ارمغان اور مصطفی کے درمیان جھگڑے کی وجہ بننے والی لڑکی کا پتہ چل گیا ، لڑکی بیرون ملک جا چکی ، گرفتاری کے لیے انٹرپول کی مدد درکار ہو سکتی ہے ،

ارمغان اور مصطفی کے درمیان جھگڑے کی وجہ بننے والی لڑکی کا پتہ چل گیا ، لڑکی بیرون ملک جا چکی ، گرفتاری کے لیے انٹرپول کی مدد درکار ہو سکتی ہے ، تفصیلات کے مطابق پولیس کو تفتیش کے دوران نئی معلومات ملی ہے اور اہم انکشافات ہوئے ہیں ارمغان اور مصطفی کے درمیان مزید پڑھیں

شیراز نے پوری واردات کا اعتراف کیا اور قتل کا بھی بتایا- ڈیفنس، 39 روز قبل اغوا نوجوان کی مبینہ لاش حب سے مل گئی، دوست نے جھگڑے پر قتل کیا

شیراز نے پوری واردات کا اعتراف کیا اور قتل کا بھی بتایا- ڈیفنس، 39 روز قبل اغوا نوجوان کی مبینہ لاش حب سے مل گئی، دوست نے جھگڑے پر قتل کیا شیراز نے پوری واردات کا اعتراف کیا اور قتل کا بھی بتایا- ڈیفنس، 39 روز قبل اغوا نوجوان کی مبینہ لاش حب سے مل مزید پڑھیں

گاڑی کی ڈگی کھولی تو مصطفیٰ زندہ تھا جس کے بعد ارمغان نے پیڑول چھڑکا اور لائڑ سے دور کھڑے رہ کر گاڑی کو آگ لگا دی۔

نیو ائیر پر منشیات کےپیسے پر لڑائی،لڑکی کا چکر بھی تھا مصطفیٰ قتل کیس میں مزید اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔قتل کی وجوہات میں مختلف باتیں سامنے آئی ہیں جس میں منشیات کے پیسے پر لڑائی ، نیو ائیر کے دوران دونوں میں جھگڑا اور کسی لڑکی کے معاملہ بھی جھگڑے کی وجہ بتائی جا مزید پڑھیں

لاش 12 جنوری کو سوختہ حالت میں حب کے علاقے میں گاڑی سے ملی جس کی تدفین 16 جنوری کو کر دی گئی تاہم حب پولیس کی جانب سے گاڑی کی معلومات تک حاصل نہیں کی گئیں

مصطفیٰ قتل کیس میں پولیس کی ناقص تفتیش پر کئی سوالات کھڑے ہوگئے۔ ڈیفنس سے ملزم ارمغان کی گرفتاری کے بعد 36 گھنٹے تک ملزم پولیس کی حراست میں رہا تاہم پولیس مغوی کو تلاش نہیں کر سکی ۔مغوی نوجوان کی لاش 12 جنوری کو سوختہ حالت میں حب کے علاقے میں گاڑی سے ملی مزید پڑھیں

ملزم ارمغان ڈارک ویب پر کام کرنے کے ساتھ منشیات کے دھندے میں بھی ملوث ہے‘ اسی وجہ سے اس کے پاس اتنا جدید اسلحہ اور سیکڑوں گولیاں موجود تھیں۔پولیس ذرائع

ملزم ارمغان کا تعلق قریشی برادری سے آبائی علاقہ رحیم یارخان کے قریب کراچی-ملزم ارمغان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ قریشی فیملی سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا آبائی تعلق رحیم یار خان کے قریبی علاقے سے ہے۔پولیس نے بتایا کہ ملزم ارمغان ڈارک ویب پر کام کرنے کے ساتھ منشیات مزید پڑھیں