
سچ تو یہ ہے ۔
بشیر سدوزئی
===========
سچ تو یہ ہے کہ ادب کی محفلیں شہر کی روح کو تازہ کرتی ہیں۔ لیکن کراچی ایک عرصے تک اس سے محروم رہا، جس کے باعث عشروں تک کراچی کی شامیں سونا سونا اور زندگی میں ویرانی طاری رہی، چند سال ہوئے کراچی کی تہذیبی زندگی اور روایات بحال ہونا شروع ہوئیں تو سیکڑوں ادیب و شاعر ہم میں موجود ہی نہیں رہے۔ اب مشاعرے بھی ہونے لگے ہیں اور تقریبات بھی۔ اسی حوالے کی کراچی پریس کلب میں معروف شاعر، نثرنگار اور کئی فنون کے حامل ادیب خالد معین کے ساتھ ایک ایسی ہی شام سجی جس میں شہر کے بڑے ادبی اور صحافتی نام شریک تھے۔ محفل کا رنگ کچھ ایسا تھا کہ کبھی شاعری گونجی، کبھی نثر کی تعریفیں کبھی خالد معین کی یادیں اٹھ کھڑی ہوئیں اور کبھی کراچی کے بدلتے ہوئے مزاج پر گفتگو ہوئی۔ جو خالد معین کا اسلوب بھی ہے۔ نامور صحافی اور شاعر پیرزادہ سلمان نے جو پروگرام کے میزبان تھے نے خالد معین اور ان کے فن کا تعارف کراتے ہوئے ان کی ایک نظم بھی سنائی۔ انہوں نے کہا کہ خالد کی شاعری میں وہ تہہ داری ہے جو شہر کی پرانی گلیوں اور اس کے ماضی کی چاپ لیے ہوئے ہے۔ ایک زمانہ ان کی نظموں میں سانس لیتا محسوس ہوتا ہے۔
انہوں نے خالد معین کی شاعری پر گفتگو کرنے کے لیے سب سے پہلےسید کاشف رضا کو دعوت دی، تو انہوں نے بتایا کہ خالد معین کی پانچ کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور ان کے پاس خود ان کی پانچوں کتابیں موجود ہیں ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ خالد معین نے پہلی کتاب 28 برس کی عمر میں شائع کی تھی اور پروفیسر سحر انصاری نے اس پر دیباچہ لکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خالد معین جوانی میں بھی اتنے پختہ شاعر تھے کی جن کی شاعری کی کتاب پر پروفیسر سحر انصاری جیسے نابغہ روزگار ادیب دیباچہ لکھتا ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ خالد معین کے ہاں محبت کی شاعری میں شدت، سچائی اور حقیقت پسندی ایک ساتھ جھلکتی ہے۔ خالد کے ہاں کراچی ایک پس منظر نہیں بلکہ ایک زندہ کردار ہے۔
سعید جان بلوچ کا نام مقررین کی فہرست میں تو شامل نہیں تھا، لیکن کراچی پریس کلب کا سنئیر ممبر اور خالد معین کے دوست کی حیثیت سے پیرزادہ سلمان نے ان کو بھی خطاب کی دعوت دی، سعید جان نے پرانی رفاقتیں یاد کرتے ہوئے کہا کہ پریس کلب کی بالائی منزل پر بیٹھنے والے دوستوں میں خالد کا شمار ہمیشہ ہوتا ہے۔ سعید جان بلوچ نے کہا کہ خالد معین پریس کلب کے ان موتبر ساتھیوں میں سے ایک ہیں جو شاعر بھی ہیں ادیب بھی اور صحافی بھی۔۔
پیرزادہ سلمان نے ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر کو خالد معین کی نثر پر گفتگو کی دعوت دینے سے پہلے کہا ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر بہت کم وقت میں بہترین نقاد کے طور پر سامنے آئی ہیں، آج وہ خالد معین کی نثر پر گفتگو کریں گی۔ ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر نے خالد معین کی تین نثری کتابوں پر سحر حاصل گفتگو کی، اعتراف کیا کہ خالد کی شاعری جتنی مضبوط ہے، ان کی نثر بھی اتنی ہی معتبر ہے۔ رفاقتیں کیا کیا میں وہ اپنے خاندان احباب اور دوستوں کے حوالے سے یادوں کو قلم بند کر کے ایک بڑا کام کیا، انہوں نے رفاقتیں کیا کیا، وفور اور جنگ کہانی پر الگ الگ طویل مضمون پڑا اور تینوں پر الگ الگ روشنی ڈالی، ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر کا کہنا تھا کہ خالد معینکا “اخلاقی آئینہ” شہر کو محض منظرنامہ بنا کر پیش نہیں کرتا بلکہ اس کے ذریعے انسانی ذہن، سماجی بُنت اور تہذیبی مزاج بھی سامنے آتا ہے۔ خالد معین نے بکھرے ہوئے نوٹس سے ایک پورا عہد، تین نسلوں اور بے شمار رفاقتوں کا نقشہ کھینچا ہے۔ ان کا ناول “وفور” محبت کا نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی تہہ داریوں کا ناول ہے۔ جب کہ جنگ کہانی ملازمت کے زمانے پر واقعات کی کہانی ہے جو بڑے سلیقے سے پیش کی گئی۔
کہنہ مشق صحافی اے ایچ خانزادہ نے کہا کہ خالد معین اس پریس کلب کا وہ رکن ہیں جنہوں نے کتاب دشمن زمانے میں بھی ادب سے رشتہ قائم رکھا۔ انہوں نے متعدد اصناف میں کام کیا، پانچ شعری مجموعے اور چار نثری کتابیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ محنت اور خلوص سے کی گئی تخلیق ہمیشہ راستہ بنا لیتی ہے۔
پریس کلب کے صدر فاصل جمیلی نے نوجوانی کی آوارگیوں کو یاد کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا کہ خالد میں حساسیت بھی ہے اور زندگی کے نشیب و فراز میں توازن قائم رکھنے کا ہنر بھی۔ ان کی رائے میں خالد نے اپنے تخلیقی جوہر کو جس طرح جلا بخشی ہے وہ کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔
جب خالد معین نے اظہارِ خیال کیا تو محفل میں ایک خوشگوار خاموشی چھا گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ زندگی میں ہی ان کے بارے میں اتنی محبت سے باتیں کی جا رہی ہیں، ورنہ ایسی باتیں اکثر تعزیتی محفلوں میں سنی جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب “جنگ کہانی” کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ روزنامہ جنگ میں کام کرتے ہوئے 50 سے زائد افراد کے ساتھ جو انٹرویو کے دوران تجربات ہوئے، وہ سب اس کتاب میں موجود ہیں۔ انہوں نے اپنا کلام بھی سنایا جسے خوب سراہا گیا۔
صدر محفل پروفیسر سحر انصاری کی گفتگو اس نشست کا اہم حصہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ خالد معین کو کئی فن آتے ہیں اور ان کے موضوعات زندگی کی گہری سطحوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ کبھی شخصیتیں، کبھی کتابیں، کبھی شہر کی ادبی محفلیں، ان کی تحریروں میں ہر طرف زندگی رواں دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خالد کا ناول “وفور” انہیں منٹو کی یاد دلاتا ہے۔ کراچی جیسے بڑے تجارتی و تہذیبی شہر کو لکھنے کے لیے ذہانت اور وسعتِ نظر چاہیے اور خالد یہ دونوں رکھتے ہیں۔
اس تقریب میں شہر کی نمایاں ادبی اور علمی شخصیات شریک تھیں جس کا اظہار پروفیسر سحر انصاری نے بھی کیا۔ تقریب میں یوں محسوس ہوا جیسے یہ شام خالد معین کے فن کا جشن بھی تھی اور کراچی کے ادبی سفر کا ایک روشن باب بھی۔ ایسی نشستیں یاد دلاتی ہیں کہ اس شہر میں لفظوں کی حرمت ابھی باقی ہے، اور ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اسے اپنی تحریر سے زندہ رکھتے ہیں۔























