چاند کی مٹی میں زنگ آلود لوہا، چینی سائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

چاند کی مٹی سے زنگ آلود لوہا دریافت ہو گیا ہے، چینی خلائی مشن کو چاند کے نمونوں میں آئرن آکسائیڈ ملا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی سائنس دانوں نے چاند کی مٹی کے نمونوں میں زنگ دریافت کر لیا ہے، جس سے چاند پر آکسیڈیشن کے نئے عمل کا انکشاف ہوا ہے، عام طور پر یہ آئرن آکسائیڈ صرف زمین پر بنتا ہے، جہاں پانی اور ہوا موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ مادے قدیم تباہ کن ٹکراؤ اور دھماکوں کے نتیجے میں بنے، جنھوں نے چاند کی سطح پر بڑے بڑے گڑھے تخلیق کیے، شدید حرارت اور توانائی نے مٹی میں آکسیڈیشن پیدا کی، جس کا براہ راست ثبوت پہلی بار سامنے آیا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے اس دریافت سے مزید راز کھل سکتے ہیں، مٹی کے نمونے چاند کے دور دراز حصے سے چانگ ای 6 مشن کے ذریعے لائے گئے تھے، جن میں سائنس دانوں کو ہیماٹائٹ اور میگھیماٹائٹ کے مائیکرو میٹر سائز کے کرسٹل ملے۔

اس دریافت سے متعلق مقالہ جریدے سائنس ایڈوانس کے تازہ شمارے میں شائع ہوا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ چاند پر نامعلوم آکسیڈیشن کا عمل ہوا ہے۔ اس سے طویل عرصے سے قائم یہ نظریہ چیلنج ہوا ہے کہ چاند کی سطح پر آکسیڈیشن بہت کم ہوتی ہے۔

یہ تحقیق شانڈونگ یونیورسٹی، چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف جیو کیمسٹری، اور یُننان یونیورسٹی نے کی۔ خیال رہے کہ زمین پر تو زنگ پانی اور آکسیجن کے ملنے سے بنتی ہے، لیکن چاند کو ہمیشہ سے ایسا مقام سمجھا جاتا رہا ہے جہاں آکسیڈیشن تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور ماحول انتہائی کم تفاعل والا ہے۔

چاند کے پچھلے نمونوں میں ہیماٹائٹ جیسے زیادہ آکسیڈ شدہ لوہے کے مرکبات کے شواہد نہیں ملے تھے۔ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ چاند پر بننے والا یہ ’’زنگ‘‘ دراصل بہت شدید ٹکراؤ کے اثرات سے پیدا ہوتا ہے۔ جب بڑے سیارچے چاند سے ٹکرائے تو عارضی طور پر ایسی گیسیں پیدا ہوئیں، جن میں آکسیجن کی مقدار بہت زیادہ تھی۔ اس شدید ماحول میں ٹرائلائٹ نامی معدنیات میں موجود لوہا آکسائڈ ہوا، سلفر خارج ہوا، اور 700 سے 1000 ڈگری سینٹی گریڈ کی حرارت پر بخارات کے ذریعے ہیماٹائٹ بنا۔

اس عمل کا ایک اہم نتیجہ مقناطیسی معدنیات (میگنیٹائٹ اور میگھیماٹائٹ) کا بننا ہے، جو ممکن ہے کہ SPA بیسن (چاند کے جنوبی قطب سے ایٹکن نامی خطّے تک پھیلا ہوا ایک نہایت وسیع اور گہرا گڑھا) کے گرد پائی جانے والی مقناطیسی بے قاعدگیوں کو پیدا کرنے والے معدنیاتی ذرائع ہوں۔ اس سے چاند کی مقناطیسی خصوصیات سے جڑا ایک پرانا معمہ حل ہوتا ہے، کیوں کہ ٹکراؤ سے ہونے والی اس آکسیڈیشن کے دوران بننے والے یہ درمیانی مادّے شاید بہت قدیم تصادمات کی مقناطیسی خصوصیات کو محفوظ رکھے ہوئے ہوں۔

محققین کے مطابق اس تحقیق نے چاند کی ارتقائی تاریخ کے بارے میں ہمارے علم میں اضافہ کیا ہے اور مستقبل کی چاند سے متعلق تحقیقات کے لیے ایک اہم سائنسی بنیاد فراہم کی ہے۔

چانگ ای 6 روبوٹک مشن، جو چاند کے دور دراز حصے سے نمونے لا کر دینے کی دنیا کی پہلی کوشش تھی، مئی 2024 میں صوبہ ہائنان کے وینچانگ اسپیس لانچ سینٹر سے روانہ ہوا۔ 53 دن کی پرواز اور مختلف مراحل کے بعد یہ مشن کامیابی سے مکمل ہوا اور چاند کے دور دراز حصے سے کل 1,935.3 گرام نمونے واپس لے آیا۔