
برطانیہ کا ورک پرمٹ ویزا | لندن کی سائرہ کی کہانی | افتخار احمد عثمانی
آج کی کہانی ایک پاکستانی کی ہے جس کے پاس پنجاب میں ایک کھیت تھا، گھر، گاڑیاں اور کاروبار تھا جو اسے ہر مہینے 20 لاکھ روپے کی آمدنی دیتا تھا۔ اس پاکستانی کا نام جاوید تھا۔ جاوید کو برطانیہ جانے کا بہت شوق تھا۔ وہ شادی شدہ تھا اور اس کے دو بچے تھے۔ سترہ سال کی شادی کے بعد بھی لندن دیکھنے کی خواہش پوری نہ ہو سکی۔ جاوید نے وزٹ ویزا کے لیے درخواست دی لیکن لاکھوں روپے کے بینک بیلنس کے باوجود اسے ویزا نہیں ملا۔
پھر جاوید نے ایک پاکستانی سے 10 لاکھ روپے میں برطانیہ کا ورک پرمٹ ویزا خرید لیا۔ جب اس نے اپنی بیوی سے بات کی تو وہ جانے سے انکار کر گئی۔ جاوید کی بیوی کا نام سائرہ تھا۔ سائرہ نے کہا کہ “اللہ نے ہمیں سب کچھ دے رکھا ہے، ہمیں یہاں کیوں جانا چاہیے؟” لیکن جاوید اپنی ضد پر اڑا رہا۔ آخرکار سائرہ کو خاوند کی بات ماننی پڑی اور جاوید اپنی بیوی اور دو بیٹوں کے ساتھ لندن چلا گیا۔
لندن پہنچ کر حقیقت سامنے آئی
لندن پہنچنے کے بعد جاوید کو وہاں کی مشکلات کا پتہ چلا۔ پہلے سال تو وہ پاکستان سے لے گئے پیسے خرچ کرتا رہا، لیکن بعد میں اس نے سیکورٹی اور ڈیلیوری کا کام کر کے 11,500 پاؤنڈ ماہانہ کمانا شروع کیا۔ باقی اخراجات پورے کرنے کے لیے وہ ہر مہینے پاکستان سے 3,000 پاؤنڈ منگواتا تھا۔ بیوی کہتی تھی کہ “جب خرچہ پاکستان سے آ رہا ہے تو ہم یہاں کیوں رہ رہے ہیں؟” بیوی اور بیٹے وہاں خوش نہیں تھے، لیکن جاوید سب رشتہ داروں اور دوستوں کو بتاتا کہ “حالات بہت اچھے ہیں۔”
دو سال تک بیوی اور خاوند کے درمیان جھگڑے ہوتے رہے اور رشتہ خراب ہونے لگا۔ پھر ایک دن جاوید کو ایک ہوٹل میں مینیجر کی نوکری مل گئی۔ تنخواہ اچھی تھی۔ ہوٹل کی مالکن رخسانہ تھی، جو 40 سال سے زائد عمر کی خوبصورت اور طلاق یافتہ خاتون تھیں۔ جاوید کو یہ نوکری پسند آئی۔ وہ 4,000 پاؤنڈ کمانے لگا اور خوشی خوشی کام کرنے لگا۔
خاوند کا رویہ بیوی کے لیے پریشانی بن گیا
جاوید اکثر بیوی کے سامنے رخسانہ کا ذکر کرتا، جس سے سائرہ کو برا لگتا۔ ایک دن جب جاوید نے رخسانہ کے بارے میں بات کی تو سائرہ غصے میں آ گئی اور اس نے رخسانہ کو برا بھلا کہہ دیا۔ جاوید کو غصہ آیا اور اس نے بیوی کے منہ پر طمانچہ مار دیا۔
ایک ہفتے بعد جب جاوید رات کو ڈیوٹی سے واپس آیا تو گھر خالی تھا۔ دس گھنٹے کی تلاش کے بعد پتہ چلا کہ بیوی دونوں بیٹوں کے ساتھ پاکستان چلی گئی ہے۔ جاوید کو بہت غصہ آیا۔ اسے لگا کہ بیوی نے اسے دھوکہ دیا ہے۔ جب جاوید نے پاکستان میں اپنی بیوی سے رابطہ کیا تو سائرہ نے کہا:
“میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ تم رخسانہ سے شادی کر لو، مجھے چھوڑ دو۔”
رخسانہ سے تعلق اور پھر نئی مصیبت
جاوید کے دل میں بیوی کی یہ بات بیٹھ گئی اور وہ رخسانہ کو محبت کی نظر سے دیکھنے لگا۔ کچھ ہی دنوں میں جاوید رخسانہ کے عشق میں گرفتار ہو گیا۔ ایک دن جاوید کے والد نے پاکستان سے فون کیا اور بتایا کہ سائرہ نے طلاق کا نوٹس بھیج دیا ہے۔
جاوید پریشان ہوا اور اس نے رخسانہ سے بات کی۔ رخسانہ کو بھی ایک خاوند کی ضرورت تھی۔ دونوں کا رشتہ آگے بڑھا اور وہ ایک دوسرے کے قریب ہوتے چلے گئے۔
اب جاوید کا سوال: کیا کروں؟
کچھ عرصے بعد جاوید نے مجھے فون کیا اور پوری کہانی سنائی۔ اس نے پوچھا: “افتخار صاحب، اب میں کیا کروں؟ کیا میں سائرہ کو طلاق دے کر رخسانہ سے شادی کر لوں؟ یا پاکستان واپس چلا جاؤں؟”
میری نصیحت
میں نے جاوید کو مشورہ دیا کہ:
رخسانہ کا دل نہ توڑے، کیونکہ وہ بھی ایک مخلص عورت ہے۔
پاکستان واپس جائے اور سائرہ سے معافی مانگے۔
اگر سائرہ راضی نہ ہو تو پھر اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرے۔
برطانیہ کا ورک پرمٹ منسوخ کروا دے، کیونکہ وہاں اس کی زندگی خوشحال نہیں۔
کیا میرا یہ مشورہ درست ہے؟ آپ لوگ بھی اپنی رائے دیں۔
نوٹ: یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ “دوسروں کی زندگیوں کے پیچھے بھاگنے سے پہلے اپنی نعمتوں کی قدر کریں۔”























