’’ہاں! کوئی ہے‘‘ کی تقریب رونمائی

’’ہاں! کوئی ہے‘‘ کی تقریب رونمائی
کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے زیر اہتمام کامران مغل کی نظموں پر مشتمل کتاب ’’ہاں! کوئی ہے‘‘ کی تقریب رونمائی بروز منگل اٹھارہ نومبر دوہزار پچیس کو منعقد ہوئی ۔ استاد الااساتذہ پروفیسر سحر انصاری نے تقریب کی صدارت فرمائی ۔ مہمان خصوصی میں سیئنیر بیوروکریٹ و معروف مزاح نگار وشاعر اصغر خان اور ملک کی معروف شاعرہ ریحانہ روحی شامل تھیں۔ مقررین میں خالد معین، ڈاکٹر عمیر احمد خان، غزالہ خالد، انجیلا ہمیش اور ویس ادیب انصاری شامل تھے ۔ پروفیسر سحرانصاری نے صدارتی خطاب میں کامران مغل کو کتاب کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا اردو میں نثری نظم / شاعری رد و قبول کے مراحل سے گزری اور اب بھی گزر رہی ہے لیکن اب نئی نسل میں اس کا تخلیقی عمل پھیل رہا ہے۔ کامران مغل ایک صحافی کی حیثیت سے اپنے اردگرد ماحول کو بڑی خوبصورتی سے نثری شاعری میں پیش کیا ہے۔ ایک ایسے دورمیں جب ہرطرف انسانیت سوز مظالم ہو رہے ہیں اور لکھنے والے بھی زیادہ تر بے سمتی کا شکار ہیں۔ کامران مغل کا یہ سماجی ومعاشرتی شعور اور انسان دوستی ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی حیثیت رکھتا ہے۔
دیگر مقررین نے بھی کامران مغل کی کاوش کو سہرا۔ معروف شاعرہ ریحانہ روحی نے کہا کہ کتاب ’’ہاں! کوئی ہے‘‘ آپ کو سوچنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ کامران مغل نے بڑی خوبصورتی سے معاشرے میں پھیلے ظلم کو ستم کو بیان کیا ہے۔ کتاب میں آپ کو رومانس بھی ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کامران نے پہلی نظم جب مجھے سنائی تو میں حیرت زدہ ہوگئی کہ اس خیال کو اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے ۔۔
معروف بیوروکریٹ و مزاح نگار اصغرخان نے کہا کہ وہ نثری نظم کو نظمیہ نثر کا درجہ دیتے ہیں لیکن کامران مغل نے کمال مہارت کے ساتھ اپنے اردگرد رونما ہونے والے واقعات کو عمدگی سے بیان کیا ہے۔ کامران انسان دوست ہونے کے ساتھ ساتھ عمدہ نظم گوہ شاعر بھی ہے۔
معروف شاعرومنصف خالد معین نے کامران مغل کو ہاں! کوئی ہے کہ مبارکباد پیش کی۔ کہا کامران مغل نے معاشرے کو ایک صحافی کی نظر سے دیکھا ہے۔ ڈاکٹر عمیر احمد خان نے ’’ہاں میں صحافی کو‘‘ کا کچھ حصہ پڑھ کر سنایا، غزالہ خالد، انجیلا ہمیش اور اویس ادیب انصاری نے بھی کامران مغل کی کاوش کا سراہا۔ کامران مغل نے تمام شرکا اور مقررین کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا اور اپنی نظمیں اور قطعات پڑھ کر سنائے۔
شرکا میں ملک کے معروف شاعر میر احمد نوید، عفت نوید، اے ایچ خانزادہ، ڈاکٹر تنویر انجم، معصوم رضوی (ڈائریکٹر نیوز) آج نیوز، معروف افسانہ نگار رحمان نشاط، زاہد حسین جوہری، صائمہ صمیم، ڈاکٹر ضیغم زمان، معروف افسانہ نگار نصیر سومرو، اویس ادیب انصاری، شگفتہ انصاری، شگفتہ فرحت، ، نسیم شاہ ایڈوکیٹ، شاعرہ شازیہ عالم شازی، معروف افسانہ نگار لبنی طاہر، شاہدہ محمود، عالیہ فیض، شاعرہ ہما اعظمی، ماجد، گل بانو، فائقہ ارم ارشد، سائرہ صدیقی، عالیہ زاہد بھٹی، صائمہ تبسم موہانی، زاہد بھٹی، جاوید حسین صدیقی، احمد امتیاز، فاروق عرشی، جمال مجیب، عابد احمد خان، غضنفر احمد، سعید احمد، اشرف بھٹی، ذوالفقار، محمد ظفران، ماہ روز (ٹیکنالوجی والی) اور زیشان العابدین شامل تھے ۔ الیان، ایان، ایمن زیست اور ایمان زیست نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔۔ پروگرام اپنے مقررہ وقت پر شروع نہ سکا جس کی وجہ سے کئی شرکا واپس جانے پر مجبور ہوئے۔ تقریب کی منتخب ناظمہ ماریہ مہ وش کے چچا کے انتقال کے باعث نظامت کے فرائض ماہ جبیں آصف کی سپرد کی گئیں لیکن وہ بھی تاخیر سے پہنچیں جس کی وجہ سے تقریب کا آغاز معروف لکھاری عالیہ زاہد بھٹی نے کیا۔ انہوں نے نظامت کے فرائض سنبھالے ہی تھے کہ ماہ جبیں آصف آ گئیں۔ مہانوں کو اسٹیج پر بلانے اور تلاوت قرآن کے بعد نظامت کے فرائض ماہ جبیں آصف نے بخوبی انجام دیئے۔۔
(کامران مغل)