۔ ایس ایچ او اسٹیل ٹاؤن و دیگر نے ذیشان اجمل آرائیں ایڈووکیٹ کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ایس ایس پی ملیر، ایس ایچ او اسٹیل ٹاؤن، ایس ایچ او بن قاسم و دیگر کیخلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ عدالت نے ایس ایچ او اسٹیل ٹاؤن کو درخواستگزار کو بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر قابل دست اندازی جرم بنتا ہے تو مقدمہ درج کیا جائے۔
==================
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی شاہد علی میمن نے سیلزمین سے سگریٹ کے دس پیکٹ اور کیش چھننے کے مقدمے میں ملزم کو 7 سال قید کی سزا سنادی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی شاہد علی میمن نے سیلزمین سے سگریٹ کے دس پیکٹ اور کیش چھننے کے مقدمے کا فیصلہ سنادیا۔ استغاثہ جرم ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزم محمد یاسین کو 7 سال قید کی سزا سنادی۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ان دنوں اسٹریٹ کرائم میں دن بدن اضافی ہوتا چلا جارہا ہے۔ کوئی شہری ان بے رحم ڈاکوؤں سے محفوظ نہیں ہے۔ اس صورتحال میں معمولی تضاد کی وجہ سے ملزم کو رعایت دینا معاشرے کے لیے بہتر نہیں ہے۔ اس طرح کے کریمنلز نے معاشرے میں دہشت پھیلائی ہوئی ہے۔ بہت سارے شہری اپنی قیمتی جانوں اور اشیاء سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ عدالت نے مقدمے کے اشتہاری ملزم امتیاز کا کیس داخل دفتر کردیا۔ استغاثہ کے مطابق سیلزمین 30 اپریل 2024 پرائیویٹ کمپنی کی گاڑی میں گلستان جوہر کے علاقے میں سگریٹ سپلائی کررہا۔ اچانک موٹر سائیکل سوار 2 ملزمان نے روک کر 10 پیکٹ سگریٹ اور 21 ہزار کیش چھین لیا تھا۔ ملزمان کیخلاف گلستاں جوہر تھانے میں مقدمہ درج گیا تھا۔
=================
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں غیر قانونی کال سینٹر چلانے کے مقدمے میں ایف آئی اے ایک بار پھر مصطفیٰ عامر قتل کے مرکزی ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ اور مجسٹریٹ کے فیصلے کیخلاف ڈسٹرکٹ کورٹ سے رجوع کرلیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے ملزم ارمغان کو جسمانی ریمانڈ پر دینے کی درخواست مسترد کردی تھی۔ ایف آئی اے نے ملزم ارمغان کے 14 روزہ جسمانی کی استدعا کی تھی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے فیصلے میں کہا تھا کہ ملزم پر 16 اپریل کو مقدمہ کیا گیا تھا۔ ملزم دوسرے مقدمات میں 24 اپریل تک ایف آئی اے کی تحویل میں تھا لیکن اس سے تفتیش نہیں کی گئی۔ اس میں تفتیشی افسر کی بدنیتی ظاہر ہورہی ہے۔ ملزم کی عدم موجودگی میں اسکا جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا۔ ایف آئی اے نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ ملزم کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔























