عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پرسینیٹ میں پی ٹی آئی کا احتجاج:علیمہ کی عدالت میں درخواست
سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں کے معاملے پر پی ٹی آئی نے ایوان میں دوسر ے روز بھی شدید احتجاج کیا۔ اراکین کی تعداد کم ہونے پر کورم کی نشاندہی کی گئی۔ سینیٹ اجلاس کی صدارت چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے کی۔ وزیر پارلیمانی امور طارق فضل نے ایوان کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبریں مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ یہ جعلی اطلاعات بھارتی میڈیا کی جانب سے پھیلائی گئیں جبکہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں۔ا س دوران پی ٹی آئی اراکین نے شدید نعرے بازی اور شور شرابا شروع کر دیا۔ پی ٹی آئی کے اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے رہے اور ملاقات کر اؤ کے نعرے لگاتے رہے ۔ ایوان کا ماحول مسلسل شور شرابے کے باعث منڈی مچھلی کا منظر پیش کرتا رہا۔اپوزیشن کی فلک ناز کی طرف سے کورم کی نشاندہی کی گئی جس پر سینیٹ اجلاس نصف گھنٹے کے لیے معطل کر دیا گیا۔ آئین کی کتاب ڈیسکوں پر بجا کر احتجاج کیا جاتا رہا۔ وقفہ کے بعد وفاقی وزیر طارق فضل نے سینیٹ میں انکم ٹیکس آرڈیننس میں مزید ترمیم سے متعلق منی بل پیش کیا اور اراکین سے تجاویز بھی طلب کر لیں ۔ یہ منی بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ بل پر اراکین تجاویز یکم دسمبر تک پیش کریں گے ۔ فنانس کمیٹی اپنی تجاویز دس دن کے اندر ایوان میں پیش کرے گی، یہ تجاویز قومی اسمبلی کوبھجوائی جائیں گی۔وزیراعظم کے مشیر محمد علی نے نجکاری کمیشن آرڈیننس میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا جسے متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس پیر کی سہ پہر چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
اسلام آباد، راولپنڈی (اپنے نامہ نگارسے ، خبر نگار ،دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک )بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خاننے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے 24 مارچ کے حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر دائر توہین عدالت درخواست میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ، وفاقی سیکرٹری داخلہ و سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو فریق بناتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنے پر ذمہ داران کو توہین عدالت کی سزا دی جائے ۔ادھر عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔جس میں عمران خان کی صحت اور حفاظت پر شدید خدشات کا اظہار کیا گیا ہے ۔خط میں علیمہ خان نے کہا ہے کہ 4 نومبر کے بعد اہل خانہ کی عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ عمران خان سے اہل خانہ اور وکلا کی فوری ملاقات کرائی جائے ۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں عمران خان کی سکیورٹی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عمران خان کی حالت اور حراستی صورتحال پر وضاحت طلب کی جائے ۔
دوسری طرف گذشتہ روز پی ٹی آئی قیادت عدالتی حکم پر عمل درآمد کروانے کے لیے کوشاں رہی اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، علیمہ خان،وکیل علی بخاری اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل، وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان اور ایم این اے شاہد خٹک کے علاوہ دیگر رہنما اسلام آباد ہائی کورٹ آئے اور چیف جسٹس بلاک میں سیکرٹری آفس میں بیٹھے رہے ، پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے چیف جسٹس سے ملاقات کی کوشش بھی کی گئی لیکن چیف جسٹس سے ملاقات نہ ہو سکی۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملنے سے انکار کردیا،سہیل آفریدی نے کہا کہ آئندہ منگل کو ہائیکورٹ کے باہر بھی اور اڈیالہ جیل کے باہر بھی اکٹھے ہوں گے ۔بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا فیکٹری ناکہ اڈیالہ جیل پر پندرہ گھنٹے جاری رہنے والا دھرنا ختم کر دیا گیا۔
علیمہ خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کو اسطرح نہ دھکیلیں جہاں عوام کا غصہ کنٹرول میں نہ رہے ،چور ڈاکو کو اوپر بیٹھا دیا جائے تو انتشار ہوتا ہے ،حکمران انتشار چاہتے ہیں انکو شرم آنی چاہیے جو کہتے ہیں فاتحہ پڑھ لیں،اگر عمران خان کا بال بھی ٹوٹا تو پھر دیکھیں عوام انکا کیا حال کرے گی،فاتحہ والی بات کرنے والوں کو شرم نہیں آتی،بانی پی ٹی آئی کو کچھ ہوا تو اندرون و بیرون ملک یہ کہیں نہیں بچیں گے ،بیرون ملک پاکستانیوں کا بھی موڈ دیکھ لیں۔اڈیالہ جیل راولپنڈی کی بیرونی سکیو رٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا، فیصلہ امن و امان کی صورتحال اور متوقع خطرات کے پیش نظر کیا گیا، جیل کے راستوں پر پانچ پکٹس پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ۔اڈیالہ جیل کی بیرونی سکیورٹی کے لئے پولیس نفری داہگل ناکہ، گیٹ ون، گیٹ پانچ، فیکٹری ناکہ اور گورکھ پور پر تعینات ہو گی۔ بارہ تھانوں کے ایس ایچ اوز ،خواتین پولیس افسر، آر ایم پی فورس، سمیت سات سو سے زائد اہلکار و افسر تعینات ہونگے ۔
courtesy roznama dunya
https://www.youtube.com/@jeeveypak/shorts























