
کراچی30 نومبر ۔سندھ حکومت کے محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان کے زیرِ اہتمام سندھ یوتھ کلب گلستانِ جوہر میں جاری تین روزہ سندھ یوتھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فیسٹول کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا۔ اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی کمشنر کراچی سید حسن نقوی جبکہ سیکریٹری کھیل منور علی مہیسر بھی شریک تھے۔ کمشنر کراچی نے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا اور نوجوانوں سے معلومات حاصل کی۔ترجمان کا کہنا تھا کہ سندھ یوتھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فیسٹول میں 40 سے زائد سرکاری و نجی جامعات کے 70 سے زیادہ طلبہ نے اپنے سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی بھلائی سے متعلق منصوبے پیش کیے۔ نمائش میں ایک جدید اے آئی روبوٹ بھی سب کی توجہ کا مرکز رہا، جو اردو اور انگلش میں سوالات کے جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نوجوانوں نے بتایا کہ اس روبوٹ کی تیاری پر 7 سے 8 ماہ محنت کی گئی۔ ایونٹ میں نوجوانوں نے الیکٹرک سائیکل، کم لاگت گھر، اور ٹرانسجینڈر کمیونٹی کے لیے مخصوص رہائشی ماڈلز بھی پیش کیے، جنہیں شرکاء نے سراہا۔ ترجمان کے مطابق فیسٹول میں لاڑکانہ کے طلبہ نے کم خرچ میں پاکستان کا پہلا سولر ونڈ ٹربائن بھی پیش کیا، جو بیک وقت ہوا اور سورج سے بجلی پیدا کرتا ہے۔ اس کی تیاری پر تقریباً 50 ہزار روپے لاگت آئی اور یہ ایک گھر کے بنیادی برقی آلات چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے بہترین پروجیکٹس پیش کرنے والے طلبہ میں انعامات تقسیم کیے۔ ڈاؤ یونیورسٹی کے طلبہ نے پہلی پوزیشن حاصل کر کے ایک لاکھ روپے نقد انعام حاصل کیا،جبکہ جامعہ ضیاء الدین کے طلبہ نے دوسری پوزیشن لے کر 75 ہزار اور ہمدرد یونیورسٹی کے طلبہ نے تیسری پوزیشن حاصل کر کے 50 ہزار روپے نقد انعام وصول کیا۔ کمشنر کراچی نے پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے اضافی طور پر پچیس پچیس ہزار روپے انعام کا اعلان بھی کیا۔ کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ کھیل کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس نمائش کا انعقاد قابلِ ستائش قدم ہے۔ نوجوانوں نے جو پروجیکٹس تیار کیے ہیں وہ قومی، صنعتی اور ترقیاتی تقاضوں کے مطابق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور انہیں اپنی صلاحیتیں نکھارنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اسکولوں کے طلبہ کے لیے بھی اسی طرز کے پروگرام منعقد ہونے چاہئیں۔ سیکریٹری کھیل منور علی مہیسر نے کہا کہ وزیر کھیل سندھ سردار محمد بخش مہر کی ہدایت پر یہ فیسٹول پہلی بار سرکاری سطح پر منعقد کیا گیا ہے تاکہ نوجوانوں کے ٹیلنٹ کو سامنے لایا جائے اور صنعتکاروں کو دکھایا جائے کہ سندھ کے نوجوان کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں۔ ترجمان کے مطابق ایونٹ میں کتب میلہ، معلوماتی اسٹالز اور موسیقی سمیت مختلف سرگرمیاں بھی شامل تھیں، جبکہ صوبے بھر سے 1500 سے زائد طلبہ و طالبات نے فیسٹول میں شرکت کی. تقریب میں ڈائریکٹر کھیل اسد اسحاق،ڈپٹی ڈائریکٹر نوجوانان سید حبیب اللہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز رضوان احمد ملاح، معیز احمد سومرو، ڈی ایس اوز اسماعیل شاہ، محمد عثمان، شکیل احمد، سنی پرویز، حاجرا نواب اور مختلف جامعات کے پروفیسرز و اساتذہ نے بھی شرکت کی۔























