سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں باضابطہ ملاقات

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں باضابطہ ملاقات

ولی عہد کے دورہ امریکہ سے اسٹرٹیجک شراکت داری
مضبوط ہوگی: سعودی کابینہ

ولی عہد کا دورۂ امریکہ دونوں ملکوں کے لیے سنگ میل ہے: امریکہ میں سعودی سفیر شہزادی ریما

ریاض : سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں باضابطہ ملاقات کی ہے۔
وائٹ ہاوس پہنچنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا خیرمقدم کیا، اس موقعے پر باضابطہ استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔امریکی لڑاکا طیاروں نے خیرمقدمی تقریب کے دوران وائٹ ہاؤس کے اوپر سے فلائی پاسٹ کیا۔طیاروں کا فلائی پاسٹ دونوں ملکوں کے درمیان اسٹرٹیجک تعلقات کی مضبوطی اور گہرائی کو ظاہر کرتا ہے
*******
دوسری جانب سعودی کابینہ نے کہا ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ امریکہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات اور مختلف شعبوں میں اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے کے لیے ہے۔ اس کے ساتھ ایک محفوظ اور مستحکم مشرق وسطی کے حوالے سے مشترکہ وژن کے حصول کی کوشش بھی جاری رکھنا ہے۔
خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیزکی زیر صدارت ریاض میں کابینہ کے اجلاس میں علاقائی و عالمی حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کابینہ کو گزشتہ دنوں سعودی عرب کی مختلف ملکوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت، ولی عہد کو کوریا اور ایران کے صدر کی جانب سے ارسال کیے گئے مکتوب کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
اجلاس نے خلیج تعاون کونسل کے وزرائے داخلہ کے 42 ویں اجلاس میں سعودی عرب کی علاقائی اور بین الاقوامی میٹنگوں میں کی جانے والی شرکت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔جس میں سلامتی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مربوط کارروائیوں کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا جوملکوں کے تحفظ اور خطے کی ترقی کے لیے معاون ثابت ہوں۔
*****
امریکہ میں سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان بن عبد العزیز نے کہا ہے کہ ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کا دورہ امریکہ دونوں ملکوں کے تعلقات کے لیے اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ’یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان ،اسٹریٹجک تعاون کے نئے اور وسیع افق کھولے گا

یہ تاریخی دورہ ریاض اور واشنگٹن کے درمیان گہری شراکت داری کا مظہر ہے اوراس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے اور سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کے نئے مرحلے کی جانب پیش قدمی کے لیے پُرعزم ہیں جس سے علاقائی اور عالمی استحکام کو تقویت ملے گی۔